حیات بعد الموت، سائنس کیا کہتی ہے؟ ذیشان وڑائچ

جواب پڑھنے سے پہلے نوٹ کرلیں کہ مجھے اسلامی عقائد کو سائنس سے ثابت کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ کسی نے ایک گروپ میں ایک سوال پوچھا اور اکثر ہمارے نوجوان اس قسم کے سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔ اس لیے خیال ہوا کہ خالص منطقی اور سائنسی نکتہ نظر سے اس بات کی وضاحت کی جائے۔

ایک بات تو واضح ہے کہ جب انسان مرتا ہے تو عام طور پر اس کا جسم اور دماغ اپنی نظم و ترتیب کھو دیتا ہے۔ لیکن جب ہم انسان کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہمارے نزدیک ایک ایسی چیز مراد ہے جس کی ایک شخصیت، شعور، ارادہ، انا، رویہ، یادداشت اور مزاج ہو۔ اسی چیز کو علمی اعتبار سے نفس انسانی یا human self کہا جاسکتا ہے۔

منطقی اعتبار سے جب ہم حیات بعد الموت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد یہی ہے کہ آیا انسان کا جسم جب اپنی پورا نظم کھو کر بوسیدہ ہوجاتا ہے تو نفس انسانی کا وجود کہیں باقی رہتا ہے یا وہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ بالفاظ دیگرحیات بعد الموت کی بنیاد انسانی شعور اور اس کی بقا سے متعلق ہے۔

فی الحال خالص تجرباتی بنیاد پر سائنس یہی کہہ سکتی ہے کہ انسانی دماغ ہی انسانی شعور کا اصل منبع ہے۔ انسانی دماغ دراصل دماغی خلیوں جنھیں نیوران (Neurons) کہا جاتا ہے، کا ایک انتہائی پیچیدہ جال ہے۔ یہی نیوران کا جال (Neural Network) نفس انسانی ہے۔ اور جب انسان مرتا ہے تو اس کے بعد انسانی دماغ کے خلیے مرجاتے ہیں اور دماغ کی ترتیب ختم ہونے سے دماغ اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر انسان، اپنے شعور، شخصیت اور یادداشتوں کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن ابھی سائنس اس سٹیج پر نہیں پہنچی کہ وہ ثابت کر سکے کہ نفس انسانی یا Human Self کا اصل منبع دماغ ہی ہے۔ یہ جبھی ممکن ہے جب سائنس انسانی دماغ کے پورے میکنزم کی تشریح کر کے یہ دکھائے کہ انسانی شخصیت، فیصلہ، اختیار اور ارادے کا اصل منبع انسان کا حیاتیاتی دماغ ہی ہے۔ سائنس کو ابھی وہاں تک پہنچنے کے لیے کچھ وقت لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا زندگی جینا مشکل لگ رہا ہے؟ 5 آزمودہ باتیں - میاں جمشید

اب یہاں پر دو قسم کے امکانات ہوں گے:
1۔ سائنس چونکہ صرف تجرباتی اور مادی علوم کو مانتی ہے اور کسی تجربات سے ماوار چیز کو تسلیم نہیں کرتی، اس لیے سائنسی فلسفہ کو تسلیم کرتے ہوئے مان لیں کہ انسان کا حیاتیاتی (Biological) دماغ ہی نفس انسانی ہے اور مزید تحقیقات اور تجربات کے نتیجے میں یہ بات ثابت ہوجائے گی۔
2۔ یہ مانیں کہ نفس انسانی کا وجود انسان کے حیاتیاتی یا biological وجود سے باہر کوئی چیز ہے۔ اور سائنس یا تو مستقبل میں یہ مان لے گی یا پھرسائنس نفس انسانی کی حقیقت کو کبھی بھی نہیں جان پائے گی۔

یہاں پر اس سوال کے معاملے میں تین فریق ہوجائیں گے۔ جو شخص جدید سائنس کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش ہوگا بلکہ تجرباتی سائنس کو پورے علوم انسانی اور تمام حقیقتوں پر محیط مانے گا، وہ پہلی چوائس پر زور دے گا، اس کا اصرار ہوگا کہ انسان کی موت کے ساتھ انسانی شعور، شخصیت اور پوری یادداشتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فنا ہوجاتی ہیں۔ یعنی حیات بعد الموت کوئی چیز نہیں۔

جو شخص اپنے عقیدے کی بنا پر یا اپنے اندر پائے جانے والے عدل کے جذبے کی بنا پر یہ تقاضا محسوس کرتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک اور زندگی ہونی چاہیے جہاں پر حساب کتاب برابر ہو جائے اور پورا عدل قائم ہو، وہ اس بات پر اصرار کرے گا کہ نفس انسانی انسانی دماغ کے علاوہ کوئی اور چیز ہے اور نفس انسانی دراصل دماغ نامی عضو کو صرف ایک آلے کی طرح استعمال کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے جسم اور دماغ کے ختم ہونے کے باوجود نفس انسانی ختم نہیں ہوگا۔

جو شخص فلسفے سے متاثر ہوگا، وہ دونوں امکانات کو تسلیم کرے گا۔ کبھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکے گا کہ حقیقت کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اپنے مزاج کی وجہ سے کسی ایک طرف اپنا وزن ڈال دے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیند سے متعلق غلط فہمیاں اور حقائق

ویسے ایک سائنسی نظریہ ہے جسے ہولوگرافک پرنسپل (Holographic Principle) کہتے ہیں۔ یہ ایک خالص قسم کا سائنسی نظریہ ہے۔ اس نظریے کو تجویز کرنے کی بنیادی وجہ جدید سائنس میں پائے جانے والے کچھ تناقضات ہیں جن کو اس نظریے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ اس نظریے کے تحت اوپر مذکورہ دونوں نظریات کو یکجا کیا جاسکتا ہے۔ اس نظریے کو اس سوال پر لاگو کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ اگر پورے نفس انسانی کو انسانی دماغ بھی قرار دیا جائے تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ دماغ میں پائی جانے والی پوری معلومات اپنی ترتیب کے ساتھ کہیں پر محفوظ ہے۔ بالفاظ دیگر دنیا میں پائے جانے والی ہر ترتیب کی انفارمیشن بشمول انسانی دماغ کے کہیں پر محفوظ ہے اور کبھی فنا نہیں ہوتی۔ اس کو ٹھیک سے سمجھنے کے لیےماڈرن فزکس کو بہت زیادہ گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو دلچسپی ہو تو گوگل میں اس کی مزید تشریح تلاش کی جا سکتی ہے۔ چونکہ میں ذاتی طور پر سائنس سے عقائد کو ثابت کرنے میں زیادہ پرجوش نہیں ہوں، اس لیے ہولوگرافک پرنسپل کی نسبت سے دونوں نظریات کو یکجا کرنے کا خیال صرف ایک تجویز ہے۔ اور فی الحال یہ صرف ایک نظریہ ہے جس کا کوئی تجرباتی ثبوت نہیں ملا۔ لیکن سائنسدانوں کو اس نظریے کو قبول کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔

نوٹ: چونکہ جواب سائنسی انداز میں دیا گیا ہے اس لیے لفظ ’’روح‘‘ کو استعمال نہیں کیا گیا۔ نفس انسانی یا human self مذہب کو ماننے والے اور نہ ماننے والے، دونوں کے لیے قابل قبول ہیں۔

یہ سوال کہ حیات بعد الموت کی سائنسی تشریح کیا ہے، کئی علمی پہلو لیے ہوئے ہوتا ہے ۔ میرا جواب میرے ذہن میں آئے ہوئے خیالات پر مبنی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اہل علم حضرات اس سوال کو بالکل ہی دوسرے انداز میں ایڈریس کریں۔