سیکولرازم، خوشحالی کا نظریہ یا خوش فہمی؟ ابو انصار علی

سیکولرازم کے بارے آپ کا خیال ہے کہ یہ خوشحالی کا سرچشمہ ہے، تو آپ بھولے بادشاہ ہیں۔ سیکولرازم سیاسی فلاح کا ضامن ہے، تو یہ بھی آپ کی خوش فہمی ہے۔ اگر یہ سوچتے ہیں کہ معاشی ترقی کا ہر زینہ اسی کے سرمایہ دارانہ نظام کی راہداری سے گزرتا ہے، تو آپ کا یہ اندھا اعتماد ہے جو آپ کو یقینا اوندھے منہ گرائے گا۔ ساتھ ہی ذہن کے کسی خانے میں یہ بات بیٹھی کہ اس کا اخلاقیات کے کیا کہنے، تو اسے اپنی مت ماری جانا سمجھیں۔

جناب من ! اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سیکولرازم کے متعلق آپ کی رائے مبنی بر اصول اور ہمارا خیال مبالغہ آرائی اور تہمت زنی ہے، تو اس پر دو اور دو چار کی طرح صاف صاف بات کیے دیتے ہیں۔ ویسے ہمارا خیال تھا کہ آج بات سیکولرازم کے گھر سے شروع کریں اور بتائیں کہ امریکہ اور یورپ میں کیا کچھ ہوا؟ کس نوعیت کی فکری اور عملی وارداتیں ہوئیں اور اب ماحول کس نہج پر پہنچ چکا ہے؟ لیکن پاکستان کیونکہ اپنی ابتداء سے سیکولرز کی’ نظر کرم‘ کا محور و مرکز بنا ہوا ہے تو بات یہی سے چھیڑتے ہیں۔

آپ کے خیال میں چار موسم، بڑی سمندری حدود، بہترین کھیت، ہر اقسام کی فصل اور محنتی اور پرعزم لوگ یہ سب پاکستان کا حصہ ہیں، ان کا ادب لاثانی، مٹی کی محبت سے پر الفاظ، لافانی پیرایہ اظہار اور اپنے آبا سے’نسبت روحانی‘ نے اس کی’تہذیبی‘ گود کو کبھی بانجھ ہی نہیں ہونے دیا، لیکن ہم آج بھی پچھڑے ہوئے کیوں ہیں؟ کامیابی کے تمام لوازمات سے پر ہونے کے باوجود ہم فقیر کیوں؟ غلام کیوں؟ اپنی ترقی کے لیے دوسرے کی پھینکی ہڈی کی طلب گار کیوں؟ امریکا، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک ،ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور اب چین کے آگے دم ہلانے کا سبب؟

وجوہات کی دنیا طویل ہے، دلائل کی فہرست اس سے بھی طویل تر، لیکن اس خرابی میں مضمر اثرات پر ایک نظر دوڑائی جائے تو نتائج کا اشارہ۔ سیکولر، لبرل اور قوم پرستوں کی جانب ہی کیوں؟ اب تازہ تازہ مثالیں ہی دیکھ لیں، 480 ارب روپے کی کرپشن کا الزم ہے اور بندے کی ضمانت منظور، 5 ارب کی کرپشن کے الزام میں فورسز ڈھونڈ رہی تھیں، اور اب پورا پروٹوکول دے رہی ہیں، ڈالر بیرون ملک منتقلی کی کوشش میں دھری گئی اور اب مزے سے بھرپور زندگی ہے، دوسرے ممالک میں فلیٹ اور فیکٹریاں نکل رہی ہیں اور محل برآمد ہو رہے ہیں، اور یہاں ’مولا جٹ‘ کے لہجے میں للکاریں لگ رہی ہیں۔ یہ سب کرنے والے سیکولرز ہیں، جن پر ملک کی دولت لوٹنے اور اس میں بسے انسانوں کے حقوق پر ڈاکے کی ’رپٹ‘ درج ہے، ان میں سے ایک فیصد کرپشن کا شائبہ بھی کسی اسلام پسند میں نظر آتا تو اس کے لیے جائے قیام؟ توبہ کریں۔۔ جی!

ملک کے 70 برس میں 52 سے زائد برس ہوگئے، ان سیکولرز کےا قتدار کو مگر ملک ہے کہ اب بھی خود کفیل و خود انحصار ہوا اور نہ ہی لڑکھڑے کی عمر سے نکل سکا، اس پورے منظرنامے کو سیکولرازم کی خامی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ اسی فکر دور اقتدار میں لاکھوں انسانی جانیں خاک ہوئیں، لاکھوں انسانی جانوں کا معاشی قتل ہوا، سیاسی زوال اتنا گہرا ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں موجود اور باہرکھڑی اپوزیشن جماعتیں بھی انتخابی عمل کی شفافیت سے نالاں ہیں، سیکولرز نے اپنی نااہلی کی ایسی ایسی داستانیں رقم کی، الامان و الحفیظ۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیں، دو بڑی جماعتوں کی دو بڑے صوبوں میں گزشتہ 8 برس سے حکومتیں ہیں، ترقی کے دعویٰ دونوں جانب سے بھرپور ہیں، لیکن کل اگر ایک صوبے کے دارالحکومت میں بارش ہوجائے تو وہ وینس کا منظر پیش کر رہا ہوگا اور وزیراعلیٰ’لانگ شوز‘ میں ہدایات نامے جاری کر رہے ہوں گے۔ دوسرے صوبے کے بڑے شہر کا نام نہ لیں، صرف ’کچرا‘ کہہ دیں تو بات سب کو پوری سمجھ آجائے گی۔

بھتہ، بوری بند لاش، انتخابی مراکز پر قبضے اور مخالفین کی زبان بندی، پاکستان کی تخلیق کو غلطی، بھارت سے معاونت کی اپیلیں اور چند دیگر الفاظ اگر لکھ دیےجائیں تو آپ کے سامنے سیکولر، لبرل اور روشن خیال پاکستان کا چمکتا دمکتا چہرہ سامنے آجائے گا، جمہوریت اتنی پاک ہے کہ اس میں’آمر‘ کا چہرہ بھی خوب نظر آتا ہے۔

ان سیکولرز کی فہرست میں خیبرپختونخوا کا صرف نام پانے کا کارنامہ کرنے والی جماعت بھی ہے، جس کے آباؤ اجداد کی پاکستان سے محبت اتنی لازوال تھی کہ وہ دفن بھی جلال آباد میں ہوئے اور ہر بار کوشش کی کہ فکری انقلاب کا راستہ روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر عبور کیا جائے۔ یہ سیکولر فکر کے لوگ ہی تو ہیں جن سر پر جوں تک نہیں رینگتی، اگر جامشورو (سندھ) میں واقع 3 بڑی جامعات میں ’قومی ایام (14اگست، 23 مارچ، 6 ستمبر و دیگر) پر پاکستانی پرچم نہیں لہرایا جاتا رہا، یہ خاموش ہوتے ہیں جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانیت ہدف بنتی ہے، لیکن شور مچتا ہےتو اس بات پر کہ یونیورسٹی نےحلف نامہ کیوں لیا؟ وہ بھی قواعد کی و ضوابط کی خلاف ورزی پر؟ سیکولرز اس پر ٹھاٹھیں مار کر یہ نہ کہے تو اور کیا کہے کہ جناب یہ قواعد و ضوابط تو ہوتے ہی توڑے جانے کے لیے ہیں۔

معاشی ترقی کی زبان میں بات سمجھنا چاہتے ہیں، تو یہ بات سمجھ لیں کہ ترقی کا منصوبہ بعد میں تیار ہوتا ہے، کس رشتے دار اور عزیز کو اس سے کتنا فائدہ پہنچانا ہے، یہ پہلے طے پاجاتا ہے، میٹرو بنے گی، ضرورت ہے کہ نہیں، یہ بعد میں دیکھیں۔ لیپ ٹاپ بانٹ دو، کمیشن سائیڈ کرو، پل بناؤ، سریا بجری اور دیگر مٹیریل من پسند جگہ سے لو، دوستوں کو فائدہ پہنچاؤ، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ الزامات ہیں، تو آپ خود ہی جائزہ لیں، اس سے فائدہ مند ہونے والی کی فہرست سب کچھ کھول کر رکھ دے گی۔

محبت، رواداری اور احترام جیسے الفاظ سے خود کو مزین سمجھنے والے سیکولرز کو اپنی ذات پر، عزیز اقارب پر ایک لفظی حملہ بھی برداشت نہیں، لیکن ان کی صفوں میں بیٹھے عناصر رسول ﷺ کی ذات اقدس پر رقیق حملے کرتے ہیں اور اپنا حق اظہار رائے مانگتے ہیں، ان کے لیے احتجاج بھی کرتے ہیں، ان کی بیرون ملک منتقلی اور پناہ میں معاون و مددگار بھی بن جاتے ہیں اور پھر خود کو عملی لحاظ سے اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر براجمان کرتے ہیں۔ ان کی زبان درازی سے اصحاب رسولؓ محفوظ ہیں اور نہ ہی امہات المومنینؓ، ان کے حملوں کی زد میں علامہ اقبالؒ بھی آتے ہیں اور قائداعظم محمد علی جناح ؒبھی، ان کا ہدف تنقید قائد ملت لیاقت علی خانؒ اور مولانا شبیر عثمانی صاحبؒ بھی بنتے ہیں. انہوں نے نشانے پر مولانا مودودی کو بھی لے رکھا ہے اور نسیم حجازی کو بھی۔ ساتھ ہی انہیں پسند آتے ہیں تو ’کوتلیاچانکیہ، ہٹلر، لینن، ماؤزے تنگ، بش، اوباما، اور ٹرمپ جنہوں نے انسانیت کو روند ڈالا۔