پاکستان میں بچوں کے حقوق: موجودہ صورت حال - مفتاح الدین خلجی

پاکستان نے 1990ء میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (سی آر سی یا یو این سی آر سی) کی توثیق کی۔ جبکہ 2011ء میں بچوں کی خرید و فروخت، جنسی استحصال سے متعلقہ پروٹوکولز پر بھی دستخط کیے۔ سی آر سی یا یو این سی آرسی بنیادی طور پر بچوں کے حقوق کی تحفط کے حوالے سے ایک جامع اور مقبول دستاویز ہے۔اقوام متحدہ کے تقریبا سبھی ممبر ممالک نے (کچھ ممالک کی طرف سےکچھ تحفظات کے ساتھ) اس دستاویز کی توثیق کی ہے۔ اس دستاویز میں بچوں کے سیاسی،معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور تعلیم وصحت کے حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔جو ممالک اس دستاویز کی توثیق کرتے ہیں،بین الاقوامی قانون کے رو سے ان پر لازم ہوتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے بچوں کے مذکورہ تمام حقوق کا تحفظ کرے۔

اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی جو کہ ممبر ممالک سے منتخب کردہ نمائندگان پر مشتمل ہوتی ہے،ہر سال اس دستاویز پر عمل درآمد سے متعلق اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کو ایک رپورٹ پیش کرتی ہے۔پاکستان میں بھی اس کمیٹی کا وجود ہے جو کہ ایک ایسی رپورٹ پیش کرتی ہے۔لیکن اس کمیٹی کی آخری رپورٹ کچھ تسلی بخش نہیں۔حالانکہ پاکستان مقامی سطح پر تو قانون سازی بہت ہوئی، جسمیں صوبائی سطح پر بنائے گئے قوانین اور وفاقی قوانین شامل ہیں ان میں کئی ایکٹس (مجریے)، خاص طور پر قومی کمیشن برائے حقوق اطفال مجریہ 2015ء بچوں کے حقوق کے نفاذ کو یقینی بنانے سے متعلق ہے۔ان قوانین میں سے کچھ کا ذکراس لیے کیا جائے گا تا کہ واضح ہو کہ کس طرح قانون سازی کی بھر مار ہے، لیکن کئی وجوہات کے بنا پر عمل درآمد کرنے میں ناکامی سب کے سامنے ہے۔ان قوانین میں وفاقی سطح کے بنائے گئےمندرجہ ذیل قوانین شامل ہیں:

1۔فیمیل انفینٹی سائیڈ پریونشن ایکٹ،1870؛
2۔گارڈین اینڈ وارڈایکٹ،1890؛
3۔ریفارمیٹری سکول ایکٹ،1897؛
4۔چلڈرن میرج ریسٹرینٹ ایکٹ،1929؛
5۔چلڈرن (پلیجنگ آف لیبر) ایکٹ،1929؛
6۔دی ویسٹ پاکستان کنٹرول آف ارفنیجز ایکٹ،1959؛
7۔دی ویسٹ پاکستان ویکسینیشن آرڈینینس،1959؛
8۔جوینائل سموکنگ آرڈینینس،1959؛
9۔ویسٹ پاکستان پرائمری ایجوکیشن آرڈینینس،،1962؛
10۔ورکرز چلڈرن ایجوکیشن آرڈینینس،1976؛
11۔پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹٹیوشنز(پر وموشن اینڈریگولیشن)،1984؛
12۔دی امپلائمنٹ آپ چلڈرن ایکٹ، 1991؛
13۔جوینائل جسٹس سسٹم آرڈینینس،2000؛
14۔پروٹیکشن آف بریسٹ فیڈنگ اینڈ چائلڈ نیوٹریشن آرڈینینس،2002۔

یہ تو رہے وفاقی قوانین،جبکہ صوبائی قوانین ان سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔مقصود صرف یہ تھا کہ اتنے سارے قوانین ہیں، کیا ججز صاحبان کو ان سب کا پتہ ہے؟کیا وکلا ان سب سے واقف ہیں؟ کیا ان کا نفاذ صحیح موقع پر کیا جاتا ہے؟اور کیاظلم کے شکار بچوں کی والدین یا رشتہ دار محفوظ ہیں؟کیا ادارے ان کی مناسب معاونت کرتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو کہ جواب طلب ہیں۔

یہ امر قابل افسوس ہے کہ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا روزانہ کی بنیادوں پر بچوں کے حقوق کی پامالی کی رپورٹ کرتا ہے، جو عموماً ظلم، غیر انسانی رویے اور بربریت کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ اس کی علاوہ بچوں کی شادیاں کرانا، انہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم رکھنا،ان سے محنت اور مشقت کے کام لینا (جو کہ، دارالخلافہ اسلام آباد، راولپنڈی اور سبھی بڑے شہروں میں عموماً نظر آتا ہے ) اور بچیوں کو دشمنیوں میں دینا (ونی اور سوارہ جس کی مثال ہے) جیسے پامالیاں آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

بچوں کے حقوق کی پامالی کی اس ساری صورت حال میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نہ صرف عوام الناس بلکہ سرکاری ادارے بھی ان پامالیوں کے ذمہ دار ہیں اور اس کی دلیل وہ بہت ساری رپورٹس ہیں جو وقتاً فوقتاً ہماری نظروں سے گزرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق اطفال (یو این سی آر سی) کی طرف سے 2015ء میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990ء کے بعد گزشتہ پچیس سالوں میں بچوں کے حقوق کی کوئی واقعی بہتری نہیں آئی۔ جس کے نتیجے میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال مجریہ 2015ء کو پاس کرایا گیا تاکہ مملکت خداداد میں بچوں کے حقوق سے متعلق خصوصی قوانین کا نفاذ کیا جاسکے اور بچوں کی حالت زار میں بہتری آسکے۔ تاہم اب تک کوئی خاص تبدیلی اور بہتری کے آثار محسوس نہیں کیے گئے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ جو حقوق اسلام نے بچوں کو دیے ہیں یااقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال نے جس طریقے سے تمام ممبر ممالک کو ان حقوق، بشمول حق حیات، تحفظ،صحت، تعلیم وغیرہ کے نفاذ کو یقینی بنانے کا پابند بنایا ہے۔ اوریا پھر پاکستان میں وفاقی یا صوبائی سطح پربنائے گئے قانون سازی کے ذریعے بچوں کے حقوق کی جو ضمانت دی گئی ہے۔ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک پاکستان میں تمام ادارے نیک نیتی سے بچوں کی حالت زار پر رحم کھا کر آگے آئیں،یکساں اور جامع قوانین بنائے جائیں، عوام میں بچوں کے حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کی جائے۔ اور بچوں کے حقوق سے کھلواڑکرنے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔

پیاس ان کا،بھوک اور افلاس ان کا
مرجھا گئےآہ، پھول سا پیارے بچے
قتل ان کا،محنت ومشقت ان کا
جانوروں سے، کیابد تر ہیں یہ سارے بچے؟