آرزو – محمد علی نقی

یاسمین گارڈن کے ایک بینچ پہ بیٹھی آرزو اپنے تخیلاتِ منتشرہ کو مجتمع کرنے میں محو تھی کہ ہر آنے جانے والا اسے بھونڈی نگاہ سے دیکھ رہا تھا. آرزو کسی جوالا مکھی سے کم نہ تھی، ہرن نما آنکھیں،گوری رنگت پر ظاہری میک اپ کی ضرورت نہ تھی. اسلامی یونیورسٹی میں چوتھے سمسٹر کی طالبہ آرزو کا والد کرم خان تعلیم نسواں کا سخت مخالف تھا، لیکن خدا جانے وہ آرزو پر کیسے مہربان ہوگیا، اپنے دوست عاطف خان کا مشورہ کہ تمھاری بچی بہت لائق ہے اور پڑھنے کا بہت شوق رکھتی ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر اسے اعلیٰ تعلیم کسی ایسے ادارے میں دلوائی جائے جہاں مخلوط نظام تعلیم کی لعنت نہ ہو. بعد ازاں اسلامی یونیورسٹی کو بہترین انتخاب سمجھتے ہوئے اسے وہاں داخل کروا دیا گیا۔

آرزو خان ابتدا میں اپنی مذہبی تعلیمات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی رہی اور پابندی صلاۃ و برقعہ میں کوئی کوتاہی نہ برتی لیکن جوں جوں وہ اپنے اردگرد کی آزاد دنیا کو دیکھتی تو اس کے دل میں بھی حسرت پیدا ہوتی، کاش!! گو کہ یہ آزادی اسے نصیب نہ ہوئی تھی لیکن اب وہ آزاد دنیا میں سانس لینے میں لطف محسوس کر رہی تھی، ابتدا میں برقع سے سکارف کا سفر طے کرنے میں تین ماہ لگے۔ شروع شروع میں اپنی سہلیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے جاتی، رفتہ رفتہ اس سہارے کی بھی ضرورت نہ رہی، اور تنہا سیر و سفر کو بھی معیوب نہ سمجھتی۔

وہ تخیلات کی دنیا میں گم تھی کہ نوجوان ’’بات کرنی مجھے مشکل‘‘ گنگناتا ہوا گزرا اور اس سے نگاہ لڑائی، آرزو نے تخیل توڑ کر نگاہیں نیچی کر لیں، پھر نگاہ ملا کر ہلکا سا مسکرا دی، مسکراہٹ دیکھی تو نوجوان نے عجلت سے کام لیتے ہوئے سلام کہہ دیا، اب آرزو پر واجب تھا کہ وہ بھی وعلیکم السلام کہتی۔ جواب دیتے ہوئے وہ شرما سی گئی.
نوجوان ہم کلام ہونے کے بہانے ڈھونڈنے لگا کہ اتنے میں آرزو نے ہمت کر کے خود ہی نام پوچھ لیا تو نوجوان ’رضوان‘ کہہ کر کچھ لمحے کے خاموش ہوا، اور پھر جواباً آرزو سے اس کا نام پوچھ لیا۔

آرزو کی زندگی کا پہلا واقعہ تھا جب وہ کسی نامحرم سے یوں ہم کلام ہوئی، اب وہ اپنے ماضی سے نکل کر ایک نئی سمت میں جارہی تھی. اس واقعہ نے دونوں میں دوستی پیدا کر دی، اک دوسرے کے رابطہ نمبر حاصل کر لیے گئے، اب راتوں کا گفتگو میں گزرنا معمول بن گیا، بالآخر بات محبت تک جا پہنچی۔

رضوان اور آرزو میں ملاقاتیں معمول کا حصہ بن گئیں۔ دونوں نے گھر والوں سے بات کرنے کے بارے میں سوچا، رضوان کے لیے بات کرنا زیادہ مشکل نہ تھا لیکن آرزو کے لیے سخت امتحان تھا. لڑکی ہونے کے ناطے آرزو نے ماں سے فون پر ذکر کیا تو کرم الدین کے گھر قیامت مچ گئی، مشتعل ہو کر اس نے آرزو کو قتل کرنے کی دھمکی دے ڈالی. آرزو کی ماں خوف کے مارے خاموش رہی لیکن آنکھوں سے آنسو نہ رک سکے۔

رضوان نے اس مسئلہ پر جب اپنے والد سے بات کی تو مثبت جواب نہ ملا، سیخ پا ہو کر انھوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ تیری بیوی بنی تو میں تجھے عاق کر دوں گا اور عمر بھر تیری شکل تک نہ دیکھوں گا۔

کرم الدین گھر سے نکلا تو آرزو کی بہن نے فون پر سارا ماجرا سنایا کہ قتل کا عزم مصمم کر لیا ہے. یہ سنتے ہی آرزو کا رنگ خوف کے مارے پیلا پڑ گیا، اس نے رضوان کو آگاہ کیا، اس سے پہلے کہ کوئی وہاںپہنچتا، رضوان آرزو کو بھگا لے گیا اور اس سے نکاح کر کے نئی زندگی کی ابتدا کر دی۔ دونوں اپنے اپنے گھروں سے تو بےدخل ہوچکے تھے لیکن نئے گھر کی ابتدا کر کے خوش تھے۔

تعلیم کو خیرباد کہہ کر دونوں ازدواجی زندگی میں آگئے. رضوان ایک دفتر میں کلرک کی نوکری کرنے لگا. کرائے کے مکان میں گزر اوقات مشکل ہو رہی تھی کہ سال بعد آرزو ایک بچی کی ماں بن گئی. بچی پیدائشی دل کے سوراخ کا مرض لیے پیدا ہوئی۔ جہاں آرزو کو ماں اور رضوان کو باپ بننے کی خوشی تھی وہیں بیٹی کی بیماری کا صدمہ بھی اندر اندر سے کھائے جا رہا تھا۔ کچھ عرصہ گزرا کہ قدرت کو ایک اور امتحان مقصود تھا. رضوان گردوں کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور رفتہ رفتہ نوبت فاقوں کے قریب آگئی، اتنی رقم نہ تھی کہ علاج کروایا جاسکے۔

دوسری طرف عمران انسانیت کا درد رکھنے والا اک صاحب کردار انسان تھا، اس نے کبھی کوئی لڑکی بری نگاہ سے نہیں دیکھی تھی، اس کے اس دعویٰ پر اس کے دوست حیران تھے کہ یہ انسان نہ ہوا کوئی فرشتہ ہوا۔ عمران کے حلقہ احباب میں سب عیاش اور حسن پرست تھے. ایک دن ایک دوست نے اس سے پوچھا کہ اگر تمہارے سامنے کوئی لڑکی اپنی آزاد باہیں لے کر آئے تو کیا ردعمل دکھاؤ گے تو اس نے فوراً جواب دیا کہ میں اپنی نگاہیں نیچی کر لوں گا. محفل خوب جمی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی اندر سے آواز بلند ہوئی دروازہ کھلا ہے، اندر آ جاؤ. اک حسین لڑکی کو داخل ہوتا دیکھ کر عمران اپنے جوش مردانگی کو قابو میں نہ رکھ سکا. لڑکی کو کمرے میں بلا کر وجہ پوچھی تو مردہ زبان سے آواز آئی
’’شوہر بیمار ہے، بچی کے دل میں سوراخ ہے، اور علاج کروانے کے پیسے نہیں ہیں.‘‘

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam