کبھی میں سوچتا ہوں - زبیر منصوری

کبھی میں سوچتا ہوں!
کوئی تو ہو جو میرے محسن، میرے مولانا کی فکر کو آگے بڑھا سکے؟

کوئی ایسا جو ان کی کتابوں کے Abridged version بنا کر آنے والی نسل کو ان کی فکر سے جوڑ سکے.
کوئی جو ان کی تحریر کی پرانی زبان کو آج کی زبان میں ڈھال سکے (کہ وہ کوئی صحیفہ نہیں، جس میں رد و بدل نہ ہو سکتا ہو)
کوئی تو ہو جو چاہے نام ہی بدل کر مدارس اور اس کے طلبہ تک فرد نہ سہی، فکر پہنچانے کا ذریعہ بن جائے.
کوئی تو ہو جو اٹھے اور ان کی الہامی فکر کے خزانوں سے موتی چن کر دنیا کو پیش کر سکے.
کوئی ایسا جو ایک ماہر منتظم، ایک ماہر پلانر، ایک وژنری لیڈر، دستور ساز، ہیومن ریسورس مینیجر، نئے لیڈر تیار کرنے والا، فلاسفر، تھنکر، نظام حاضر موجود کو دلائل کی قوت سے توڑ پھوڑ دینے والا، کے طور پر ان کے کام کو یونیورسٹییوں کے تازہ نصاب کا حصہ بنانے کے لیے آج کے اسلوب میں ڈھال سکے.
ان کا کوئی چاہنے والا جو ان کی کتابوں کے پرکشش ٹائٹل ہی ڈیزائن کروا دے، ان کے عنوانات کو آسان بنا دے.
کوئی نوجوان یا ان کا کوئی گروہ اپنے وقت اور صلاحیت کی زکوۃ دے، اور ان کے لٹریچر کےگرد آن لائن کورسز، ایپس اور سرچ ایبل ویب سائٹ کے آپشن تیار کر دے.
کوئی ان کے لٹریچر کے فہم کے مطابق کچھ شارٹ ڈاکومینٹریز ہی بنا ڈالے.
ان کی باتوں کو پریزنٹیشنز میں ڈھال کر Slideshare.com جیسی کوئی چیز کھڑی کر دے.
کوئی انٹرنیشنل سیمینار کی سیریز، کوئی ویبنار، کوئی ایف اے کیوز، کچھ بنا ڈالے.
کوئی ان پر لگے جھوٹے بودے الزامات کا آج کے کسی ٹول کی مدد سے آج کی نسل کے لیےجواب ہی دے ڈالے.
ان کی شخصیت کے شایان شان کوئی مؤثر ڈاکومینٹری، کوئی شاندار فلم بنا کر ان کو آج کی نسل سے جوڑ دے.
کوئی تو ہو جو اٹھے اور ایسے کسی منصوبے کا بیڑہ اٹھائے، کوئی اس کے لیے فنڈز فراہم کرنے یا کروانے کا اعلان کرے۔

کوئی تو کچھ کرے، ورنہ اگلی نسل ہمیں روک کر پوچھے گی کہ یہ مولانا مودودی کون تھے؟
کہیں اللہ ہی یہ سوال نہ کر دے کہ میں نے تمہیں مولانا جیسی نعمت سے نوازا، تم نے ان کے ساتھ کیا کیا؟

سچ تو یہ ہے کہ مولانا مودودی جیسے پورے قد کے انسان کے عہد میں جب میں بالشتیوں، انا کے اسیروں اور رات میں تفہیم القران سے استفادہ کر کے صبح علامہ کہلانے والوں کے افکار کو فروغ پاتے اور لاکھوں چاہنے والوں کے ہوتے ہوئے مولانا مودودی رح کی فکر کو اجنبی ہوتے دیکھتا ہوں تو دل کٹ جاتا ہے. لوگ آخر کیوں بھول گئے کہ آج ساری دکانیں انھی کے دم سے آباد ہیں.

کوئی ہے؟ اس نقار خانے میں کسی تک میری آواز پہنچ رہی ہے؟

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.