شیطان کی نبض (Pulse Of Devil) - آفاق احمد

اس دنیاوی زندگی کی بنیاد میاں بیوی یا Husband/Wife کے تعلق پررکھی گئی۔ سب سے پہلے جو رشتہ اللہ تبارک تعالیٰ نے قائم کیا، وہ آدم حوا کی صورت میں میاں بیوی کا تھا۔ اس رشتے کا بنیادی مقصد نسلِ انسانی کی بڑھوتری ہے۔

مغرب میں شیطان کی عملی پالیسی کی جھلک:
سب سے پہلے مغرب میں بآسانی شیطان نے اس رشتے کو تباہ و برباد کیا۔
* زنا بالرضا کو اُس معاشرے میں قبولیت کی سند عطا کروائی۔
* بےحیائی مغربی معاشرے میں عام بات بن گئی، شاپنگ مالز ہوں یا دیگر مقامات، بےلباسی کو فروغ دیا گیا۔
* اس بےحیائی کے فروغ میں ہالی وڈ انڈسٹری کو استعمال کیا گیا اور بےحیائی کی جس جہت کو معاشرے میں فروغ دینا ہوتا، وہ پہلے ہالی وڈ کی فلموں میں دکھائی جاتی اور اس کے ذریعے عوام کی ذہن سازی کی جاتی۔
* پھر کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی شروع ہوئی اور دیر سے شادیوں کو فروغ دیا گیا، جوانی کا اصل دور زنا بالرضا میں گزار کے پینتیس پینتیس سال کی عمر میں شادیوں کی طرف آتے اور پھر دو بچوں پر اکتفا کرتے۔
* پھر قوانین کو اس صورت لاگو کیا گیا کہ طلاق کی صورت میں خواتین کو خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل ہو۔
* ان قوانین کی وجہ سے طلاق کو فروغ حاصل ہوا اور ساتھ شادی کی حوصلہ شکنی شروع ہوئی کیونکہ مرد حضرات خواتین پر اعتماد کرنے پر راضی نہ تھے کہ نہ جانے کون محض طلاق کے مالی فائدے سمیٹنے کے لیے شادی کر رہی ہو۔
* اس چال سے قانونی شادی کی راہ مسدود کی گئی اور محض رضامندی سے بغیر شادی کے جوڑوں کے اکٹھے رہنے کی راہ ہموار ہوئی کہ جب چاہا علیحدگی اور مالی نقصان کوئی نہیں۔
* اس کے نتیجے میں غیر قانونی بچوں میں اضافہ ہوا اور اسے بھی معاشرے میں قبولیت ملنا شروع ہوئی۔

اس طرز پر شیطان نے مغرب کے خاندانی نظام میں سے شادی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب اگلا کام یہ تھا کہ اگرچہ شادی کا معاملہ تو کم کردیا گیا لیکن بچوں کی پیدائش برقرار رہی، اگرچہ کم سہی، غیر قانونی سہی۔ اس کا شیطان نے یہ توڑ نکالا کہ ان معاشروں میں غیر فطری مرد مرد اور عورت عورت کے تعلق یعنیHomo-sexual Relations کو فروغ دیا اور اس سلسلے میں میڈیا کو بھی استعمال کیا گیا۔ اس تعلق کو انسانی آزادی کے نام پر قانونی تحفظ بھی دیا گیا اور اس کی وجہ سے بچوں کی پیدائش کو مزید قابو میں کرلیا گیا۔ یہ چالوں کا وہ سلسلہ ہے جس کی بنیادپر مغرب کی آبادی ریورس گیئر میں آگئی۔

مشرق میں شیطان کی عملی پالیسی کی جھلک:
مغرب سے مرعوبیت:
مشرق میں شیطان کو جو پہلی آسانی میسر آئی، وہ یہاں کے مکینوں میں پائے جانے والی بہت مضبوط مغربی مرعوبیت ہے۔ ذہن پہلے ہی مغرب کے طور اطوار سے مرعوب تھے، چنانچہ یہ نظام کہ شادی جلدی نہیں کرنی چاہیے، یہاں کے نظام میں جڑ پکڑنا شروع ہوا۔

شادی میں تاخیر کی دو بڑی وجوہات:
شیطان کو دوسری تقویت یہاں کے جہیز کے نظام اور شادی کے بھاری بھر کم خرچوں سے ملی جن کی وجہ سے شادی میں تاخیر ایک لازمی امر قرار پائی۔ اس وقت یہ صورتحال ہے کہ لڑکے کی شادی کی اوسط عمر تیس بتیس سال ہے اور لڑکی کی اوسط عمر بھی ستائیس سے تیس سال تک پہنچ چکی ہے۔

کم بچوں کا رجحان کیسے پیدا کیا گیا:
پھر دوسری چیز جو سالہا سال سے ذہنوں میں بلکہ یوں کہیے لاشعور تک انڈیلی گئی، وہ کم بچوں کا رجحان ہے۔ اب یہ صورتحال ہے کہ دو یا تین بچوں کا ٹرینڈ بہت قبولیت پا چکا ہے اور بہت ہوا تو چار۔ اس کم تعداد کو دو عناصر سے بہت تقویت ملی؛ ایک بچے کی پیدائش میں ہونے والے بھاری خرچے اور آپریشن سے پیدا ہونے والے بچوں کی کثرت۔
جو عورت آپریشن سے دو دفعہ گزرچکی ہو، اس جوڑے کے لیے زیادہ بچے عورت کی صحت کی وجہ سے ممکن نہیں رہے۔ دوسرا عنصرمہنگائی کا بڑھتا ہوا حیرت انگیز تناسب ہے، جبکہ دو بنیادی ضروریات تعلیم اور صحت کاروبار کی بےرحم شکل اختیار کرچکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی کیجیے مگر - عارف رمضان جتوئی

بے اولاد جوڑوں یا ایک بچے کے حامل جوڑوں کی بڑھتی تعداد:
اس طرح تو بچوں کی کم تعداد کی طرف پیش رفت ہوئی اور اس کے ساتھ اگر آپ اردگرد دیکھیں تو بےاولاد جوڑوں یا فقط ایک بچے کے حامل جوڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ چونکہ ہمارے ملک میں خاص طور پر سروے کا رواج نہیں، اس لیے اس بڑھتی بےاولادی یا ایک سے زیادہ بچے نہ ہونے کی وجوہات کا قطعیت کے ساتھ تعین نہیں۔ کچھ ماہرین خوراک کی وجہ بھی قرار دیتے ہیں جن میں شیور مرغی سرِ فہرست ہے۔ اس کے علاوہ الٹرا ساونڈ کی کثرت اور میاں بیوی کا وقفے کو بہت زیادہ بڑھانا۔ بہرحال حقیقی عوامل تو ٹھوس سروے سے ہی معلوم کیے جاسکتے ہیں۔

آبادی میں خواتین کی مردوں سے زیادہ تعداد:
ایک اور فائدہ جسے شیطان نے بخوبی استعمال کیا، وہ ہمارے ملک میں بچیوں کا بڑھتا ہوا تناسب ہے. 1998ء کی مردم شماری کے مطابق سو میں سے باون خواتین اور اڑتالیس مرد حضرات کی تعداد تھی یعنی چار کا فرق۔ اور اگر اس فرق کو اندازے سے بہت محتاط طریقے سے جوان مرد و زن میں ساٹھ فیصد بھی قرار دیا جائے تو مطلب یہ ہوا کہ سو میں ساٹھ جوان خواتین کے مقابلے میں چالیس جوان مرد ہیں یعنی فرق بیس کا ہوا۔ یہ تو لازم ہوا کہ یہ اضافی بیس خواتین ایسی ہیں جن کے لیے رشتے موجود ہی نہیں۔ ہر دوسرے گھر میں موجود بڑھتی ہوئی عمر کی غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ اس کا ثبوت ہے۔ اب انیس سال بعد ہونے والی مردم شماری اس تناسب کی حقیقی تصویر پیش کرے گی۔ اب باقی تعداد جن کے رشتے میسر ہیں، پہلے ہی جہیز اور شادی کے بھاری بھر کم اخراجات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں۔

بالی وڈ انڈسٹری اور میڈیا کا استعمال:
ہمارے خطے میں ہالی وڈ انڈسٹری کی طرح بالی وڈ انڈسٹری کو استعمال کیاگیا، لڑکے لڑکیوں اور یہاں تک کہ ان کے والدین کی بھی ایسی ذہن سازی ہوئی کہ ان کی نظر میں وہی فلمی صورتیں بس گئیں اور وہ رشتوں میں بھی لاشعوری طور پر ان فلمی چہروں کو ڈھونڈنے لگے۔ یعنی شادی جو ایک حقیقی کام تھا، اُس میں آئیڈیلزم کی آمیزش کر دی گئی۔ اس چیز کو مزید تقویت انڈین ڈراموں نے بخشی اور رہی سہی کسر آج کے پاکستانی ڈراموں نے پوری کردی۔ ان آئیڈیلز کے پیچھے اور دھوم دھڑکے والی شادی کے پیچھے عمریں بیتنے لگیں۔

غیرشادی شدہ نوجوان متاثر کرنے کی شیطانی چالیں:
اب شادی کی تاخیر تو ہوگئی لیکن اس سے پہلے کی عمر کو کیسے شیطان نے اپنے رنگ میں ڈھالا؟ ایک تو نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں دوستی یعنی بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ کلچر پروان چڑھوایا، اسے مزید تقویت محض کاروبار کی غرض سے بننے والے تعلیمی اداروں نے دی۔ مخلوط ماحول اور فلمی آئیڈیل دنیا ایسے لاشعور میں بسنے لگی کہ سکول میں پڑھنے والے ناپختہ ذہن بھی اس سے آلودہ ہوئے، نوبت افیئرز اور دوستی کے علاوہ شادی کے وعدوں پر بھی پہنچی۔ کراچی میں میڑک کے لڑکے لڑکی کی خود کشی اور اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ایک سکول کے بچے کی خودکشی اسی بڑھتے ہوئے طوفان کے نشان ہیں۔ آج شہروں میں تو ان کم عمر لڑکے لڑکیوں کی دوستی کے مناظر عام ہیں جنھیں ہم جو مرضی نام دے لیں لیکن یہ وہی راستہ ہے جس کے تانے بانے مغرب کے آزاد منظر نامے سے جا ملتے ہیں۔ ہندوستان میں تو عدالتی فیصلے زنا بالرضا کے حق میں آنے بھی لگے اور ہمارے ہاں اس طرز کو قبولیت دلوانے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عید قربان آ رہی ہے، " جھوٹی کہانیوں" سے آگاہ رہیں - محمد عاصم حفیظ

خواتین کی مالی خودمختاری:
ایک اور اہم پیش رفت جو شادی کے نظام کو برباد کرنے میں اہم ثابت ہوئی، وہ خواتین کے لیے روزگار کے کُھلے دروازے اور مردوں کے لیے نسبتاً بند دروازے ہیں۔ اس مالی خود مختاری یا Financial ٰIndependence کا ایک نقصان تو بڑھتی ہوئی عدالتی خلع کی شکل میں سامنے آیا اور دوسرا گھروں کے نظام کی تخریب کی صورت میں نظر آیا۔ اس طرز نے بھی معاشرے کی بنیاد گھر کے نظام کو تہ و بالا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

شادی شدہ لڑکیوں کے لیے میڈیا کا زہر:
اب خطرناک نہج ڈراموں کے ذریعے جو پروموٹ کی جا رہی ہے، وہ شادی شدہ لڑکی کا اپنی زندگی سے خوش نہ ہونا، اور پھر کسی اور پارٹنر کی تلاش میں نکلنا ہے۔ البتہ مغرب سے مختلف چیز جو اب تک مشرق میں ممکن نہیں ہو سکی، وہ غیرقانونی بچوں کی پیدائش کے رجحان کی قبولیت ہے۔

مرد مرد اور عورت عورت کے غیر فطری تعلق کو میڈیا پر اجاگر کرنا:
آخری چیز جس سے مغرب بُری طرح آلودہ ہوچکا ہے، وہ مرد مرد اور عورت عورت کے غیر فطری تباہ کن تعلق ہیں۔ اس چیز کو بھی پہلے بالی وڈ کے ذریعے پروموٹ کیاگیا اور چند سالوں پہلے فلموں میں عورت عورت کے تعلق کو دکھایا گیا جس کے اثرات پاکستان کے علاوہ سارے خطے میں یقیناً مرتب ہوئے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی کوششیں ہوئیں جن میں ایسے مردوں کو دکھایا گیا جو دیگر مردوں سے ایسے غیر فطری تعلق کے مرتکب تھے، ایک سفارت خانے میں ایسے لوگوں کو بھی مدعُو کیا گیا اور ٹی وی پر ٹاک شو ہوئے، اگرچہ بہت محدود عرصے کے لیے لیکن تالاب میں پتھر پھینک کر ہلچل تو مچا دی گئی۔ اب ایسی بازگشت بھی ہے کہ پاکستان میں بھی عورت عورت کے اس گھناؤنے تعلق کو ڈراماٹائیز کرنے کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک نہج ہے جس میں ان لڑکیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جو شادی کی تاخیر کا بھی شکار ہیں، لڑکوں سے دوستی سے بھی دُور ہیں، اور میڈیا مسلسل ان کے جذباتی ہیجان میں اضافہ کیے جا رہا ہے۔

لمحئہ فکریہ:
ہم، ہمارے والدین، ہمارے حکمران، ان لاوا اگلتے آتش فشانوں کے آگے دم سادھے بےنیازی، بےرُخی اور بےحسی سے اپنی اپنی زندگی میں مگن ہیں، اور شیطانیت دانت نکالے مکروہ ہنسی ہنس رہی ہے۔