مسئلہ تقدیر و اختیار - مفتی شاکر اللہ چترالی

تقدیر ماننے سے یہ مشکل پیش آتی ہے کہ اگر سب کچھ تقدیر کی صورت میں طے شدہ ہے تو پھر انسان تو مسلوب الاختیار اور مجبور ِمحض ہے کہ طے شدہ پر بہرحال اس نے عمل کرنا ہے۔ اور انسان کے مجبور ہونے سے مجازات کا ظلم، تکلیفات کا عبث، ارسالِ رسل کا بے کار، انزالِ کتب کا لاطائل اور مقصدِ تخلیق کا فوت ہونا لازم آتا ہے کہ اختیاری عبادت کرنے والے پہلے سے موجود تھے۔

اس اشکال کے حل کے لیے تقدیر کی صحیح حقیقت کو سمجھنا پڑے گا، کیونکہ ٹھوکر لگنے کی جگہ یہی ہے، یہیں سے غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔

تقدیر کی حقیقت میں تین احتمالات ہیں: (1)علمِ الہی، (2) ارادہِ الہی، (3) قضائے الہی

اب اگر تقدیر ِ علمِ الہی کا نام ہے جیسا کہ بعض حضرات کا قول ہے تو پھر کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی کیونکہ علم عمل کا تابع ہے نہ کہ عمل علم کا۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جیسا اللہ تعالی کا علم ہے، ویسے انسان نے عمل کرنا ہے، بلکہ جیسا انسان نے عمل کرنا تھا اس کا پیشگی علم اللہ تعالی کو ہے۔ پھر علم بھی محض کرنے کا نام نہیں ہے، اختیار کے ساتھ کرنے کا ہے۔

اور اگر تقدیر ارادہ الہی کا نام ہے جیسا کہ بعض حضرات فرماتے ہیں، تب بھی خرابی لازم نہیں آئے گی کیونکہ اللہ تعالی کا ارادہ انسانی افعال و اعمال کے بارے میں مطلق نہیں ہے بلکہ مقید بالاختیار ہے۔ یعنی صرف اتنی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے ارداہ فرمایا ہوا ہے کہ فلاں انسان یہ یہ کام کرے گا بلکہ اللہ تعالی کی مشیّت انسان کے بارے میں یہ ہے کہ انسان جو بھی کرے گا، وہ اپنے اختیار کے ساتھ کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے انسان کا اختیار سلب نہیں ہوگا بلکہ اور بھی مضبوط ہوگا کیونکہ جس کا اللہ تعالی ارادہ فرماتے ہیں، وہ ہوکر رہتا ہے۔

اوراگر تقدیر قضائے الہی کا نام ہے تب بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے، وجہ قدرے تفصیل کے ساتھ یہ ہے کہ قضاء کی دو قسمیں ہیں (1) مبرم اور(2)معلق، جن کو کبھی تقدیرِمعلق اور تقدیرِ مبرم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
قضاء یا تقدیرِمبرم: اللہ تعالی کا وہ غیرمشروط قطعی فیصلہ ہوتا ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی اور ترمیم کی گنجائش نہیں ہوتی۔
قضاء یا تقدیرِمعلق: اللہ تعالی کا وہ فیصلہ ہوتا ہے جو علم الہی اور ارادہ الہی میں کسی شرط کے ساتھ مشروط اور معلق ہوتا ہے، مثلاً زید فلاں بیماری میں ڈاکٹر سے دوائی لے گا تو ٹھیک ہوجائے گا ورنہ نہیں۔
اب اگر انسانی اعمال و افعال اور اسی حساب سے انجام کے ساتھ قضاء مبرم کا تعلق ہے (کہ فلاں انسان یہ برا کام ضرور کرے گا اور پھر اس کی پاداش میں جہنم جائے گا) تو پھر یقیناً وہی مشکل پیش آئے گی لیکن اگر انسانی اعمال کے ساتھ قضاء معلق کا تعلق ہے (کہ انسان اگر ایمان اور نیک اعمال اختیار کرے گا تو جنت میں جائے گا اور کفر و شرک اختیار کرے گا تو جہنم میں جائے گا) پھر تو ظاہر ہے کہ کوئی اشکال پیش نہیں آتا ہے.
اب سوال یہ ہے کہ انسانی اعمال ِنیک و بد کے ساتھ قضاء کی کس قسم کاتعلق ہے؟ تو اس کے جواب میں ان سینکڑوں آیاتِ بینات اور ہزاروں احادیث مبارکہ ’’کہ جن میں انسان کے ایمان اور اعمالِ صالحہ اختیار کرنے پر جنت کا وعدہ اور کفر اور اعمالِ سیئہ پر جہنم کی وعید ہے‘‘، ان کی روشنی میں یہی کہا جائے گا کہ انسانی اعمال کے ساتھ قضاء ِمعلق کا تعلق ہے ورنہ اُن تمام کا نصوص کا بےفائدہ ہونا لازم آئے گا کیونکہ اگر انسان اپنے اختیار سے کچھ نہیں کرتا ہے تو اس کو اچھے اعمال کی ترغیب دینا اور برے اعمال سے ڈرانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

یہ بھی پڑھیں:   اے انسان! رب کو پہچان، دلیل سے - مجیب الحق حقی

صفاتِ باری تعالی اور انسان
ابھی جو اشکال بحمداللہ ہم حل کرآئے ہیں، وہ صرف تقدیر کے متعلق نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ صفاتِ باری تعالی کے اعتبار سے بھی پیش آتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دو چیزیں بہت سے مصنفین کے ہاں بغیر امتیاز کے مخلوط ملیں گی، پھر اس خلطِ مبحث کی وجہ سے معاملہ سلجھنے کی جگہ الٹا الجھ کر مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے قاری طیب ؒ کی اتباع میں ان دونوں کو الگ کر دیا ہے جس سے تقریباً آدھا معاملہ آسان ہوگیا، لیکن یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کو خالق، قادرِمطلق اور مختار ِکلّ مان کر بندے کو مجبورِمحض ہونے سے بچا لینا آگ اور پانی کو ایک کرنے کا کھیل ہے۔

تفصیل یوں ہےکہ بطورِمثال اگر اللہ تعالی کی صفت قدرت اور اختیار کو لیتے ہیں تو اب ظاہر ہے کہ یہ صفت تمام مخلوقات اور ان کے افعال پر حاوی ہے۔ مخلوقات اللہ تعالی کے سامنے عاجز و بے بس ہیں، کسی میں مشیّت الہی کے بغیر پر مارنے کی سکت نہیں۔ خود حضرتِ انسان ان جملہ مخلوقات میں شامل ہے۔ اس لیے بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود انسان کی پوزیشن اپنے اعمال و افعال کے بارے میں کیا ہے؟

پانچ ممکنہ احتمالات میں سے کون سا احتمال ہے؟ (1) مجبورِمحض، (2)قادرِمطلق، (3) دونوں بالکل نہیں، (4) دونوں مکمل طور پر، (5) من وجہ مجبور اور من وجہ قادر۔

پہلا احتمال جبریہ کامذہب:
یعنی انسان اپنے افعال میں مسلوب الاختیار اور مجبورِ محض ہے۔
دلیل: علمِ الہی سابق اور ارادہ الہی سابق کی وجہ سے انسان مجبور ہے ورنہ علم کا غلط ہونا اور ارادہ الہی کا عدمِ نفاذ لازم آتا ہے۔
جواب: علم عمل کا تابع ہے نہ کہ عمل علم کا، اور اللہ تعالی کا ارادہ انسانی افعال و اعمال کے بارے میں مطلق نہیں ہے بلکہ مقید بالاختیار ہے، لہذا کوئی خرابی لازم نہیں آتی ہے، البتہ مجبور ماننے سے مجازات کا ظلم، تکلیفات کا عبث، ارسالِ رسل کا بے کار، انزالِ کتب کا لاطائل اور مقصدِتخلیق کا فوت ہونا لازم آتا ہے کہ اختیاری عبادت کرنے والے پہلے سے موجود تھے۔

دوسرا احتمال قدریہ کا مذہب:
یعنی انسان اپنے افعال میں مستقل بالاختیار اور قادرِمطلق ہے.
دلیل:انسان کو قادر نہ ماننے سے انسان کے اعمال ِبد (جوشرّہیں)ان کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا لازم آئے گا۔اللہ تعالی ان سے بلند وبرتر ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی کسی کو برائی کی قدرت اور اختیار بخشے؟
جواب:
(1) اس طرح کی نسبتوں سے بچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ پھر یہ بھی سوال ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے گناہگار اور جرم کے مرتکب انسانوں کو کیوں پیدا کیا؟ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر انسانوں کو پھسلا کر ان کو اعمالِ بد میں لگانے والے ناہنجار شیطان کو کیوں پیدا کیا؟ اگر شرّ کو پیدا کرنا برا ہے تو شریر کو پیدا کرنا بھی برا ہے۔ برائی کو قدرت اور علم کے باوجود نہ روکنا بھی برا ہے۔ فما جوابکم فھو جوابنا۔
(2) انسانوں کو اپنے افعال کی حد تک قادرِ مطلق اور مستقل بالاختیار کہیں گے تو کم از کم اپنے افعال ِکے اعتبار سے یہ سارے انسان اللہ تعالی کے ساتھ اس خاص صفت میں برابر کے شریک ہوں گے، اور ساتھ افعالِ عباد کی حد تک اللہ تعالی کو مجبور ماننا لازم آئے گا، یہ دونوں باتیں سراسر باطل ہیں۔ پھر شرّ کی نسبت اللہ تعالی کی طرف بالواسطہ کرنا اگر گوارا نہیں تو براہِ راست شریک اور مجبور ہونے کی نسبت کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ تو بارش سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے کھڑے ہونے والی بات ہے۔ بریں عقل و دانش بباید گریست۔

یہ بھی پڑھیں:   سرخ! مہران درگ

تیسرا احتمال:
ارتفاعِ نقیضین لازم آنے کی وجہ سے باطل ہے۔

چوتھا احتمال:
اجتماعِ نقیضین لازم آنے کی وجہ سے باطل ہے۔

پانچواں احتمال اہلِ سنّت والجماعت کا مذہب:
انسان ایک اعتبار سے مجبور ہے اور ایک اعتبار سے قادر اور بااختیار ہے۔ مجبورِمحض ہے اور نہ قادرِ مطلق۔ اپنے افعال کا سبب تو ہے مگر خالق نہیں۔ بندہ قادرِ مطلق ہو کر اختیارِخداوندی میں مخل اور شریک ہے اور نہ مجبورِ محض بن کر عدلِ خداوندی میں حارج۔ تکلیف سے کوئی مانع ہے اور نہ سلسلہ مجازات میں فرق پڑتا ہے۔ بندے کی ذات اور صفات (قدرت اور اختیار وغیرہ) کو اللہ تعالی کی ذات اور صفات سے ظلّ، سائے اور پرتو کی نسبت ہے، جس سے صفاتِ عبد کا استقلال اور اطلاق لازم آتا ہے اور نہ عدم اور بالکلیہ فقدان۔ یہ غیر مستقل صفات بندے کی طرف افعال کی نسبت کو روکتی ہیں اور نہ خدا کی تنزیہ میں حائل ہیں۔

دلیل(1):
افعال کے حوالے سے انسانی پوزیشن کی کل عقلی پانچ احتمالات میں سے چار احتمالات جب باطل ہو گئے تو اب پانچواں احتمال یقینی طور پر احتمال ثابت ہوگا ورنہ ارتفاعِ نقیضین لازم آئے گا جو کہ باطل ہے۔
دلیل(2):
اختیار اور جبر کی بنیاد اور اصل وجود اور عدم ہیں۔ اختیار ایک وجودی صفت ہے لہذا جہاں جتنا وجود ہوگا وہاں اتنا ہی اختیار ہوگا۔ جبر ایک عدمی صفت ہے لہذا جہاں جتنا عدم ہوگا وہاں اتنا جبر ہوگا۔ جہاں وجود ہی وجود ہو، وجود اصل ہو اور عدم کا گزر ہی نہ ہو، وہاں اختیار کامل، مستقل، اور مطلق ہوگا جیسے ذاتِ باری تعالی جہاں عدم ہی عدم جیسے معدومات وہاں بطورِفر ض کے کہہ سکتے ہیں، جبرِ محض ہوگا۔ جہاں وجود عارضی، ظلّی اور عدم اصلی، ذاتی ہو، وہاں وجود کے اعتبار سے اختیار تو ہوگا مگر عدم کو دیکھتے ہوئے ناقص، غیرمستقل اور مقید ہوگا جیسے انسان۔

اختیارِ کامل کے لیے ضروری ہے کہ احتیاج بالکل نہ ہو، ورنہ کمال اور استقلال ممکن نہیں ہوگا بلکہ جبر لازم ہوگا لہذا موجودِ اصلی اپنی ذات، صفات اور افعال میں کسی کا ذرّہ برابر محتاج نہ ہوگا۔ اختیارِ ناقص کے لیے ضروری ہے کہ احتیاج ہو ورنہ کمال اور استقلال لازم آئے گا جو خلافِ مفروض ہونے کی وجہ سے باطل ہے، لہذا موجودِ عارضی اپنی ذات، صفات، اور افعال میں عدم کے بقدر محتاج ہوگا، اور اسی احتیاجی کی وجہ کسی قدر مجبور ہوگا۔ چنانچہ انسان اپنے افعال میں وجودِعارضی کی بدولت من وجہٍ مختار ہوگا تو بسبب ِعدم ِاصلی احتیاج کی وجہ سے من وجہٍ مجبور ہوگا، لہذا انسان کے افعال میں اختیار کی بدولت کچھ حصہ اس کا اپنا ہوگا اور احتیاج کی بناء پر کچھ حصہ اس کا ہوگا جس کا انسان محتاج ہے، یعنی اللہ تعالی، اختیار کی بدولت اس کے افعال میں جو حصہ اس کا ہے اس کو کسب کہتے ہیں اور احتیاج کی وجہ سے جو حصہ اللہ تعالی کی ذات کا ہے، اس کو خلق کہتے ہیں۔