ناگ سائیں (آخری قسط) - ریحان اصغر سید

‎ناگ سائیں کی آنکھیں بند تھیں اور پیشانی پر پیسنے کے قطرے چمک رہے تھے۔ وہ گرد و پیش سے مکمل بےنیاز نظر آتا تھا۔ اس سے چند فٹ دور کھڑے گن بردار پولیس والوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال سکیں۔ اگر نوکری کی مجبوری نہ ہوتی تو وہ کبھی ناگ سائیں کو گرفتار کرنے نہ آتے۔
’’خبردار، خبردار! کسی کو کاٹنا نہیں ہے۔ یہ بیچارے تو دیہاڑی دار لوگ ہیں۔ انھیں معاف کر دو۔‘‘
ناگ سائیں نے چونک کے آنکھیں کھولی، اس کا مخاطب وہ درجنوں صحرائی سانپ تھے جو اچانک ہی کہیں سے نمودار ہوئے تھے اور انھوں نے ایک ایک پولیس والے کو فرداً فرداً گھیر لیا تھا۔ پولیس والوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ چکے تھے۔ وہ خوفزدہ نظروں سے اپنے اردگرد موجود پھنکارتے سانپوں کو دیکھ رہے تھے۔
’’مجھے معاف کر دو ناگ سائیں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تمھیں ناگ دیوتا کا واسطہ۔ میں یہ نوکری چھوڑ دوں گا۔ اپنے گاؤں واپس چلا جاؤں گا۔ مجھے معاف کر دو۔‘‘
ناگ سائیں کے سامنے موجود ایک پولیس والے نے خوف کی شدت سے بےقابو ہو کر دونوں ہاتھ معافی کے انداز میں جوڑ دیے۔ باقی پولیس والوں کے رنگ بھی فق تھے، انھیں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی موت ناچتی نظر آ رہی تھی۔ بانڈھی اور اس کے ساتھیوں نے کھڑے ہو کے اپنی بندوقیں دوبارہ سنبھال لی تھیں اور اب حکم طلب نظروں سے ناگ سائیں کو دیکھ رہے تھے، جو ساری دنیا سے لاتعلق کرسی پر نیم دراز آسمان کے تارے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنی عنیک اتار دی تھی۔ اس کی آنکھیں کسی سانپ کی آنکھوں کی طرح ساکت اور پلکوں کے بغیر تھیں۔ بابر علی نے ناگ سائیں کی آنکھیں دیکھیں اور خوف سے منہ پھیر لیا۔

کچھ دیر بعد ناگ سائیں بابر علی کی طرف متوجہ ہوا۔
’’آپ ان پولیس والوں کے ساتھ شہر چلے جائیے گا، اگر آپ یہ مناسب نہیں سمجھتے تو ہمارے ساتھ چلیے۔ ہم آپ کو شہر کے قریب سڑک پر اتار دیں گے۔ آپ وہاں سے پیدل بھی شہر جا سکیں گے۔‘‘
ناگ سائیں نے اپنی عینک آنکھوں پر لگاتے ہوئے کہا۔
’’میں آپ کے ساتھ جاؤں گا سائیں۔‘‘ بابر علی نے ریت سے اٹھتے ہوئے کہا
بانڈھی سامان گاڑی میں رکھو، اور نکلنے کی تیاری کرو۔
ناگ سائیں کرسی سے کھڑا ہو گیا۔ بانڈھی ٓاور اس کے ساتھی فوراً سامان سمیٹنے میں مشغول ہو گئے۔

ناگ سائیں نے پولیس پارٹی کے انچارج کو اپنی طرف بلایا، اور اس سے نرمی سے باتیں کرنے لگا۔ ابھی تک صحرا کے ریکٹل سنیک اسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہ اتنی تابعداری سے ناگ سائیں کی بات سن رہا تھا جیسے ہر مہینے اسی سے تنخواہ لیتا ہے۔ ناگ سائیں نے اسے حکم دیا کہ وہ ایس پی صاحب سے ملے اور انھیں سمجھائے کہ ضلع ناظم صاحب بالکل بے قصور ہیں، ان کو چھوڑ دیا جائے اور وہ ناگ سائیں کو گرفتار کرنے کا خیال دل سے نکال دیں۔ ناگ سائیں اس صحرا کا بادشاہ ہے، اور بادشاہ کبھی گرفتاری نہیں دے گا۔ ہمارے جانے کے کچھ دیر بعد یہ سانپ بھی یہاں سے چلے جائیں گے۔ پھر تمھیں بھی جانے کی اجازت ہوگی اور تم لوگ ہمارے مہمان ہو، جاتے ہوئے وہ بھنی ہوئی بھیڑ کھا کے جانا۔
ناگ سائیں نے انچارج کے کندھے پر الوداعی تھپکی دی۔
’’سانپوں کو ہٹا لیں سائیں، جوانوں کی خوف سے جان نکل رہی ہے۔ ہم کچھ دیر کے بجائے صبح چلے جائیں گے۔‘‘
انچارج نے ہاتھ جوڑ کے کہا، لیکن ناگ سائیں نے اس کی بات ان سنی کر دی۔ کچھ دیر بعد ناگ سائیں اور اس کے ساتھی دو جیپوں پر وہاں سے روانہ ہوئے۔ وہ پولیس کی گاڑیوں کے پاس رکے۔ بانڈھی نے ان کی گاڑیوں کے سارے ٹائر ہوا نکال کے فلیٹ کر دیے ۔ ناگ سائیں اپنی صحرائی جیپ کی ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھا تھا، اس کے ساتھ والی نشست پر بابر علی موجود تھا۔

’’یہ کیا تھا سائیں؟ مطلب یہ سانپ؟ کیا سانپ انسان کی بولی سمجھتے ہیں؟ سانپ وہاں اچانک کیسے آ گئے؟ یا وہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھے، یا یہ سارا ارتکاز کا معاملہ ہے؟‘‘ بابر علی نے ناگ سائیں پر سوالوں کی بوچھاڑ کر رکھی تھی۔
ناگ سائیں نے بابر علی کے سوالوں کو نظرانداز کر دیا اور خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔
’’یا ہو سکتا ہے کہ یہ سانپ نظر کا دھوکا ہو۔ آپ نے ہم سب کی نظر بندی کر دی ہو۔ دراصل وہاں پر کوئی سانپ نہیں تھا۔ لیکن ہم کو یوں نظرآ رہا تھا کہ وہاں ہر طرف سانپ ہی سانپ ہیں۔ ایم ائی رائٹ؟‘‘
آپ کو کہاں اتاروں؟
جہاں آپ اتریں گے!
کیا مطلب؟
میں آپ کے ساتھ جاؤں گا سائیں۔ آپ نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے۔ آپ جیسا شخص تو میں نے آج تک نہیں دیکھا، اگر آپ کو شخص کہا جا سکے۔
بابر صاحب آپ میچور آدمی ہیں۔ مجھے آپ سے اس رویے کی توقع نہیں تھی۔
اس دفعہ ناگ سائیں کے لہجے میں بیگانگی تھی۔
میں آپ کے کام آ سکتا ہوں سائیں۔
مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
صورتحال بدل گئی ہے سائیں۔ آپ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے آج کے گڈ جیسچر کے بعد پولیس آپ کی جان چھوڑ دے گی تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ آپ کی آزادانہ نقل و حمل اب مزید ممکن نہیں رہےگی۔ آپ کو علاقوں میں فلاحی کاموں کو جاری رکھنے کے لیے کسی آدمی کی ضرورت ہوگی۔ میں یہ کام کر سکتا ہوں سائیں۔ آپ کا مشن جاری رہےگا۔ آپ پس منظر میں رہیےگا۔ سارا کام میں کروں گا۔
ناگ سائیں کے چہرے پر سوچ کے تاثرات ابھرے، وہ عنیک کے پیچھے سے ریت کو گھور رہا تھا۔
بانڈھی جیسے لوگ اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ آپ کو ایک پڑھے لکھے بےلوث آدمی کی ضرورت ہے، جو انسانیت کی خدمت کو عبادت سمجھ کر کرے۔ میں بھی آپ جیسا ہوں سائیں، دوسروں کے کام آنے والا۔ دوسروں کے دکھ درد سمجھنے والا۔ میں نے ساری عمر ان کرپٹ حکمرانوں اور افسروں کی کرپشن بےنقاب کرنے میں گزاری ہے جو غریبوں کا حق مارتے ہیں۔
آپ کی نوکری ہے بیوی بچے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟
لگتا تھا ناگ سائیں قائل ہو چکا ہے۔
میں شہر آتا جاتا رہوں گا۔ میری صحافیانہ حیثیت ہمارے بہت کام آئے گی۔ آپ ابھی میری حیثیت اور اثر و رسوخ سے آگاہ نہیں ہیں۔ وہ آپ کبھی اکیلے میں بیٹھ کے سنیں تو آپ کے گوش گزار کروں کہ آپ کا بھائی کیا چیز ہے اور کیا کر سکتا ہے۔
ناگ سائیں نے کوئی جواب دینے کے بجائے ڈیش بورڈ سے سگریٹ کی ڈبی اٹھائی اور دو سگریٹ سلگا کے ایک بابر علی کو پیش کیا۔ یہ اس کی طرف سے آمادگی کا اشارہ تھا ۔
.........................................
یوسف کا نام باقاعدہ ایف آئی آر میں درج نہیں تھا۔ اسے صرف شبہ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا۔ دوسرے دن حاجی رمضان کا بڑا بیٹا آفتاب اس سے ملنے تھانے آیا۔ وہ برانڈڈ سوٹ پہنے خوشبو میں نہایا ہوا حوالات کی سلاخوں کی دوسری جانب کھڑا تھا۔
’’میں چاہتا ہوں تم شہر چھوڑ دو۔ تم ماشاءاللہ اب جوان ہو، اپنی ذمہ داری اٹھا سکتے ہو۔ وہ شخص تو دنیا چھوڑ گیا جس کے تم پر بڑے احسان تھے۔ اب ہمیں کیا مجبوری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے پر مجبور رہیں۔‘‘
یہ بات مجھے یہاں بند کروائے بغیر بھی کی جا سکتی تھی۔ یوسف نے سوجی ہوئی آنکھوں سے اسے گھورا۔
ہاں کی تو جا سکتی تھی لیکن تب تمھیں شاید آسانی سے سمجھ نہ آتی۔ پچھلے چوبیس گھنٹے میں تمھیں یہ احساس تو ہو گیا ہوگا کہ تم ہمارے بغیر کتنے لاوارث ہو۔ خدا اس ملک میں کسی کو لاوارث نہ کرے۔ کتے سے بھی بدتر زندگی ہو جاتی ہے بندے کی۔
سیدھی بات کرو، کیا چاہتے ہو؟ ناگ سائیں نے بیزاری سے کہا۔
آفتاب کچھ دیر اپنی فرنچ کٹ داڑھی کھجاتا رہا۔ پھر بولا
’’بڑے میاں اپنی وصیت میں کافی مال چھوڑ گئے ہیں تمھارے نام پر، جس پر تمھارا کوئی حق نہیں ہے۔ دیکھو نا، پھوکٹ میں کافی عیاشی کر چکے ہو تم، اب اور کیا چاہتے ہو؟ تمھارا کون سا سگا تھا۔‘‘
کاغذات لا کے دستخط کروا لینا۔ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے۔ اور اب اپنی شکل گم کرو میرے سامنے سے۔
آفتاب کی باچھیں کھل گئیں۔ اسے امید نہیں تھی کہ معاملہ اتنی آسانی سے نمٹ جائے گا۔ اس نے یوسف کو حوالات سے نکلوایا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک یوسف شہر میں ہی رہا۔ پھر وہ لسبی لوٹ آیا۔ تیرو اور اس کی بیوی انتقال کر چکے تھے۔ ناگ سائیں لسبی آتے ہی بے دھڑک مندر چلا گیا۔ سانپوں سے اس کا تعلق کبھی بھی نہیں ٹوٹا تھا۔ شہر میں اس کے فلیٹ میں بھی ہر وقت سانپ بھرے رہتے، وہ جھنجلا کر انھیں ٹھوکریں مارتا، اٹھا کر تہہ خانے میں پھینک آتا، مگر صبح اٹھتا تو اس کا بستر پھر سانپوں سے بھرا ہوتا۔

یوسف اب دوبارہ ناگ سائیں تھا۔ ناگ سائیں کا زیادہ وقت مندر میں گزرتا۔ ناگ دیوتا کے مجسمے سے لپٹا رہنے والا بوڑھا کالا ناگ ہر وقت اس کے آگے پیچھے پھرتا۔ اور موقع ملتے ہی اس کی زبان پر ڈس لیتا۔ کالے ناگ کے ڈسنے سے ناگ سائیں کو کوئی درد تو نہیں ہوتا تھا لیکن اس سے اس کی پلکیں اور بھوئیں جڑ گئی تھیں اور آنکھیں پتھرانے لگی تھی۔ اب وہ رات میں بھی دیکھ سکتا تھا۔ ناگ سائیں کے جسم میں اتنی لچک پیدا ہو رہی تھیں کہ ایسا لگتا تھا کہ اس کے جسم کی ہڈیاں گھل گئی ہیں ۔ آنکھیں سانپوں کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناگ سائیں ہر وقت کالا چشمہ پہنے رکھتا۔ مندر میں اتنا سونا تھا کہ اسے روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ بانڈھی لسبی میں رہنے والا اس کا بچپن کا دوست تھا۔ ناگ سائیں نے اب اپنی توجہ فلاحی کاموں کی طرف موڑ دی تھی۔ ان دنوں صحرا کے باسی ایک خوفناک قحط سے گزر رہے تھے۔ ناگ سائیں نے قدیم سونے کے سکوں کا ایک تھال اُٹھایا اور سکوں کی پہچان مٹانے کے لیے انھیں پگھلا کے لوگوں میں بانٹ دیا۔ یہ ایک غلطی تھی۔ اس سے نہ صرف انتظامیہ چوکنا ہوئی بلکہ ناگ دیوتا کے پروہت بوڑھے ناگ سے بھی ناگ سائیں کے اختلافات کا آغاز ہوا۔ خزانے کے سانپوں کی مجلس شوریٰ کا اجلاس بوڑھے ناگ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مندر کا خزانہ ناگ دیوتا کی ملکیت ہے۔ ناگ سائیں اسے اپنی ذات پر تو خرچ کر سکتا ہے لیکن اسے یوں ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ وہ سارا خزانہ اُٹھا کے غریبوں میں بانٹ دے گا۔ ناگ سائیں کے پاس فیصلے کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن علاقے کے غریبوں کی حالت بھی اس سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔ اس لیے اس نے مجبوراً بنک اور غلے کے سرکاری گودام لوٹنے شروع کر دیے۔
.........................................
ناگ سائیں کی دونوں جیپیں جب لسبی میں داخل ہوئیں تو مشرق سے سورج طلوع ہو رہا تھا۔ بابر علی حیرت سے سفید ریت اور سفید ٹیلوں والے افسانوی شہرت کے حامل اس گاؤں کو دیکھ رہا تھا۔
’’اس دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو اس کے گاؤں کے رہائشی نہ ہونے کے باوجود یہاں قدم رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ آج تم بھی ان میں شامل ہو گئے ہو۔‘‘
ناگ سائیں نے بابر علی کو بتایا اور اپنا لاکٹ اتار کے اسے دیا۔
اسے پہن لو۔ سانپ تمھارے نزدیک نہیں آئیں گے۔
بابر علی کو ایک جھونپڑی میں لے جایا گیا جہاں اسے پراٹھے اور دہی کا ناشتہ پیش کیا گیا۔
’’ناگ سائیں کہاں ہیں؟‘‘ بابر علی نے اپنے میزبان سے پوچھا۔
’’وہ مندر میں چلے گئے ہیں۔‘‘ میزبان نے مقامی لہجے میں جواب دیا۔
’’میں بھی مندر جانا چاہتا ہوں۔‘‘ بابر علی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’ناگ سائیں کے علاوہ کوئی مندر نہیں جا سکتا۔ نیچے بیٹھ جاؤ، اور جھونپڑی سے باہر نکلنے کی غلطی مت کرنا۔‘‘
بابر علی بے بسی سے بیٹھ گیا۔ جھونپڑی کے باہر کئی جگہ پر سانپ آتے جاتے نظر آ رہے تھے۔ بابر علی کو لگ رہا تھا کہ وہ کسی اور سیارے پر آ گیا ہے۔ ناگ سائیں کے بارے میں سوچتے ہوئے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔ بابر کی ناگ سائیں کے ساتھ دوبارہ ملاقات سہ پہر کو ہوئی۔
’’مجھے مندر دیکھنا ہے۔‘‘ بابر علی نے چھوٹتے ہی ناگ سائیں سے فرمائش کی۔
’’مندر میں میرے علاوہ کسی انسان کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘
’’ جب سانپوں کا دیوتا میرے ساتھ ہو تو مجھے کسی کی اجازت کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’میں سانپوں کا دیوتا نہیں ہوں۔‘‘
ناگ سائیں نے نرمی سے کہا۔ وہ بڑا بامروت اور خوش اخلاق انسان نظر آتا تھا۔
’’پھر بھی سارے سانپ آپ کا حکم مانتے ہیں۔ مجھے بڑی حسرت ہے ناگ دیوتا کا مندر دیکھنے کی۔ پتہ نہیں مجھے دوبارہ لسبی میں آنے کا موقع ملے نہ ملے۔ اگر آج یہ موقع ضائع ہو گیا تو میری ساری عمر پچھتاتے ہوئے گزرے گی۔‘‘
بابر علی نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ اس پر ناگ سائیں کے انکار کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا، وہ برابر منت سماجت کیے جا رہا تھا۔ آخر اس نے ناگ سائیں کو ہاں کہنے پر مجبور کر دیا۔
’’میں کل کوشش کروں گا آپ کو مندر لے جاؤں۔‘‘
’’ابھی کیوں نہیں؟‘‘
’’ابھی اندھیرا ہونے والا ہے، مندر میں روشنی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔‘‘

اگلی صبح ناگ سائیں حسب وعدہ بابر کو لیکر مندر کی طرف بڑھا۔ بابر بہت پرجوش ہو رہا تھا۔ ‎مندر ایک بہت بڑے سفید ٹیلے کے نیچے بنا ہوا تھا۔ باہر والی چٹان پر کسی غیر مانوس زبان میں کچھ لکھا تھا۔ بابر کا خیال تھا یہ سنسکرت ہے۔
‎یہ مندر کتنا قدیم ہے؟
‎بہت قدیم؟
‎یہ سنسکرت میں کیا لکھا ہے؟
‎خاموش رہو۔ زیادہ سوال نہ کرو۔ آگے سیڑھیاں ہیں۔ دھیان سے اترنا۔ مندر واقعی بہت قدیم لگ رہا تھا۔ بابر نے حیرت سے سیڑھیوں کی بہت بڑی بڑی اینٹوں کو دیکھا۔ اب وہ نیچے جا رہے تھے۔ اندر انتہائی ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف سانپ لہرا رہے تھے۔ ان کی پھنکاروں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔ مندر چھوٹا سا تھا۔ اس میں ایک بڑا ہال تھا جس کا فرش رنگ برنگے چھوٹے بڑے سانپوں سے بھرا ہوا تھا۔ دیوارں اور چھت پر بھی بہت سانپ چمٹے ہوئے تھے۔ ناگ سائیں لاپروائی سے سانپوں کو بوٹوں تلے کچلتا ہوا چل رہا تھا بابر ہاتھ پکڑے اس کے پیچھے تھا۔ ہال کے آگے دو چھوٹے کمرے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ مندر کے اوپر موجود ٹیلہ اور مندر ایک ہی دیو ہیکل چٹان کا حصہ ہیں۔ مندر کو زیرزمین چٹان کا پہلے سے کھوکھلے حصے کو کاٹ کر ہی بنایا گیا تھا۔ ایک کمرے میں ناگ دیوتا کی بوسیدہ سی لیکن بہت بڑی مورتی تھی۔ بوڑھا پروہت کالا ناگ مورتی کے گلے میں لٹکا ہوا تھا۔ مورتی کے آگے پڑے پیالوں میں رنگ برنگ سیال بھرے ہوئے تھے۔ ناگ دیوتا کی پوری مورتی سونے کے بھاری زیوارت سے لدی ہوئی تھی۔ اس کے گلے میں قیمتی پتھروں اور ہیروں کے مالا اور ہار تھے۔ بابر کو پل پل کیمرہ ساتھ نہ ہونے کا قلق کھائے جا رہا تھا۔ ناگ سائیں، بابر کو ساتھ والے دوسرے کمرے میں لے آیا جسے دیکھ کے بابر علی کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ یہ پورا کمرا سونے کے سکوں، زیوارت اور ہیروں جوہرات کے تھالوں اور مٹکوں سے بھرا ہوا تھا۔ بابر پھٹی پھٹی نظروں سے اس خزانے کو دیکھ رہا تھا۔ ناگ سائیں کے چہرے پر اس کی فطری بےنیازی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ناگ سائیں بابر کو لے کر واپس اس کی جھونپڑی میں چھوڑ گیا۔ بابر علی فرش پر گرا لمبے لمبے سانس لے رہا تھا، ابھی تک اس کے ہوش و ہواس مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے تھے۔

رات کے کھانے پر بابر کی ناگ سائیں سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ بابر نے ناگ سائیں سے پوچھا کے اب اس کا مستقبل کا کیا پروگرام ہے؟
‎اس بارے میں ابھی میں نے کچھ سوچا نہیں۔
‎ناگ سائیں نے سادگی سے کہا۔ وہ صحرا کی ٹھنڈی ریت پر تاروں کی روشنی میں بیٹھے تھے۔
‎ڈپٹی کمشنر بنگش کے خاندان کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ وہ آسانی سے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گے۔ بنگش کا تعلق جس قبیلے سے ہے، یہ لوگ قتل کا بدلہ کبھی معاف نہیں کرتے۔
‎وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
‎ناگ سائیں کے لہجے میں لاپروائی تھی۔
‎معذرت چاہتا ہوں سائیں، ٹیکنالوجی بہت ترقی کرگئی ہے۔ اگر سرکار نے آپ کو مارنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ سانپ آپ کو بچا نہیں سکتے۔ ٹینک کا ایک گولا، جنگی ہیلی کاپٹر کی مشین گن سے فائر کیا گیا، برسٹ، فائٹر یا ڈرون طیارے کا ایک میزائل آپ کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔
‎میرے منہ میں خاک، لیکن حکومت مجبور ہو کر انتہائی اقدام بھی اٹھا سکتی ہے۔
‎تم کیا چاہتے ہو، میں گرفتاری پیش کر دوں؟
‎نہیں۔ میرا یہ مطلب یا مقصد نہیں تھا۔ میں ان لوگوں کے بارے میں فکرمند ہوں جن کی امیدوں کا محور آپ ہیں، جھنیں زمین پر خدا کے بعد آپ کے علاوہ کسی سے کوئی توقع نہیں ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ کو مار دیا گیا تو ان کا کیا بنے گا؟
‎زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی مخلوق کے رزق کا ذمہ دار بھی وہی ہے۔ ہم کسی کو کیا دے سکتے ہیں۔ فقیرانہ آئے صدا کر چلے، میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے۔
‎بابر علی کو یہ کہتے ہوئے ریت پر لیٹا سگریٹ کے کش لیتا ناگ سائیں کوئی درویش لگا۔
‎پھر بھی سائیں، اللہ نے انسان کو جو عقل اور وسائل عطا کیے ہیں۔ ان کا مثبت اور بروقت استعمال بھی تو ضروری ہے، ورنہ آگے جا کے جواب دہی مشکل ہو جائے گی۔
‎ناگ سائیں چونک کے اٹھ بیٹھا۔
‎’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘
‎بابر علی جواب دینے سے پہلے کچھ جھجکا۔
‎’’سائیں! آپ نے کبھی سوچا کہ خدا نے سانپوں کو آپ کا مطیع کیوں بنایا ہے؟ مندر میں پڑا ہوا یہ خزانہ جس پر سانپ رینگتے رہتے ہیں۔ یہ صدیوں سے یہاں ایسے ہی پڑا ہے۔
‎کیا سانپوں کو اس کی کوئی حاجت ہے؟ یہاں بیش قیمت اور لامحدود خزانے پر سانپ بیٹھے ہیں اور آس پاس لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔‘‘
‎’’وہ خزانہ میرا نہیں ہے بابر، تم نہیں سمجھو گے۔‘‘ ناگ سائیں نے ریت میں سگریٹ مسلا۔
‎ناگ سائیں مجھے کہنے دو کہ تم بھی دراصل ایک ناگ ہو جو خزانے کی محبت میں مبتلا ہے۔ شہر کی تعلیم نے تمھارا کچھ بھی نہیں بگاڑا۔ تم ابھی بھی نرے جاہل ہو۔ناگ سائیں خدا نے یہ خزانہ تمھیں اس لیے عطا نہیں کیا کہ تم اس پر سانپ بن کے بیٹھ جاؤ۔ اپنے حالات زندگی پر نظر دوڑاؤ۔ اپنی پیدائش پر غور کرو۔ آخر تم انسانوں جیسے کیوں نہیں ہو۔ آخر سانپوں کو تم سے کیا نسبت ہے؟ دراصل قدرت تم سے ایک عظیم کام لینا چاہتی ہے، وہ تمھارے اور اس خزانے کے ذریعے صدیوں سے غربت کی چکی میں پستے اس خطے کی عوام کا مقدر بدلنا چاہتی ہے۔
‎یہ خزانہ انسانوں کا ہے اس پر انسانوں کا ہی حق ہے ناگ سائیں۔
‎جوش جذبات میں بابر علی کی آواز بلند ہو گئی، اس کا انداز جارحانہ تھا۔
خلاف توقع ناگ سائیں چپ چاپ اس کی جلی کٹی سنتا رہا اور خاموشی سے پڑا رہا۔ بابر علی جانتا تھا کہ خاموشی سے غور و فکر کرنا اس کی عادت ہے، وہ یقیناً کسی فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوگا۔
‎ناگ سائیں تمھارے پاس قیامت تک کا وقت نہیں ہے۔ حکومت فوج کو تمھاری موت کا پروانہ کب جاری کر دے کچھ خبر نہیں، تمھیں جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔
‎ناگ سائیں اٹھ کے بیٹھ گیا اور اپنی چپل پہننے لگا۔
‎تمھارے ذہن میں کیا پروگرام ہے بابر علی مجھے تفصیل سے بتاؤ۔
.........................................
‎ناگ سائیں بابر علی کو جھونپڑی میں چھوڑ کے خود مندر کی طرف جا رہا تھا۔ بابر علی کی باتوں نے ناگ سائیں کو قائل کر لیا تھا۔ بابر علی نے ناگ سائیں کو سمجھایا تھا کہ قدیم سکوں اور زیوارت کی قمیت ان کی اصلی شکل میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر ان چیزوں کو بیچ کے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں جس سے پورے علاقے کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔
ناگ سائیں نے بابر کو بتایا کہ اسے اب خزانہ باہر لانے کا اختیار نہیں ہے، کالا ناگ کبھی اس کی اجازت نہیں دے گا۔ وہ ایک ہی دفعہ میں جتنا مال لا سکا لے آئے گا، شاید دوبارہ اسے موقع نہ ملے۔
مندر میں جا کے ناگ سائیں ناگ دیوتا کی مورتی والے کمرے میں چلا گیا۔
‎’’میں چاہتا ہوں تم خزانے کی حفاظت پر مامور چھوٹے سانپوں سمیت مندر سے چلے جاؤ۔ آدھی رات سے پہلے کوئی یہاں نہیں لوٹے گا۔ مجھے ناگ دیوتا کے ساتھ تخلیے میں رہنے دو۔ آج محبوب کو محبوب کے ساتھ اکیلے میں چھوڑ دو۔‘‘
‎ناگ سائیں نے بوڑھے پروہت ناگ کو کہا۔
‎کالا ناگ مورتی کے گلے سے اتر کے ناگ سائیں کے گلے میں لیپٹ گیا۔ ناگ سائیں نے اپنی عنیک اتار دی۔ کالا ناگ کافی دیر اپنی برفیلی سرد آنکھوں سے ناگ سائیں کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ پھر اتر کے خزانے والے کمرے میں چلا گیا۔ دس منٹ میں سارا مندر سانپوں سے خالی ہو چکا تھا۔ ناگ سائیں نے ایک گہری سانس لی اور خزانے والے کمرے کی جانب بڑھا۔
‎بابر نے اسے بتایا تھا کہ اسے کیا کیا لے کر آنا ہے۔ ناگ سائیں اپنے ساتھ لائے ہوئے بہت بڑے بیگ میں خزانہ ڈالنے لگا۔ بیگ بھرتے ہی ناگ سائیں مندر سے نکل کر تیزی سے بابر کی جھونپڑی کی طرف بڑھا۔
‎’’یہ بیگ لے کر فوراً یہاں سے چلے جاؤ بابر۔ بانڈھی تمھیں شہر چھوڑ دے گا۔ تم وہاں سے بڑے شہر چلے جانا۔ اور ہر ممکن تیزی سے ان ہیرے جوہرات کے ساتھ یہ ملک چھوڑ دینا۔ بابر! یہ خزانہ اس صحرا کی عوام کی امانت ہے۔ اس کی پوری قیمت لے کر لوٹنا۔ اور اس خواب کی تعبیر پوری کرنا جو تم نے مجھے دکھایا ہے۔‘‘
‎’’میں پوری قیمت لے کر لوٹوں گا۔‘‘ بابر کافی جلدی میں لگتا تھا۔
‎’’مجھے دھوکا مت دینا بابر، میں رہوں یا نہ رہوں تمھیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔‘‘
‎’’میں اپنا وعدہ پورا کروں گا، تم نے ایک نسلی آدمی پر اعتماد کیا ہے۔‘‘

ناگ سائیں نے اسے گلے لگا کے انٹر کولر میں بٹھایا اور روانہ کر دیا۔ اس کے بعد ناگ سائیں نے اپنے آپ کو جھونپڑی میں بند کر لیا، وہ کچھ وقت اپنے ساتھ بتانا چاہتا تھا۔ آدھی رات کے بعد وہ مندر واپس لوٹا۔ سانپ واپس آ چکے تھے۔ کالا ناگ سخت اشتعال میں تھا۔ اس نے ناگ سائیں کی گردن سے لپٹ کے اس کی گردن کو بھینچا۔ اس کے منہ سے غضب ناک پھنکاریں برآمد ہو رہی تھیں۔ ناگ سائیں مکمل طور پر خاموش تھا۔ کچھ دیر میں وہاں خزانے کی حفاظت میں مامور پتلے پتلے سفید اور سبز سانپ بھی آ گئے۔ وہ اپنی زبان میں ناگ سائیں سے خزانے کے ایک حصے کی گمشدگی کے متعلق پوچھ رہے تھے، لیکن ناگ سائیں خاموش تھا۔ سانپوں کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ انھوں نے ناگ سائیں کو ڈنک مارنے شروع کر دیے۔ یہ دنیا کے زہریلے ترین سانپ تھے۔ ناگ سائیں کا رنگ فوراً نیلا پڑ گیا اور وہ زمین پر گر گیا۔ اس کی زبان پر کلمہ شہادت مچل رہا تھا۔ کچھ دیر میں ہی اس نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔
.........................................
‎ صرف برمودا شارٹس پہنے بابر علی ایک انتہائی پرتعیش لانچ میں موجود تھا، جو آسٹریلیا کے ایک ساحل کے قریب لنگر انداز تھی۔ بکنی میں ملبوس نصف درجن مقامی حسینوں کے جھرمٹ میں وہ بڑا مست لگ رہا تھا۔ ناگ سائیں اس کی توقع سے کہیں معصوم انسان ثابت ہوا تھا۔ مندر کا خزانہ دیکھتے ہی اس کی نیت خراب ہو گئی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے بعد ناگ سائیں کا کیا انجام ہوا اور نہ ہی اسے اس سے کوئی دلچسپی تھی۔ اپنے تعلقات کے استعمال اور بےدریغ پیسہ خرچنے کی بدولت وہ با آسانی خزانے سمیت ایک یورپی ملک میں بحفاظت پہنچنے میں کامیاب رہا تھا۔ یہاں اس نے ایک مڈل مین کے ذریعے انٹیق زیوارت کا ابھی صرف ایک حصہ بیچا تھا جس سے اسے لاکھوں ڈالر ملے تھے۔ تب سے وہ حاصل شدہ پیسے سے عیاشی میں مصروف تھا۔ لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ خزانے کی حفاظت پر مامور سانپ اور پروہت کوبرا نہ صرف اسے بخوبی دیکھ چکے ہیں بلکہ اس کے جسم کی بو بھی سونگھ چکے ہیں۔

‎ڈیک پر ہلا گلا کرتے ہوئے اسے اچانک یاد آیا کہ اس کا سیل فون نیچے بیڈروم میں ہی پڑا رہ گیا ہے۔ وہ ہونٹوں میں سگریٹ دبائے ایک ہاتھ میں مشروب مغرب کا جام تھامے انگلش میوزک پر تھرکتا ہوا سیڑھیاں اتر کے نیچے پہنچا تو اسے بیڈ پر بیٹھے انسانی انگلی جتنے موٹے تین انتہائی خوبصورت سفید سانپ نظر آئے۔ مندر پر خزانے کے اوپر بیٹھے سانپوں کو پہچاننے میں اسے کچھ لمحے لگے۔ وہ بوکھلا کے واپس مڑا لیکن پیر پھسلنے سے لکڑی کے فرش پر گر گیا۔ ان سانپوں کے لیے اتنی ہی مہلت کافی تھی۔

ختم شُد