پاپولزم اور بھٹو - شاہ برہمن

‏صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ سیاست کو تباہ کرنے کا ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ بھی کبھی نہیں بھولا جائے گا۔

‏‏یہ بیانیہ کہ بھٹو نے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر عوامی تھڑے، یعنی اشرافیہ سے نکال کر عوام تک، پہنچایا، انتہائی سیاسی مہلک بیانیہ ہے۔ ‏سیاست کو عوامی تھڑے تک لانے والی ذہنیت نے سیاست میں پاپولزم کو فروغ دیا ، جس میں سیاست گہری سیاسی و سماجی سوچ کے بجائے، چند پرکشش نعروں اور عوامی مطالبات کے گرد گھومتی ہے۔

‏اس پاپولزم والی سیاست سے سطحی سیاسی سوچ اور فہم والے لوگ ایوان اقتدار تک جا پہنچے۔ پاپولزم سیاست و اقتدار کو مالی و اختیاراتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کے خواہشمند کو ایوان اقتدار تک لاتی ہے۔ جب سیاست محض مالی و اختیاراتی مفاد تک محدود ہو جائے تو سماج میں ہر پہلو میں وہ خرابی پھیلتی ہے کہ راشن ڈپو کے پرمٹ سے لے کر ٹیکسٹائل کے کوٹے تک کے لیے ہر طرح کے نظریات و فکر کو ترویج دیتے ہیں۔

اس کا سب سے تباہ کن اثر ، عدلیہ کےادارے پر پڑتا ہے کہ سیاسی فکری بونے عدلیہ میں ایسے لوگ لگانا شروع ہوجاتے ہیں جو عدلیہ کو فراہمی انصاف اور معاشرے میں عدل و توازن مہیا کرنے کی بجائے محض نوکری کے طور پر ‏دیکھتے ہیں۔ کسی بھی دباؤ والی صورتحال جس میں اہل اقتدار کی زیادتیوں کو روکنے کی بات ہو، وہ انصاف کی بجائے اپنی نوکری بچانے‏ کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہم اکثر مغرب کی فکری ترقی اور سماجی تبدیلی کی مثالیں دیتے ہیں لیکن یہ نکتہ ہمیشہ نظرانداز کر جاتے ہیں کہ مغرب نے دوسری جنگ عظیم کے بعد خصوصاً بطور معاشرہ پاپولزم کو کبھی بھی اپنی سیاست میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔ معاشرے کی نوک پلک اور نظریاتی ‏بنیاد، اشرافیہ نے اپنے ہاتھوں میں رکھی اور معاشرے کو ایک خاص رفتار سے ہی آگے بڑھنے دیا۔ سماج میں تبدیلی کی رفتار اور عوامل کو ایک مخصوص حد تک رکھا اور اپنی سیاست میں ذاتی و مالی مفادات اور اختیارات کے بھوکے سیاستدانوں کوکبھی نہ گھسنے دیا ۔عدالتوں میں قانون کے پیشے سے منسلک اعلیٰ ترین دماغوں اور ذہین افراد کو لگایا اور ان کی مالی و حفاظتی ضرورتوں کا مکمل خیال رکھا تاکہ وہ کسی ‏دباؤ یا لالچ کا شکار نہ ہوں۔ ‏اس لیے مغرب کی مثالیں ہمارے معاشرے میں بالکل لاگو نہیں ہوتیں اور نہ ہی بطور مثال استعمال کرنی چاہئیں۔

‏پاکستان میں اسوقت جتنی بھی سیاست ہورہی ہے وہ پاپولزم کی سیاست ہے، فرق صرف اس میں شدت اور بلند آوازی ہے۔ ‏وہ میٹرو، پلوں اور موٹر وے کی سیاست ہو یا کرپشن کے خلاف نعرے بازی کی سیاست، غریب عوام ‏کو حقوق دینے کی سیاست ہو یا اقلیتوں کو برابری دینے کی سیاست، سب کی سب پاپولزم کی سیاست ہے اور اسی لیے ہمارا معاشرہ شدید ہیجان کا شکار ہے‏۔ سوچ بچار پر مبنی فکر و نظریات کی سیاست میں مسائل کا فوری حل نکالنے کی بات نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں پرکشش نعرے یا خواب دکھائے جاتے ہیں ‏تو اس میں سماج سدھار کے لیے وقت درکار ہوتا ہے لیکن اس کا حل پائیدار اور دیرپا ہوتا ہے۔

‏پاپولزم پر مبنی سیاست میں نعرے بازی اور خواب فروشی‏‏ کے نشہ آور ٹیکے لگا کرعوام کو مدہوش کرکے اقتدار میں پہنچنے کی بات ہوتی ہے۔ یوں سماج سدھار کی بجائے ہمیشہ فکری بونوں کا مالی سدھار ہی‏ ممکن ہوتا ہے اور معاشرے مسلسل ہیجان و افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔ بس ‏پاکستان میں پاپولزم کی اس سیاست کے آغاز پر جناب بھٹو کو دعائیں دیں۔