اپنی دنیا آپ پیدا کر - فیضان رضا سید

جین کوم یوکرائن کے ایک گاؤں کے ایک غریب گھرانے پیدا ہوا۔ 16 سال کی عمر میں اس کا خاندان بے سرومانی کے عالم میں کیلی فورنیا منتقل ہوا۔ ایک عرصہ فلاحی مرکز کی طرف سے دی جانے والی امداد پر گزارا کیا۔ مرکز کی عمارت کے سامنے وہ گھنٹوں اپنے حصے کی خوراک پانے کے لیے انتظار کرتا، یہیں سے اس کی زندگی میں سب سے بڑا واقعہ جڑا تھا۔

مشکلات سے گزر کر وہ آخر کار مشہور ویب سائٹ "یاہو" میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پرسکون زندگی کا یہ مرحلہ بھی زیادہ عرصے نہ چل سکا اور ملازمت سے محروم ہوگیا۔ اب بے روزگاری کا دور اور بھی مشکل تھا لیکن وہ ذہنی طور پر مضبوط تھا۔ اس نے "فیس بک" اور "ٹوئٹر" کے دروازے بھی کھٹکھٹائے لیکن مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ یہی حالات دوست برائن ایکٹن کے بھی تھے، جو اس کے ساتھ یاہو نکالا اور فیس بک سے دھتکارا گیا تھا۔ تب دونوں دوستوں نے ذاتی سافٹ ویئر ڈیزائن کرنے کا سوچا۔ پھر جین کوم نے ایک روسی ڈیولپر برائن ایکٹن کے ساتھ مل کر واٹس ایپ ایپلی کیشن بنائی جو کچھ ہی عرصے میں دنیا بھر میں مقبول ہوگئی۔ 2009ء میں دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسیجنگ ایپلی کیشن بننے سے لے کر آج تک واٹس ایپ کی ترقی کا سفر جاری ہے۔

اس تیز رفتار ترقی نے فیس بک کے مالک مارک زکربرگ کو واٹس ایپ میں دلچسپی لینے پر مجبور کیا۔ فیس بک تب سوشل میڈیا کا عظیم ادارہ بن چکا تھا اور مارک ایسی ایپلی کیشنز خرید کر انہیں فیس بک متوازی چلانا چاہ رہا تھا۔ ایک بلین ڈالرز میں انسٹاگرام خریدنے کے بعد اس نے تاریخ کی سب سے بڑی خریداری کی۔ واٹس ایپ کو 19.3 بلین ڈالرز میں خرید لیا۔ 37 سالہ جین کوم نے اس تاریخی معاہدے پر دستخط کے لیے اپنی زندگی کے اہم ترین مقام کا انتخاب کیا، وہی فلاحی مرکز کی عمارت جس کے باہر وہ گھنٹوں قطار میں لگا رہتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارے شاہین ‎ - صائمہ وحید

2007ء سے 2014ء کے قلیل عرصے میں جین کوم دنیا بھر کے امیر ترین آدمیوں کی فہرست میں لے آیا۔آپ انہیں دنیا کے کامیاب ترین افراد میں شامل کر سکتے ہیں لیکن ذرا ٹھہریے۔ کہانی کو 'ریوائنڈ' کیجیے۔ اب ہم پھر سے 2007 ءمیں کھڑے ہیں جہاں جین کوم بے روزگاری کی اذیت کا سامنا کر رہا ہے۔ وہ قابل ہے لیکن کوئی نوکری نہیں دے رہا۔ وہ پریشان ضرور ہے لیکن کم ہمت نہیں، وہ سسٹم کو گالیاں بھی نہیں دے رہا، وہ نہ ڈپریشن کا شکار ہے اور نہ ہی خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے۔ وہ مایوس ہو کر جب واٹس ایپ بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے پاس کافی سرمایہ بھی نہیں۔ کئی سال واٹس ایپ کو جین کوم سمیت صرف چار لوگ چلاتے رہے۔ وہی ایپ جس کو 19.3بلین ڈالر میں فروخت کیا گیا تھا اس کی بنیاد میں محنت اور کچھ کرنے کی لگن تو تھی لیکن پیسہ کہیں نہیں تھا۔

اب ذرا فرق ملاحظہ کیجیے، ہمارے نوجوان گریجویٹ بے روزگاری کا ’تمغہ‘ تھامے سسٹم کو گالیاں دیتے نہیں تھکتے، یہ ان کے لیے سوچنے کا مقام ہے۔ ہو سکتا ہے وہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہوں، سسٹم کو گالیاں ضرور دیں لیکن اس لیے نہيں کہ وہ انہیں روزگار فراہم نہیں کر رہا بلکہ اس لیے کہ یہ سسٹم ان کو انجینئر، ڈاکٹر،وکیل یا کچھ اور نہیں بلکہ نوکر بنا رہا ہے۔

ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلا کام ’نوکری' کی تلاش کا کرتا ہے، ’’کچھ کرنے‘‘ کا نہیں۔ہمارے تعلیمی نظام کی تربیت میں یہ چیز شامل ہی نہیں ہے کہ آپ نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے، آپ نے نوکریاں پیدا کرنی ہیں، ڈھونڈنی نہیں۔ آپ نے کام تلاش کرنا ہے پیسہ نہیں۔ اسٹیو جابز نے بڑی خوبصورت بات کہی تھیکہ ’’ میرے لیے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہوں بلکہ یہ چیزاہم ہے کہ جب میں رات کو اپنے بستر پر جاؤں تو خود سے یہ کہہ سکوں میں نے بہت زبردست کام کیا۔‘‘ یہ وہ ہی اسٹیو جابز ہے جس نے ایک گیراج میں 'ایپل' کمپنی کھولی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمارے شاہین ‎ - صائمہ وحید

اس وقت پاکستان میں پڑھے لکھے 15 سے 20 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں، اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی حکومت ان سب کو روزگار نہیں دے سکتی۔ان میں سے کوئی بھی اس بات کے لیے تیار نہیں ہے کہ وہ پاکستان کو ایپل، فیس بک، واٹس ایپ یا مائیکروسافٹ جیسی کوئی چیز دے، البتہ اس بات کا علی الاعلان نعرہ ضرور ماردیں گے’’پاکستان میں رکھا کیا ہے؟ باہر نکلنے کی کوشش کرو‘‘ اور باہر ان کے لیے جو رکھا ہے وہ کتے نہلانے سے لے کر ذلت بھری مزدوری ہے، جسے یہ بہت فخر سے کرنے کے لیے تیار ہیں جبکہ پاکستان میں واقع ان کے ابا حضور بھی بھری محفل میں گردن اکڑا کر فرماتے ہیں ’’منڈا باہر ’سیٹ‘ ہے جی!‘‘۔

اسٹیو جابز نے کہا تھا کہ ’’آپ کے پاس بہت قلیل وقت ہے، اسے دوسروں کی زندگی جینے کے لیے ضائع مت کریں۔‘‘