سب محبتیں کھوکھلی نہیں - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

محبت بتدریج ابھرنے والا عمل ہے، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن یہ درجہ بدرجہ بڑھنا پہلی نظر کے بعد کا عمل ہے. پسندیدگی، انسیت، محبت، غیرموجودگی میں بےچینی، ساتھ میں سکون اور پھر اسٹیبیلیٹی stability کی خواہش، جو عموما شادی پر منتج ہوتی ہے، یا کبھی کبھی بریک اپ پر.

کو ایجوکیشن میں پڑھنے والی لڑکیاں اپنے سے بہتر معاشی حالات رکھنے والے سے محبت میں مبتلا ہوں، یہ ضروری نہیں. برابر یا کم تر معاشی اسٹیٹس بھی مشاہدے میں موجود ہیں، لیکن عموما توڑ وہ تعلق چڑھے جہاں کفو برابر تھا، یعنی تعلق معاشرتی طور پر بوجھ نہیں بنا.

میں مرد کی فطرت پر بات نہیں کرتی بحیثیت عورت صرف نسوانی جبلت کی عکاسی کی کوشش کروں گی.

عورت ابھی پالنے میں ہوتی ہے تو پرایا دھن کی لوری سننے لگتی ہے. ایک خوابوں کا شہزادہ خود بخود ذہن میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے. جیسے لوکی کی بیل اپنا قد نکالتی ہے ایسے ہی بچی جوان لڑکی میں ڈھل جاتی ہے. اس وقت میں بقول ایک مشہور مصنف کے، جوان لڑکی کی محبت سوڈے سے بھری بوتل کی مانند ہوتی ہے جو ابل پڑنے کو بے تاب ہوتی ہے. جہاں کوئی جوان نظر آیا سوڈے کی سطح پر بلبلے بنے مٹنے لگتے ہیں، چال لہرانے لگتی ہے اور آواز میں نغمگی در آتی ہے. اس سب کا تعلق ہرگز بھی لڑکے کے فنانشل اسٹیٹس سے نہیں ہوتا، بلکہ ہارمونز اس کا سبب ہیں.

اب جب خوابوں کے شہزادے کو چہرہ مل جاتا ہے، تب باقی عوامل پر غور کیا جاتا ہے. چھوٹی موٹی فرمائشیں اور تحائف کا تبادلہ، ماننا روٹھنا منانا، سب چلتا ہے. یہ ایک آنکھوں پر بندھی سنہری پٹی کا دور ہوتا ہے جس میں لڑکی کی عقل خوابوں کی وادی میں گھاس چرتے چرتے کہیں دور نکل جاتی ہے اور واپسی کا راستہ کھو بیٹھتی ہے. اس وقت میں اگر محبوب چاند تارے توڑ لانے کے دعوے کرتا ہے تو لڑکی اسے سچ ہی مانتی ہے. عموما ایسی لڑکی میں چھپی ایک ماں بھی اپنے محبوب پر اپنی بےلوث مامتا لٹا رہی ہوتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اور سناؤ! شادی کب کروا رہی ہو؟ - تحریم عظیم

پھر معاشرہ اٹھتا ہے، لڑکی کا رشتہ طے ہونے لگتا ہے، ایسے وقت میں محبت کی دلدل میں گوڈوں تک غرق لڑکی اپنے محبوب کو رشتہ لانے کو کہتی ہے، اس مقام پر محترم محبوب کے دعووں کی قلعی کھلتی ہے، سچا ہے تو والدین کو رشتہ طے کرنے کے لیے منانے کی سر توڑ کوشش کرے گا اور مفت بری کا شوقین ہے تو ٹال مٹول سے کام لے گا.

لڑکیاں فنانشل سیکیورٹی کے لیے لڑکے کا انتخاب عموما نہیں کرتیں بلکہ اپنے محبوب کے ساتھ تاعمر رہنے کے لیے شادی کا انتخاب کرتی ہیں. البتہ میچور اور پریکٹیکل سوچ رکھنے والی خواتین بےشک وہ کنواری ہوں یا طلاق یافتہ یا بیوہ ہوں، اپنے لیے ایسے مرد کو منتخب کرتی ہیں جن سے ان کی ذہنی ہم آہنگی ہو سکے، اور فنانشل سکیورٹی کو بھی مدنظر رکھتی ہیں، کیونکہ دنیا کے ہزار رنگوں کو موزوں رنگ میں ڈھالنے والا دنیاوی رنگ دولت کا ہے. یہ بات تو وہ بھی جان چکتی ہیں، صرف مرد و زن ہی نہیں دنیا کا ہر رشتہ پیسے کے زور پر اچھا یا برا بن سکتا ہے.

میرے ایک محترم زمانہ شناس پروفیسر کا قول ہے: فی زمانہ دنیا میں دو طاقتیں ہیں جنہیں لوگ مانتے ہیں. اللہ تعالٰی جو ہے لیکن نظر نہیں آتا اور دوسرا پیسہ جو ہے اور نظر بھی آتا ہے. اس کی طاقت کو سب سلام کرتے ہیں، اسے اپنے بس میں کر لو، پھر طاقت بھی تمہاری اور محبت بھی تمہاری.

عورت کی محبت میں پہلی اور بنیادی چیز اس کے اندر کی چھپی مامتا کا سکون ہے. وہ اپنے محبوب کی حفاظت کرتی ہے اس سے تحفظ مانگنے سے بھی پہلے. عورت مرد کو ہر جذبہ پہلے دیتی ہے، پھر اس جذبے کی اپنے محبوب سے طلبگار ہوتی ہے. حتی کہ اگر مرد بدل بھی جائے، ہری چگ ہو، تب بھی محبت کرنے والی وفادار عورت محبوب کی واپسی کا انتظار کرتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   فیاضیاں (6) - فیاض راجہ

ہاں! کبھی کبھی محبت کھو بھی جاتی ہے. مرد و زن یکسر اجنبی بھی بن جاتے ہیں. ایسی صورتحال میں سمجھوتہ ایکسپریس چلانی پڑتی ہے جس کے سوار بچے ہوتے ہیں. اگر عورت معاشی طور پر مضبوط بھی ہو، تب بھی اپنے بچوں کی کلکاریاں بچانے کے لیے یہ سمجھوتہ کرتی ہے، بس محبت کا رخ تبدیل ہو کر محبوب کی اولاد پر مرتکز ہو جاتا ہے. ایسا تب بھی وہ اپنی فنانشل سیکورٹی کے لیے نہیں کرتی، اپنے بچوں کی زندگی اور تربیت کے لیے کرتی ہے. یہ فیکٹر بھی اس کے زیرغور ہوتا ہے کہ معاشرہ مطلقہ کو کیا مقام دیتا ہے اور مطلقہ کے بچے کیا کچھ برداشت کرتے ہیں. لیکن ایسی مضبوط عورت کی محبت کھو بیٹھنا ایک مرد کا سب سے عظیم نقصان ہے اگر وہ سمجھ سکے تو. پیسہ اہم ہے، بہت اہم لیکن عورت کی محبت کی صرف یہی بنیاد نہیں.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں