امتحان میں نمبروں کی دوڑ - بشارت حمید

آج صہیب کی کلاس نہم کا رزلٹ ڈے تھا۔ مریم نے آج دفتر سے چھٹی لی ہوئی تھی۔فون کی گھنٹی بجی، اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔ اسکی نند صبا کا فون تھا۔ حال احوال کے بعد اس نے اپنے بھتیجےصہیب کے رزلٹ کا پوچھا۔ مریم کی تو جیسے دکھتی رگ پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا کہنے لگی آپا کیا بتاؤں آپکے بھائی نے اس پر بہت توجہ دی تھی اسے شہر کی سب سے مہنگی اکیڈمی میں ٹیوشن بھی رکھوا کر دی لیکن اس نے تو ہماری ناک ہی کٹوا دی۔ صبا نے پریشان ہو کر پوچھا کہ بھابھی کہیں صہیب فیل تو نہیں ہو گیا کسی مضمون میں؟ مریم نے جواب دیا نہیں آپا فیل تو نہیں ہوا بس صرف 80% نمبر لیے ہیں، یہ بھی کوئی نمبرز ہیں بھلا، یہ تو بہت ہی کم ہیں اسکو کم سے کم 95% لینے چاہیے تھے۔ وہ صدمے سے روہانسی ہو کر بنا رکے بولتی چلی جا رہی تھی۔ صبا نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا بھابھی آپ اللہ کا شکرادا کریں 80% بھی اتنے کم تو نہیں ہیں۔ کوئی بات نہیں اگر آپ کی توقع سے کم بھی آئے ہیں تو صہیب اگلے سال کے امتحان میں زیادہ محنت کرکے رزلٹ بہتر کر سکتا ہے. یہ کون سا ایسا پریشان ہونے والا مسئلہ ہے جو آپ اس کو اتنا دل پہ لے رہی ہیں۔ صبا کے سمجھانے پر مریم کچھ خاموش سی ہوگئی لیکن یہ کم نمبرز والی بات اسے ہضم کرنا بہت مشکل لگ رہی تھی۔ اسے بار بار یہ خیال ستائے جا رہا تھا کہ وہ اپنی دفتر کی کولیگز کو کیا منہ دکھائے گی بیٹے کے اتنے کم نمبروں کے ساتھ جن کے سامنے وہ اس کی قابلیت کے چرچے کرتی نہیں تھکتی تھی۔

اگر ہم اپنے ماحول میں جائزہ لیں تو اردگرد اس سے ملتی جلتی صورتحال ہمیں اکثرنظر آئے گی۔ جن کے بچے نے اچھے نمبر لئے ہوں گے وہ والدین ہر جگہ ہر محفل میں اسی کا تذکرہ بہت فخریہ انداز سے کرتے نظر آئیں گے اور جن کے بچے کے نمبرکچھ کم ہوں گے ان کا حال مریم جیسا ہو رہا ہوگا۔

ایک طالب علم کے لئے امتحان ایک بہت سخت آزمائش ہوتی ہے اور اس میں اچھے نمبرز لے کامیابی حاصل کرنا ہر سٹوڈنٹ کی خواہش بھی ہوتی ہے لیکن کیا کسی بھی سٹوڈنٹ کی قابلیت کا معیار صرف نمبرز سے لگانا ہی قرین انصاف ہے یا پھر اس میں اور بھی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں؟ والدین کی اکثریت یہ خواہش رکھتی ہے کہ ان کا بیٹا یا بیٹی امتحان میں اچھی پوزیشن حاصل کرے اور اگر انکی توقع سے چند نمبرز بھی کم آ جائیں تو پھر اس بچے کی خیر نہیں۔ اسے تمام گھر والے، رشتہ دار اور دوست احباب طعنے دے دے کر اس کی حوصلہ شکنی کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجہ میں زیادہ حساس بچہ خودکشی جیسا بڑا قدم اٹھانے پر بھی تیار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیمی جرگہ دیامر، ایک مثبت قدم - امیرجان حقانی

ہمارے تعلیمی نظام میں اس قدر بگاڑ موجود ہے کہ اس میں امیر والدین کا نالائق بچہ پیسے یا سفارش کے زور پر کمرہ امتحان میں نقل کرکے یا پھر پیپر چیکر سے رابطہ کرکے مک مکا کے ذریعے بھی کئی پڑھنے والے بچوں سے زیادہ نمبر حاصل کرلیتا ہے۔ پھر سکولز میں سلیکٹیو سٹڈی کروائی جاتی ہے جس میں ہر مضمون کے کئی ابواب پڑھائے ہی نہیں جاتے اور اگر ان میں سے سوال آ جائے تو طالب علم سوائے بغلیں جھانکنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح امتحان میں ہر مضمون کے کئی گروپس بنائے جاتے ہیں۔ ایک گروپ کا پیپر آسان اور دوسرے کا مشکل بھی آ جاتا ہے۔ ان سب عوامل کے ساتھ ساتھ امتحان کی ایک اپنی ٹینشن ہوتی ہے جو ہر بچہ اپنی حساسیت کے لحاظ سے محسوس کرتا ہے۔ کئی تو بہت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور سوال کا جواب یاد ہونے کے باوجود درست حل نہیں کر پاتے۔ پھر اس پر مزید یہ کہ بچے کو والدین کی طرف سے زیادہ نمبر لینے کا دباؤ بھی پریشان کئے رکھتا ہے۔ اگر کلاس کے مضامین کا انتخاب بچے کے اپنے رجحان کی بجائے والدین کی خواہش کے مطابق کیا گیا ہو تو بھی بچہ اپنے ہم جماعتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو پاتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کرنا کیا چاہیے۔ میری رائے میں والدین اپنے بچوں کی خود کونسلنگ کریں۔ اپنے بچوں کی دلچسپی کو جان کر انہیں اپنی پسند کے مضامین سیلیکٹ کرنے دیں، پھر بلاوجہ کی غیر حقیقی توقعات وابستہ نہ کریں۔ بچوں کو ریلیکس رکھیں اگر نمبر کم بھی آئے ہوں تو اسے زندگی موت کا مسئلہ نہ بنائیں۔ کلاس میں ٹاپ صرف ایک سٹوڈنٹ ہی کرتا ہے باقی اکثر ایوریج ہی ہوتے ہیں۔ بچے کے نمبرز کے پیچھے توانائیاں صرف کرنے کے ساتھ ساتھ اسکی شخصیت کی تعمیر اور اس کی تربیت پر زیادہ توجہ دیں تاکہ وہ مستقبل میں ایک اچھا مسلمان اور ایک اچھا پاکستانی بن کر اس معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ زندگی میں کامیابی صرف نمبر زیادہ لینے سے نہیں ملتی اگر ایسا ہوتا تو کم تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگ ملوں اور فیکٹریوں کے مالک کبھی نہ بن سکتے۔ ہم جائزہ لیں کہ دنیا کے مشہور لوگوں میں کتنے ایسے ہیں جنہوں نے سکول ٹاپ کیے اور کتنے ایسے ہیں جن کو سکول میں یہ کہہ کر داخلہ نہیں دیا گیا کہ پڑھائی تمہارے بس کی بات نہیں۔ ہمیں دوسری قسم کے لوگ زیادہ ملیں گے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سٹوڈنٹس پڑھنا چھوڑ دیں یا پڑھائی پر پوری توجہ نہ دیں بلکہ یہ تحریر والدین کی توجہ کے لئے ہے کہ بچوں کو صرف مہنگے سکولوں اور اکیڈمیز کے حوالے کرکے ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وہ روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ خود وقت گزاریں اور ان کو گھر میں پرسکون ماحول مہیا کریں۔ بچوں پر ہر وقت پڑھائی کا بوجھ نہ لادیں بلکہ برضا و رغبت انکو کھیلنے کا وقت بھی دیں۔ نماز کی طرف راغب کریں۔ پانچ وقت نماز ادا کرنے والا مسلمان وقت کی پابندی کی اہمیت کو بخوبی جان لیتا ہے۔ یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ کامیابی صرف معاشرے میں اچھا سٹیٹس یا مال و دولت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اس معاشرے کو ایک سلجھا ہوا مہذب اور مثبت سوچ والا فرد تیار کر کے دینا ہی والدین کے لئے سرمایہ افتخار ہے۔ اور ایسی اولاد ہی ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی اور آخرت میں اصل کامیابی حاصل کرنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگی۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.