کیا مُردے سے فون پر بات ہوسکتی ہے؟ - ابو حسن

یہ ذوالحج کے بابرکت آیام تھے اور جمرہ عقبہ پر حادثہ پیش آ گیا۔ وجہ حجاج کا ازدحام تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی یہ بھی سبب تھا کہ لوگ سامان لے کر چلتے اور پھر ایک ہی راستے سے آنے اور جانے کی غلطی بھی کر بیٹھے۔ اب آپ خود ہی تصور کیجیے، ایک بندہ ہاتھ میں تھیلا اٹھائے بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے چل دے، وہ بھی 10 ذوالحج کے روز کہ جب لاکھوں کا مجمع اسی سمت میں جا رہا ہو۔ قربانی کا فریضہ بھی انجام دینا ہو، بال کٹوانے ہوں اور طواف زیارت بھی کرنا ہو۔ اس سخت مصروف دن میں بندہ یہ اہم فرائض سر انجام دے یا اپنے تھیلے کو سنبھالے؟ جب کھوئے سے کھوا چھل رہا ہو اور کنکریاں مارنے کے لیے مقامات بھی صرف دو ہوں، یعنی صرف ایک ہی پل تھا۔ اب یا تو حجاج نچلے حصے سے اپنا فرض انجام دیں یا پل پر چڑھ کر کنکریاں ماریں۔ اس رش میں اگر تھیلا ہاتھ سے چھوٹا تو اس کو اٹھا نہیں سکتے اور اس سے پیچھے آنے والے کو ٹھوکر بھی لگتی۔ اگر وہ گر گیا تو پھر موت کے سوا کچھ نہيں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے حجاج کی لاشیں دیکھیں۔ اگر انتظامیہ کے اراکین دیکھ لیں تو وہ تھیلا لے لیتے ہیں لیکن اس کے باوجود لوگ تھیلا نیچے لٹکائے رش میں گزر جاتے ہیں۔ اب ایسے لوگوں کا کیا کریں جو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی اذیت بلکہ موت کا باعث بنیں۔

بہرحال، حادثے کے بعد شہید ہونے والوں کے نام ٹیلی وژن پر بتائے گئے جن میں تین نام ہمارے گروپ کے لوگوں سے ملتے جلتے تھے اور ایک نام میرا بھی تھا۔ اب کیا تھا ریاض سے دوستوں کے فون آنے شروع ہوگئے۔ ابھی ان کو خیر وعافیت سے آگاہ کیا کہ پاکستان سے ایک دوست کا فون آ گیا۔ "تم زندہ ہو؟" عامر نے کہا۔ "تو کیا مردے سے فون پر بات ہو سکتی ہے؟" میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ عامر نے لمبا سانس لیتے ہوئے کہا "حادثے کی خبر سن کر بے چین ہو گیا تھا، عید کا دن ہونے کی وجہ سے نیٹ ورک بھی مشغول تھا اور تمہارا فون نہیں لگ رہا تھا۔ الحمد للہ اب تشویش ختم ہوگئی۔

اب ذرا دوسرا واقعہ سن لیں۔ یہ ایام تشریق کے دنوں کا ہے جب میں مسجد خیف کی پچھلی دیوار کے ساتھ باہر کی طرف بیٹھا تھا۔ منیٰ میں مشاعر مقدسہ کی اہم مساجد میں سے ایک ہے۔ 25 ہزار مربع میٹر پر پھیلی اس مسجد میں تقریباً 45 ہزار افراد باآسانی نماز ادا کر سکتے ہیں۔مسجد کے ایک، ایک گوشے میں آواز پہنچانے کے لیے جدید صوتی نظام نصب ہے اور حج کے زمانے میں یہاں مسلسل دروس ہوتے ہیں جو عربی اور اردو کے علاوہ انگریزی اور دوسری اہم زبانوں میں ہوتے ہیں۔

بہرحال، تو میں عرض کر رہا تھا کہ میں مسجد خیف کی پچھلی دیوارکے ساتھ بیٹھا بیٹھا کہ اچانک میری دائیں طرف ایک صاحب آکر بیٹھ گئے۔ سلام دعا کے بعد تعارف کا تبادلہ ہوا۔ وہ بھارت ریاست کیرالا سے تعلق رکھتے تھے اور نام عبداللہ تھا ۔ ان سے خاصی دینی دنیاوی باتیں ہوئیں ۔ پھر اچانک گزشتہ رات یعنی 10 ذوالجہ کی شب پیش آنے والا دلچسپ واقعہ بتایا۔ کہنے لگے کہ " بڑے شیطان کو کنکریا ں مارنے، قربانی کرنے و سرمنڈانے سےفارغ ہونے کے بعد طواف زیارت کے لیے بیت اللہ گیا ۔ تھکاوٹ ہوگئی تو کیوں نہ گھر جاکر کچھ آرام کرلیا جائے؟ یہ عصر کے بعد کا وقت تھا گھر آکر فون کو "سائلنٹ" کیا اور سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کہاں پر ہوں؟ گھپ اندھیرا دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ قبر میں ہوں۔ حالت ابتر ہوگئی، پسینے چھوٹنے لگے، ادھر ادھر ہاتھ مارے تو اندازہ ہوا کہ پلنگ پر ہوں۔ خیال آیا کہ قبر میں پلنگ تو ہو نہیں سکتا۔ شعور بیدار ہوا تو آہستہ آہستہ سب یاد آنے شروع ہوا۔ اٹھ کر بلب جلایا اور وقت دیکھا تو رات کے 10 بج رہے تھے۔ فون اٹھایا تو بھارت سے بیوی کی 115 مس کالیں آئی ہوئی تھیں۔ نماز پڑھی ہی تھی کہ دوبارہ ان کی کال آ گئی۔ بہت پریشان تھیں، صبح سے رابطہ نہيں ہوا تھا۔ میری آواز سنتے ہی رونے لگیں۔ میں نے مذاقاً کہا کہ آپ نے زوجہ کو یہ تو نہیں کہا کہ مردے سے فون پر بات ہو سکتی ہے کیا؟

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.