ایمان کے تقاضے اور کفار سے مطالبات - ابن حجر

کیا ایمان کے تقاضے کفّار سے مطالبات کر کے پورے کیے جاتے ہیں؟

آئیے ایک مثال سے سمجھتے ہیں.
کبھی گھر جاتے ہوئے راستے میں کوئی آوارہ کتا آپ پر بھونکنا شروع کر دے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ کیا آپ اس کتے کو بھونکنے کے مضر اثرات پر لیکچر دیں گے؟ یا اس سے مکالمہ شروع کر دیں گے اور کھڑے اس سے الجھتے رہیں گے؟ ان آوارہ اور باؤلے کتوں سے نمٹنے کے دو ہی طریقے ہیں:
1- عملی سدباب اور ان پر کنٹرول
اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو:
2- ان سے دامن بچانا، نہ کہ ان سے الجھنا شروع کر دینا

آپ یہ جان لیں کہ جس طرح کوئی شخص آوارہ کتوں کے غول سے الجھنا شروع کر دے تو اس شخص کی اپنی عقل مشکوک ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح کسی شخص کا ڈھٹائی سے توہین اسلام اور توہین رسالت ﷺ کرنے والے کفّار سے الجھتے رہنا اور جواب میں ان سے اللہ سبحانہ تعالیٰ، دین اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی بابت توہین کرواتے رہنا انتہائی غیر دانشمندانہ بات ہے. کیا بغض کے مارے اور بدکاری کے رسیا کفّار ہمارے خالص ایمانی مطالبات کبھی بھی مانیں گے؟ ہرگز نہیں.

جب تک مسلمان بذریعہ طاقت کفّار پر غلبہ نہیں پا لیتے تب تک ہمیں ان میں یہ آگاہی پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ’’ہم رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس سے بہت محبت رکھتے ہیں، اس لیے براۓ مہربانی آپ ان کی شان میں گستاخی نہ کریں.‘‘ وہ اس لیے کہ حزب الشیاطین سے حق کی توقع عبث ہے اور ان کا ڈنڈا پیر ہے.

ہم مسلمانوں کے کرنے کا کام ہے طاقت کے سرچشموں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور اس کوشش کے دوران اپنے حکمرانوں کو دباؤ میں لانا کہ وہ اخلاقی، دینی اور قانونی تقاضے پورے کریں، اور اس کام کے لیے ہمیں انگریزی زبان میں آگاہی پھیلا کر کفّار کو بھونکنے کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہے. اپنی کمزوریاں اپنے دشمنوں پر ظاہر کرنے سے دشمن کو اذیّت دینے کے نت نئے آئیڈیاز ہاتھ آ جاتے ہیں.

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ یہ سمجھنے کے لیے ایک اور مثال:
فرض کریں آپ ملک سے باہر کہیں مقیم تھے اور آپ اپنی والدہ اور جوان بھائیوں کے لیے اپنے وطن پیسے بھی بھیجا کرتے تھے، آپ کے بھائیوں کا کام تھا کہ وہ گھر اور والدہ کی حفاظت و خدمت کرتے. پھر ایسا ہوا کہ پاکستان واپسی پر آپ کو خبر ملی کہ پچھلے کافی عرصہ سے کوئی بدکردار شخص آپ کے جوان بھائیوں کی موجودگی میں آپ کی والدہ کے خلاف انتہائی بیہودہ زبان استعمال کرتا رہا اور آپ کے گھر کی بیرونی دیواروں پر بھی بیہودہ باتیں لکھ جاتا تھا. آپ کا پہلا ردعمل کیا ہوگا؟ اس بد کردار شخص کی خبر لینا؟ یا پھر آپ ایسا کریں گے کہ محلے کے اوباشوں کے پاس جا کر یہ مناظرے کرتے پھریں گے اور انھیں یہ سمجھاتے پھریں گے کہ وہ آپ کی ماں کے بارے میں بہتان نہ پھیلائے کیونکہ آپ کی ماں ایک پاکباز عورت ہے؟ ہرگز نہیں، سب سے پہلا کام تو ہوگا اپنے جوان بھائیوں کی خبر لینا کہ جب ان کی ماں کو گالیاں پڑ رہی تھیں تو وہ بےغیرت ستو پی کر بیٹھ کیوں رہتے تھے؟

آپ اپنے ٹیکسوں پر پلنے والے اور آپ کے مال پر لُٹ مچانے والے حکمرانوں کی خبر لینے اور ان کو پوچھنے کے بجائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ خود ہی ادھر ادھر اوباشوں سے شکایات کرتے پھر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں گندی زبان استعمال کر رہے ہیں؟
براہ مہربانی ہمارے مخلص مسلمان اپنی توپوں کا رخ اپنے حکمرانوں کی جانب کریں اور ان کی غیرت نہ سہی، ان کو ووٹوں کے لالچ میں ہی ان پر دباؤ ڈالیں کہ وہ آپ کے جذبات کی ترجمانی کریں، ورنہ اوباش کفّار سے مناظرے کرکے گالیاں سننے کے بجائے بذریعہ ووٹ اپنے ان حکمرانوں کی لُٹیا ڈبونے میں اپنا زور صرف کریں، لیکن افسوس یہاں تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان حکمرانوں کے دفاع میں گالیاں دینے میں مصروف ہیں، جہاں مسلمانوں نے اپنی غیرت سے عاری اور اخلاقی مالی طور پر کرپٹ حکومتی پارٹیوں کو اپنا خدا بنا لیا ہو، وہاں کفّار کیوں نہ مزے سے دندناتے پھریں.

یاد رکھیں! اگر مسلمانوں کا معاشرہ طاقتور ہوگا اور ان کے حکمران غیرت مند ہوں گے تو مسلم ریاست بھی طاقتور ہوگی، اور ایسی طاقتور ریاست کے اقدامات ہی پائیدار نتائج دے سکتے ہیں، سفارتی صورت میں یا عسکری صورت میں. ریاستی سطح پر کیے گئے ٹھوس انتظامات کا کوئی نعم البدل نہیں، اور اس کے لیے اچھے حکمران ہونا بنیادی شرط ہے.