ریاست اور مذہب کا تعلق، حقیقت کیا ہے؟ محمد اشفاق

ریاست اور مذہب کے باہمی تعلق پہ بحث چلتی رہنی چاہیے. میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کو من حیث القوم کسی خطہ ارضی پر اقتدار حاصل ہو جائے تو وہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ان پر واجب ہو جاتا ہے. جہاں تک یورپ کا معاملہ ہے میرے خیال سے یورپ نے چرچ اور بادشاہت کے ناپاک اشتراک کے ہاتھوں جو کچھ سہہ رکھا ہے، کسی برے سے برے مسلمان حکمران نے اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں کیا. ہمارے ہاں پوری اسلامی تاریخ میں اگر ’’ملا‘‘ کو کبھی اقتدار ملا ہے تو وہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر سا دور ہے یا پھر سعودیہ میں وہابیوں اور ایران میں شیعوں کا موجودہ نظام حکومت، جسے زیادہ سے زیادہ شریعت کے ساتھ ایک marriage of convenience ہی کہا جا سکتا ہے، البتہ حیرت انگیز طور پر سیکولر سے سیکولر مسلم حکمران کے دور میں بھی اسلامی شریعت ہی بنیادی قوانین کا ماخذ رہی ہے، شاید مغلوں سے بڑی سیکولر ڈائنیسٹی مسلمانوں میں مشکل ہی سے کوئی اور ہو، مگر مہابلی اکبرِاعظم تک کے دور میں بھی قوانین فقہ حنفیہ ہی کے نافذ رہے ہیں.

اس سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسلمان اپنے مذہب کو بہرحال محض چند عبادات و رسومات کا مجموعہ نہیں سمجھتے. جب ہم اخلاقی طور پر اپنا موازنہ یورپ کی سیکولر اقوام سے کر رہے ہوتے ہیں تو شاید یہ بھی غلط ہوتا ہے کیونکہ ہمارا موازنہ اپنے ساتھ آزاد ہونے والی سیکولر ریاستوں سے بنتا ہے، مثلا بھارت ایک سیکولر جمہوریہ ہے اور بنگلہ دیش بھی، چین کا نظام حکومت بالکل مختلف ہے مگر اصلا کمیونسٹ سیکولر ہی نہیں بلکہ اینٹی ریلیجن ہیں، یہ وہ اقوام ہیں جن سے ہمارا اخلاقی میدان میں موازنہ بطور ایک ریاست اور قوم کے بنتا ہے اور مجھے جوہری طور پر ان میں اور اپنے آپ میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا. یورپ کی نام نہاد اعلیٰ اخلاقی اقدار کے پیچھے سرمایہ دارانہ نظام کی ضرورتیں، مجبوریاں، صنعتی انقلاب کے دنوں میں ہزاروں مزدوروں کی ڈیڑھ صدی کی جدوجہد، چرچ سے شعوری طور پر نجات حاصل کرنے کی کوشش میں ایک متوازی اخلاقی نظام کی ترویج وغیرہ شامل ہیں. اسے ارتقاء کہیے جس کے بہت سے مدارج سے ہم بطور مسلمان بھی اور بطور پاکستانی بھی محروم رہے ہیں. ہم اس دوڑ میں بہت بعد میں شامل ہوئے ہیں، بہت سے معاملات میں ہمیں یورپ سے پکی پکائی تازہ روٹی مل رہی ہے، بہت سے معاملات میں ہمارے پاس ان کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے مواقع موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر آور اور صحیح مؤقف - شبیر بونیری

جب ہم عمومی طور پر یورپ کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے پس منظر میں وہاں قانون کی بالادستی، انصاف کا بہتر نظام، گڈ گورننس، کوالٹی ایجوکیشن اور صحت تک سب کی یکساں رسائی کا نظام ہوا کرتا ہے. یورپ میں تعلیم بھی لیڈرز نہیں ورکر پیدا کرنے کے لیے دی جاتی ہے. اور اعلیٰ تعلیم یا یوں کہہ لیجیے کہ انٹلیکچوئل لیول ایجوکیشن وہاں پر بھی غیر معمولی امیر یا پھر غیرمعمولی ذہین افراد کا مقدر ہے، باقی سب اس نظام کی چکی گھمانے والے مشقتی ہیں.

یہ بحث علیحدہ ہے کہ روحانیت سے یکسر خالی، سو فیصد دنیاوی، سیاسی، معاشی و معاشرتی نظام انسان کو کتنا مادیت پسند بناتا ہے. مادیت پسندی سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادی ضرورت ہے، یہ ہوگی تو نت نئی پراڈکٹس اور سروسز کو صارف ملیں گے، اس لیے اس مادیت پرستی کو سسٹم ساری دنیا میں یکساں طور پر پروان چڑھا رہا ہے، کیا یورپ، کیا امریکا، اور کیا ایشیا.

تعلیم، صحت اور انصاف کی یکساں سہولیات کی فراہمی، ایک ذمہ دار اور جوابدہ حکومت کے قیام اور قانون کی بالادستی میں اسلام کس طرح سے رکاوٹ بنتا ہے؟ یہ میں آج تک نہیں سمجھ پایا. ہمارے ہاں مغلوں کا ساڑھے تین سو سالہ دور اورنگزیب کے پچاس سال نکال کر مکمل سیکولر رہا ہے، انگریزوں کا دو سو سالہ دور مکمل سیکولر تھا، ہمیں ایک مذہبی ریاست بنے تو بمشکل ستر سال بھی نہیں ہوئے، اگر پانچ سو سال سیکولر رہ کر بھی ہم میں سے وہ اخلاقی خرابیاں دور نہ ہو سکیں جو ہم آج گنواتے ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آج اگر ہم سیکولر ہو جائیں تو اچانک فرشتے بن جائیں گے۔