حقیقی حقوقِ نسواں - محمد طاہر مرسلین

جدید حقوقِ نسواں کا مقصد اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ عورت کو ہر لحاظ سے مرد کے برابر ثابت کیا جائے۔ بلکہ جینڈر اکیویلٹی (صنفی مساوات) اور حقوقِ نسواں کی اصطلاحات ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔ اس بات پر تو سب متفق ہو سکتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ نازیبہ سلوک روا رکھا جاتا ہے اور ان کو بنیادی حقوق بھی میسر نہیں، اس لیے خواتین کو ان کے جائز حقوق دیے جانا ضروری ہے۔ لیکن 'مرد اور عورت برابر ہیں' کا نعرہ مرد و زن میں منافرت کا باعث بنے گا۔ اگر عورتیں اور مرد ہر طرح سے یکساں ہوتے تو مرد اور عورت کی تقسیم ہی لغو تھی۔ اگر یہ فرق کرنا لازم ہے اور یقیناً لازم ہے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ان کے صنفی فرق کے باعث ان کے حقوق و فرائض بھی مختلف ہونے چاہییں۔

جب جدید حقوقِ نسواں کی تحاریک نے سر اٹھایا تب اچھے گھروں کی خواتین گھر سے باہر کام کرنے کو برا سمجھتی تھیں۔ گھر سے باہر کام کرنے والی عورتیں صرف وہ ہوتی تھیں جو مرد کفیل سے محروم تھیں، بیوہ تھیں، غلام تھیں یا ان کے کفیل کی آمدن اتنی کم تھی کہ مجبوراً انہیں کام کاج کے لیے گھر کی دہلیز پار کرنا پڑی۔ پہلے پہل جن خواتین نے احتجاج کا رستہ اپنایا، وہ خواتین مِلوں میں کام کرنے والی یا غلام تھیں، جو کم اجرت، ناکافی سہولیات، اور کام کے دوران برتے جانے والے ناروا سلوک پر معترض تھیں۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ حقوقِ نسواں کا آغاز اس لیے ہو ا کہ مردوں نے عورتوں کو گھروں میں قید کر رکھا تھا اور خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے روکا ہوا تھا۔ لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں۔

1936ء تک خواتین کی اکثریت گھروں میں رہ کر بچوں کی پرورش کرنے کو گھر کے باہر کام کرنے پر ترجیح دیتی تھیں (حوالہ)۔ لیکن جب بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی کے لیے مزدوروں کی ضرورت پیش آئی تو پھر خواتین کو حقوقِ نسواں جیسے رنگین و دلکش نعرے دیکر گھروں سے نکلنے پر آمادہ کر کے فیکٹریوں کا ایندھن بنایا گیا۔ یہی سب کچھ آج یہاں ہو رہا ہے۔ گو کہ ہمارے ملک میں افرادی قوت کی کمی نہیں، لیکن اب کاروباری دنیا کی ضروریات بدل گئی ہیں۔ اب انھیں نہ صرف سستی افرادی قوت چاہیے بلکہ اربوں ڈالرز کی کاسمیٹیکس انڈسٹری، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور ہر بکنے والی چیز کی تشہیر کے لیے خواتین کی ضرورت ہے، جو عورت کو بے گھر و بے پردہ کیے بنا ممکن نہیں۔ یورپ کی خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ اس سے سبق سیکھ چکی ہیں اور اب یورپ کی نوجوان خواتین گھر بسانے اور شادی کے بعد گھر میں رہ کر بچوں کی پرورش کرنے کو بہترین زندگی تصور کرتی ہیں (حوالہ

حقوقِ نسواں کی تحاریک کا مقصد حقیقتاً خواتین کی بھلائی و خوشحالی کے لیے کام کرنا ہوتا تو مرد سے برابری کی رٹ لگانے کے بجائے ان حقوق اور سہولیات کے لیے آواز بلند کی جاتی جس سے خواتین کی زندگیوں میں بہتری اور خوشحالی لائی جا سکے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین واقعی گھروں سے نکل کر محنت مزدوری، رکشہ چلانے، بسوں اور جہازوں کی ہوسٹس بننے کو ترجیح دیتی ہیں؟ اس کا تعین کرنے کا اختیار اُن مٹھی بھر تنظیموں کو نہیں جن میں مرد صرف اس لیے شمولیت اختیار کرتے ہیں کہ انہیں لڑکیوں کی قربت نصیب ہو۔ گیلپ سروے کے مطابق 56 فیصد امریکی خواتین، جن کے بچے 18 سال سے کم عمر ہیں، گھروں میں رہ کر بچوں کی پرورش کرنے کی خواہاں ہیں۔ 57 فیصد بے روزگار اور 54 فیصد نوکری کرنے والی خواتین، جن کے بچے 18 سال سے کم ہیں، گھر میں رہنے کی خواہش رکھتی ہیں (حوالہ

اسی طرح فوربز کے مطابق امریکہ میں 84 فیصد نوکری کرنے والی خواتین گھروں میں رہ کر بچوں کی پرورش کرنے کو ایک سہانا خواب قرار دیتی ہیں۔ 33 فیصد سے زائد خواتین نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے شریکِ حیات اتنا نہیں کما پاتے کہ اس خواب کو حقیقت میں بدل سکیں۔

ترقی یافتہ ممالک کی وہ خواتین جن کو کسی جائز اور ناجائز خواہش کی تکمیل میں کوئی چیز مانع نہیں، وہ ایسے معاشرے کا خواب دیکھتی ہیں جہاں ان پر معاشی ذمہ داری نہ ہو اور وہ بے فکری سے اپنی اولاد کی پرورش پر دھیان دے سکیں۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ سہولت خواتین کی اکثریت کو میسر ہے مگر یہ نام نہاد حقوقِ نسواں کے علمبردار سبز باغ دکھا کر انہیں ایسی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں جہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہو۔ ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم خواتین کو درپیش مسائل کا حل اپنے مذہب اور روایات کے مطابق تلاش کریں اور خواتین کو ان تحاریک کے منفی اثرات سے محفوظ رکھیں۔