بھول یا بھول بھلیاں؟ فرح رضوان

ایک سے بڑھ کر ہر اک کوڑھ مغز
بھنبھناتا ہوا بھنورا ہو یا گستاخ مگس
سب کا کہنا ہے، ہمیں بھول کی ہے بیماری
سینت کے رکھی ہوئی چیز نہ مل پائے کبھی بیچاری
ہم جو کہتے ہیں کہ یہ عمر کا تقاضا ہے
کیا کبھی یوں ہی سہی، گذرے کل میں جھانکا ہے؟
بھول تو تب بھی تھی! جب ہم مدرسے جاتے تھے
کبھی کاپی، کبھی بستہ کجا، رستہ بھی بھول جاتے تھے
یاد آیا کہ ہاں! ڈائری ان دنوں بھی لکھتے تھے
پر ہے کس چیز کا املا، یہ بھول جاتے تھے
ماں سے چھپ چھپ کے املی کھاتے تھے ،
بیج کو بھی چھپایا جائے، بھول جاتے تھے
ماں نے کس بات پہ پیٹا تھا بھول جاتے تھے،
جسم دُکھتا تھا، نصیحت کو بھول جاتے تھے
اب اگر فرق ہے، تو فرق فقط اتنا ہے
پہلے معصومیت تھی، اب عصبیت کا فتنہ ہے
ہم نہیں کُوڑھ مغز، دل پہ کَوڑھ کا ہے اثر
یہاں ہیں سفلی عملیات، کسی سائے کا اثر
یہاں خطا ہے گناہ، سزا ناقابل معافی ہے
کہ ’میرے‘ دل کا ٹوٹنا، نقصان ناتلافی ہے
میرا رتبہ، میرا رشتہ، میری عزت، میری انا
کوئی پہنچائے اسے ٹھیس تو، ہو جائے فنا
ہم نہیں بھولتے باتیں، جو دل پہ بھاری ہوں
نہ عداوت، نہ کدورت یا شکایات کتنی ساری ہوں
محو تو ہوتی ہے غلطی، جو کبھی ہم سے بھی ہو جاتی ہے
بڑی آسانی سے وہ سہو کے زمرے میں چلی جاتی ہے
ہم بھی انسان ہیں، ٹھہرا جو خطا کا پتلا
کسی کو اس فکر میں، نہ چاہیے ہونا دُبلا
ان سبھی معاملوں میں حافظہ تو اچھا ہے
قطع رحمی ہے کیا؟ یہ ہی سبق کچّا ہے
رب سکھاتا ہے ہمیں بھول جاؤ معاف کرو
دل ہے گھر میرا اسے میرے لیے صاف کرو
اور ہم ہیں کہ یہی بات بھول جاتے ہیں
غیر مقبول دعاؤں پہ کڑھتے جاتے ہیں
عارضہ بھولنے کا لاحق، گر ہوگیا مرض نسیان
اس سے بہتر نہیں نعمت واسطے حضرت نادان
شجر تک سوکھے ہوئے پتّوں سے بنا لیتے ہیں کھاد
ہم بشر ہیں --- مگر ہے کام فقط، شر و فساد

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!