سیدہ زینب ؓ بنت رسول اللہﷺ - محمد فہد حارث

اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو چار بیٹیوں کی رحمت سے نوازا جن میں سب سے بڑی سیدہ زینبؓ بنت محمدﷺ تھیں۔ بقول مولف بنات اربعہ علامہ محمد نافع سیدہ زینبؓ اس وقت پیدا ہوئیں جب نبی ﷺ کی عمر 30 سال تھی یعنی نبوت سے 10 سال قبل ۔ آپ کی شادی اپنے خالہ زاد یعنی ام المؤمنین خدیجہ ؓ کے بھانجے ابوالعاص ؓ بن ربیع سے ہجرت سے کافی عرصہ قبل ہوگئی تھی۔ ان ابو العاصؓ بن ربیع کا نام قاسم تھا لیکن یہ اپنی کنیت ابوالعاص سے زیادہ مشہور تھے اور خاندان بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدہ زینب ؓ کو دین کی راہ میں پہنچنے والی تکالیف کی وجہ سے نبیﷺ کو متعدد مواقع پر قلبی رنج پہنچا، مگر سیدہ زینبؓ یا نبی ﷺ کو سیدنا ابو العاص ؓ بن ربیع کی ذات سے کسی قسم کی کوئی تکلیف کبھی نہ پہنچی، بلکہ مختلف مواقع پر ابو العاص ؓ بن ربیع نے کما حقہ حق دامادی ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ بعثت کے وقت سیدہ زینبؓ ایمان لائیں تو ابو العاص ؓ بن ربیع اس شرف سے محروم رہے مگر اس شرف سے محرومی کے باوجود شعب بنی ہاشم میں محصوری کے زمانہ میں آپ بالالتزام اونٹ پر خرما، ستو اور گیہوں لاد کر شعب میں پہنچاتے رہے۔

غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عباس ؓ بن عبدالمطلب کی طرح ابو العاص ؓ بن ربیع بھی گرفتار ہو کر آئے تو سیدہ زینب ؓ نے مکہ سے اپنی والدہ سیدہ خدیجہؓ کا جہیز میں دیا ہوا ہار فدیہ کے طور پر بھیجا۔ نبیﷺ نے جب اپنی محبوب ترین بیوی کا ہار اور محبوب بیٹی کا زیور دیکھا تو جسم اطہر پر رقت طاری ہوگئی۔ آپﷺ نے صحابہؓ سے خواہش ظاہر کی کہ وہ ابوالعاصؓ کو بغیر فدیہ کے رہا کر دیں چنانچہ صحابہؓ نے ایسے ہی کیا۔ آپﷺ نے ابو العاصؓ سے عہد لیا کہ وہ مکہ جاکر سیدہ زینبؓ کو آپ ﷺ کے پاس مدینہ بھیج دیں گے۔

سیدنا ابو العاصؓ بن ربیع نے ایفائے عہد کیا اور سیدہ زینبؓ کو مع اپنے لخت جگر سیدنا علی بن ابی العاصؓ اور سیدہ امامہ بنت ابی العاصؓ کے، اپنے چھوٹے بھائی کنانہ بن ربیع کی معیت میں مدینہ کے لیے رخصت کر دیا۔ کنانہ نے سیدہ زینبؓ کو اونٹ پر سوار کیا، اپنے قوس و ترکش ساتھ لیے اور سواری کو کھینچتے ہوئے آگے آگے چلنے لگے۔ اہل مکہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے پیچھا کیا اور وادی ذی طویٰ پر جاکر ان لوگوں کو پا لیا۔ سیدنا ہبار بن الاسود ؓ جو کہ اس وقت اسلام نہیں لائے تھے، آگے بڑھے اور اپنے نیزے کی نوک سے سیدہ زینبؓ کو کچوکا لگا کر زخمی کردیا اور اونٹ سے گرا دیا۔ آپؓ اس وقت حاملہ تھیں، مجروح ہوجانے کے باعث خون جاری ہوگیا اور حمل ضائع ہوگیا۔ اس اثناء میں کنانہ بن ربیع نے اپنا ترکش کھول کر معارضہ کرنے والوں پر تیر اندازی شروع کر دی اور کہا کہ جو بھی قریب آئے گا، اس کو تیروں سے چھلنی کردوں گا۔ زخمی ہونے کی وجہ سے زینب ؓ واپس مکہ لوٹ گئیں اور کچھ عرصہ بعد پھر مدینہ کا عزم کیا۔ قریش نے پھر روکنے کی کوشش کی تو ابوسفیان ؓ کی بیوی جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئی تھیں، مانع ہوئیں اور کہا کہ تم کو کیا پڑی ہے، اگر ایک عورت اپنے باپ کے پاس لوٹ جائے سو کنانہ بن ربیع کی معیت میں زینبؓ کو زید ؓ بن حارثہ کے پاس پہنچا دیا گیا جو کہ ان کو لینے مدینہ سے آئے ہوئے تھے۔ جب زیدؓ بن حارثہ نے زینب ؓ کو نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچا دیا تو بےاختیار نبی ﷺ کی زبان سے اپنے داماد ابو العاصؓ بن ربیع کے لیے الفاظ نکلے کہ اس نے میرے ساتھ گفتگو کی اور سچ کہا اور اپنا وعدہ پورا کیا. (صحیح بخاری)

ڈھائی سو میل کا سفر طے کرکے نہایت بےکسی کی حالت میں سیدہ زینبؓ جب نبیﷺ کے پاس پہنچیں تو پاؤں زخموں سے لہولہان تھے، کپڑے تار تار تھے اور سفر کی صعوبتوں سے نڈھال تھیں۔ اور یہ ساری مشکلیں آپ ؓ پر اسلام اور بنت رسولﷺ ہونے کی خاطر وارد ہوئی تھی۔ آپؓ کی حالت زار دیکھ کر نبیﷺ نے فرمایا: ھی افضل بناتی اصیبت فی (مجمع الزوائد جلد 9 ص 213، دلائل النبوۃ جلد 2 ص 426) یعنی ’’میری بیٹیوں میں زینبؓ سب سے افضل ہے، جو میری وجہ سے مصیبت زدہ ہوئیں اور انہیں اذیت دی گئی‘‘۔

کچھ دنوں کے بعد سیدنا ابو العاصؓ بن ربیع کا تجارتی قافلہ ابو جندلؓ اور ابو بصیرؓ کے ہاتھوں لٹ گیا۔ ابوالعاصؓ بن ربیع قافلے والوں سے گریز کرتے ہوئے قافلہ سے قبل مدینہ پہنچ گئے اور زینبؓ کے ہاں پناہ لی۔ نبی ﷺ نے زینبؓ کی پناہ کا احترام کیا اور ابو العاصؓ بن ربیع کا لوٹا ہوا مال ان کو واپس دلوایا۔ ابو العاصؓ تجارتی مال لیکر واپس مکہ لوٹ گئے اور مکہ پہنچ کر سب کو ان کا مال لوٹا کر اعلان فرمایا کہ ’’اے جماعت قریش! کسی کا مال میرے پاس رہ گیا ہے‘‘، سب نے کہا کہ ہمارا کوئی مال آپ کے پاس نہیں رہ گیا، اللہ تم کو جزائے خیر عطا فرمائے، ہم نے تمہیں بڑا شریف اور وفادار پایا۔ اس کے بعد ابو العاصؓ بن ربیع نے اپنے اسلام کا اعلان کیا اور مدینہ لوٹ کر نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے زینب ؓ کو نکاح اول پر ہی ابو العاص ؓ کی طرف لوٹا دیا۔ (البدایہ و النہایہ جلد 3 ص 332)

اب سیدہ زینبؓ کے لیے آرام کے دن آئے تو زندگی نے زیادہ وفا نہ کی۔ مکہ سے مدینہ سفر کرتے ہوئے ہبار بن الاسودؓ کے نیزے سے جو زخم آپ کو لگا تھا، وہ اس وقت تو مندمل ہوگیا تھا لیکن عرصہ دراز بعد پھر کھل گیا اور یہی زخم وفات کا موجب بنا. وفات 8 ہجری میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔