ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے - اشفاق پرواز

جنوبی ایشیا دنیا کے خطرناک خطوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہاں دو ایٹمی قوتیں واقع ہیں، اور دونوں کے باہمی تعلقات ہمیشہ ناخوشگوار بلکہ خطرناک حد تک کشیدہ رہتے ہیں۔ جنگیں، تنازعات اور جھڑ پیں یہاں کا معمول ہیں۔ دونوں ممالک اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتے ہیں جبکہ دونوں ملکوں کے عوام کو سوائے غربت اور بے بسی کے کچھ حاصل نہیں۔ یہ تو ہیں خطے کے حالات لیکن ان حالات کا اگر ایماندارانہ تجزیہ کیا جائے تو نتیجہ یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ کشمیر ہے۔ وہ کشمیر جو مسلمان اکثریتی ریاست ہے لیکن اسے کسی نہ کسی طرح بھارت نے ہڑپ کر لیا ہے اور یوں مسلمان ریاست کو ہندو مملکت کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ لیکن اس فیصلے کو ظاہر ہے کہ یہاں کے عوام نے ہمیشہ سے یکسر مسترد کیا ہے۔ اس وجہ سے یہاں ایسی جنگ مسلط ہے جو کبھی گرم تو کبھی سرد غرض کہ ہر وقت جاری و ساری رہتی ہے۔ باوجود اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے، بھارت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار نہیں۔

کشمیری عوام 70 سال سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور مسلسل اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ چونکہ یہ ظلم و ستم بھارت کے ہاتھوں ہو رہا ہے اس لیے عالمی طاقتوں کی آنکھوں سے یہ ریاستی دہشت گردی آج بھی اوجھل ہے۔ اس طرح سے جدید دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ہم کشمیریوں کا خون پانی کی مانند بہہ رہا ہے۔ ہماری بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کی عصمتیں پامال کر دی گئیں اور آج بھی پامال ہو رہی ہیں۔ خواتین کی بےحرمتی کی جاتی ہے جبکہ سینکڑوں افراد کو اغوا کر کے ہمیشہ کے لیے لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ ان لا پتہ افراد کی فہرست کی طوالت سے نہ بھارتی حکومت ہلی اور نہ عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک رینگی۔ خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوں تو بھارتی حکومت کے لیے ان پر ظلم و تشدد کی انتہا کر نا آسان سا ہو جاتا ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے یہاں فوج کو اتنے لامحدود اختیارات حاصل ہیں کہ جن کے تحت وہ کشمیریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے بلاشرکت غیرے مالک ہیں۔ انہیں آرمڈ فورسزسپیشل پاور ایکٹ (AFSPA) کے تحت ایسے اختیارات دیے گئے ہیں کہ کشمیری عوام ان کے سامنے انسانوں کے درجے سے اُتر کر جانوروں سے بدتر ہوگئے ہیں کہ ان کے مظالم پر فریاد کرنے کا حق بھی نہیں رکھتے۔ اب جو فریاد کرنے کی جسارت کرتے ہیں تو ان کو دوسرے ظالمانہ قوانین جیسے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت غیرمعینہ مدت تک پابند سلاسل کر کے بےانتہا ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ صدائے احتجاج بلند کرنے اور انصاف کی خاطر عوام عدالت سے رجوع کرتی ہے تو نااُمیدی کے سوا اس کے ہاتھ کچھ نہیں لگتا ہے۔
وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کے کالے قانون نے اُن فوجیوں کو مزید کشمیریوں کے قتل عام کے لیے آزاد چھوڑ دیا ہے جنہیں کشمیر ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کی پامالیوں کی پاداش میں سنگین مجرم قرار دیا تھا۔ اس بات سے شاید ہی کسی کو کوئی تردد ہو سکتا ہے کہ یہاں کے فوجی اور نیم فوجی دستوں کو ترقیاں اور انعامات زیادہ سے زیادہ کشمیریوں کے قتل عام پر دیے جا رہے ہیں۔گویا کہ قانون کے رکھوالے جو بظاہر انسانی زندگیوں اور جان و مال کی حفاظت پر مامور ہیں، درحقیقت یہاں کے عوام کے خون کے پیاسے ہیں اور قتل عام کا لائسنس اپنے ہاتھوں میں لیے پھرتے ہیں۔
امن و امان کی باتیں جو کرتے تھے ہر طرف
نکلے انہی کے پاس سے خنجر لہو لہو

ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کےلیے فوج کو قانون سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ ہندوستان جو عصرِ حاضر کی معروف ترین جمہوریت کا دعویٰ کرتا ہے، نے یہ بات اعلانیہ طور کہہ دی ہے کہ ہماری فوج کشمیریوں کو کسی بھی وقت گولی کا نشانہ بنائے یا اپنی ہوس کا، اسے AFSPA کی صورت میں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ غرض کہ اس کالے قانون نے فوج کے ہاتھوں معصوم لوگوں کے قتل عام کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ یعنی بہ الفاظ دیگر ’’بےخوف ہو کر اپنا کام کیے جاؤ‘‘۔

بھارتی حکومت اور فوج نے عدالت کو یوں پابند کر رکھا ہے کہ وہ کشمیر میں فوجیوں کے کسی بھی اقدام کی سرزنش تک نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کشمیر کو عدالت سے کوئی امید نہیں۔ اگرچہ ہمارے علیحدگی پسند رہنما عالمی برادری سے وقتاً فوقتاً مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مداخلت کرنے کی اپیل کرتے رہتے ہیں تاہم ان کی آواز صدا بصحرا ہی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ عالمی برادری کے بہت سارے مفادات بھارت سے وابستہ ہیں۔ عالمی برادری اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ بھارت ان کی مصنوعات کی بڑی منڈی ہے اور ساتھ ہیان کے اسلحے کا بڑا خریدار بھی ہے۔ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہوتا ہے تو بھارت اور پاکستان کے مابین دوستانہ ماحول عروج پائے گا، اور جب تنازعات نہ رہیں گے تو جنگ کہاں ہوگی؟ اور عالمی برادری کا اسلحہ کہاں بکے گا؟ 1947ء سے تا دم تحریر کشمیر میں معصوم عوام کا خون ناحق بہتا آیا ہے۔ نہ جانے یہ خون کی ہولی کب اختتام کو پہنچے گی۔
؎
پنجہ ظلم و جہالت نے بُرا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بال کیا
توڑ اس دست جفا کیش کو یارب جس نے
روحِ آزادی کشمیر کو پامال کیا