دلِ بسمل از صدف زبیری - سہیل بشیرکار

فن پارہ کسی مخصوص صنف کے فنی اور جمالیاتی تقاضوں کے مطابق وجود میں آئے تب ہی فن پارہ کہلانے کا سزاوار ہوتا ہے۔ یہ مفروضہ، ادب و فن سے متعلق ہماری روایتی سوچ اور معیار کا زائیدہ ہے، لیکن آج نئی معاشرت اور ثقافت کی پیدا کردہ نظریاتی تکثیریت کے دور میں چونکہ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب و فن کی تخلیق و تنقید سے لے کر قبولیت اور ارتداد تک، قلم کار اور قاری کے رویے کہیں زیادہ آزادی، فطری اور بےمحابہ ہوگئے ہیں۔ اس لیے عالمی پیمانے پر تمام تہذیبوں، معاشروں اور زبانوں کے اندر ادب اور ادبی اصناف کی شعریات بھی وحدانیت اور ادعائیت کو رد کرکے تکثیریت اور آزادی کی طرف مائل ہیں۔ چنانچہ آج ادب و فن میں کسی بھی صنف کے مروجہ امتیازات ٹھوس اور جامد نہ رہ کر سیال اور متحرک ہوگئے ہیں۔

افسانہ زندگی کے حقائق کے تخلیقی اظہار کا نام ہے۔ دلِ بسمل صدف زبیری کے افسانوں اور افسانچوں کا مجموعہ ہے۔ صدف زبیری فیس بک کی مشہور لکھاری ہیں۔ مختصر جملوں میں حالات و واقعات، اور معاشرتی خرابیوں کا اظہار برملا اور برمحل کرتی ہیں، میں ہمیشہ اس تجسس میں رہا کہ آخر صدف کی مختصر الفاظ میں اس طرح کی معاشرتی عکس بندی کا راز کیا ہے؟ یہ راز ان کی زیرتبصرہ کتاب کا مقدمہ پڑھتے ہی افشاء ہوا، صدف زبیری کتاب کے مقدمہ میں رقمطرازہیں:
’’میں نے سوچا ایک کہانی لکھوں جو پہلے کبھی نہیں لکھی گئی ہو۔ رضیہ بٹ نے سرگوشی کی اوں ہوں ’ندامت‘ اٹھاؤ گی، ہاجرہ مسرور نصیحت کو آئیں’آنگن‘ کی بات چوراہے پر نہ کرنا، دہلیز پر عصمت چغتائی کھڑی تھیں ہنس کر بولیں’لحاف‘ کو دھوپ لگانی ہو تو دیوار پر ڈالنا ہی پڑتا ہے، نکڑ پر منٹو سے ملاقات ہوئی، ارادہ جان کر فکرمند ہوگئے، یہ ’گنجے فرشتے‘ تمھیں جینے نہیں دیں گے۔ ہانپتی کانپتی لائبریری تک پہنچی، کتابوں میں گم جمیلہ ہاشمی نے دھیرے سے سر اٹھایا، باریک ’دشتِ سوس‘ پھانک لوگی؟ سامنے بیٹھے مفتی جی نے آنکھ ماری، ایلی کی انگلی پکڑو اور علی پور کا چکر مارو پہلے! گھبرا کر لائبریری سے باہر نکلی تو’آگ کے دریا‘ کے پار قراۃ العین حیدر کو گم صم بیٹھے پایا، اب میں وقت کے چوراہے پر تنہا کھڑی ہوں، نیچے سڑک پر کرشن چندر بیٹھے اپنا ’جوتا‘ گانٹھ رہے ہیں، پاس ہی بانو آپا ہر چوک پر ایک ’راجہ گدھ‘ دیکھ رہی ہیں اور مہر بہ لب ہیں، اشفاق صاحب آپا سے بے پروا ’گڈریا‘ کے ساتھ مگن ہیں، سامنے شوکت صدیقی کی ’خدا کی بستی‘ میں شہاب صاحب ’یاخدا‘ کی تسبیح پڑھ رہے ہیں، پڑھے ہی جا رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں.... ایک کہانی لکھوں جو پہلے کبھی نہیں لکھی گئی ہو......‘‘

مختصر مگر جامع لکھنے کے لیے وسیع مطالعہ شرط اول ہے، صدف کے مقدمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف بڑوں کو پڑھا ہے بلکہ ان کی فکر اور تخیل کوگہرائی کے ساتھ سمجھ بھی رکھاہے، 206 صفحات پر مشتمل کتاب میں کل 14 افسانے اور31 افسانچے ہیں، سبھی افسانے روایات سے ہٹ کر ہیں، اگرچہ ہرافسانہ ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے لیکن ہر افسانے کی کہانی ان کہانیوں سے مختلف ہے جو عام طور پر افسانوں میں ملتی ہے، صدف کتاب کے بارے میں رقمطراز ہیں:
’’یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے، اگر آپ بازار حسن کے داخلی اور خارجی راستوں کے حقائق جاننے کے لیے افسانے پڑھتے ہیں تو یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے۔ اگر محبت کی معصوم شرارتیں اور چپکے چپکے رات دن بھیگی آنکھوں کے بہتے کاجل والے افسانوں کی تلاش میں ہیں تو بھی یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے۔ اگر آپ دفاتر میں کام کرنے والے کلرک، بیٹیوں کے مجبور باپ یا پھر ممتا کی ماری ماؤں کی کہانیوں سے متاثر ہونے کے شوقین ہیں تو بھی یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے۔ یہ بھیڑ کا حصہ بنے زندگی کے وار سے لگنے والی خراشوں کو چہروں پر سجائے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو اپنی کہانیاں چھپاتے نہیں، صدف زبیری سے لکھواتے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے..! عائشہ فہیم

اپنے دعویٰ میں صدف کافی حدتک کامیاب دکھائی دیتی ہیں، تاہم افسانوں کی بنیاد صدف کا یہ احساس ہے کہ ہمارا معاشرہ مردانہ معاشرہ ہے، یہاں خواتین پر تشدد اور ظلم و جبر ہوتا ہے، ساتھ ہی عورت کو کم تر ہستی تصور کیا جاتا ہے، ان کے سبھی افسانوں میں مردانہ نفسیات کے بارے میں اچھی رائے دکھائی نہیں دیتی، مگر جس شدت کے ساتھ اس احساس کا اظہار انھوں نے اپنے افسانوں میں کیا ہے، شاید حقیقت حال کی مناسبت سے قاری کو مبالغہ لگے۔ صدف لکھتی ہیں:
’’انسان میں مرد میں خصوصاً ایک خدا ہوتا ہے جو بیوی بچوں کو اپنے آگے جھکا، گڑگڑاتا دیکھ کر تسکین پاتا ہے مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ خدا تو بس وہی ہے جو آسمانوں پر ہے، باقی تو سب وقت کا کھیل ہے..... نفس کا بہکاوا‘‘۔(صفحہ 148)

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی ایسی مثالیں ملتی ہیں، جہاں ہم محسوس کرتے ہیں کہ خواتین واقعی مظلومیت کے بھنور میں ابھی بھی گھری ہیں، تاہم اسے عموم حاصل نہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں اکثرخواتین کو عزت و اکرام دیا جاتا ہے۔ اب تو خواتین ہر میدان میں مردوں کے ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہیں، ایسے میں زیر نظر کتاب میں مردوں کے تئیں جس احساس کا اظہار ہوا ہے، اسے اعتدال کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ مصنفہ کو دین اسلام سے عقیدت ہے اور اسلام پر ان کی نظر ان کی تحریروں میں دیکی جا سکتی ہے لیکن حاملین مذہب کے بارے میں صدف کے خیال میں وہی مردانہ نفسیات کی بو محسوس ہوگی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ حاملین مذہب نے عورت کو صرف خواہش پوری کرنے کا ذریعہ تصور کیا ہے، صدف لکھتی ہیں: ’’وہ روز صبح سرکتے، مچلتے سیاہ بالوں والے سر پر پانی بہاتی اور دل کے تنور میں آگ دہکتی جاتی، وہ دینی اجتماعات میں شرکت کے لیے جاتا تو اسے قید سے رہائی مل جاتی، کاجل لگاتی، بالیاں پہنتی دھیرے دھیرے گنگنانے بھی لگتی، واپسی کا تصور دل ہلاتا رہتا، پھر وہ لوٹ آتا، رات رات بھر دین اس کے اندر انڈیلتا رہتا، تھک کر سونے سے پہلے ازدواجی ایکسرسائز کرتا اور صبح نہا دھو کر آفس نکل جاتا، اسی آفس جہاں اس کے بقول ساری بےحیا، بےغیرت عورتیں تھیں، مردوں کے ساتھ ہنستی بولتیں، بے پردہ، جہنم کاایندھن‘‘!! (صفحہ: 36)۔

یہ بھی پڑھیں:   جنھیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے..! عائشہ فہیم

دل بسمل میں شامل کہانیاں مصنفہ کے حساس ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ ان تحریروں سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ ایک حساس فنکار حالات و واقعات سے صرف نظر نہیں کر سکتا۔ صدف کا مزاج ایک انشائیہ نگار کا ہے۔ مجموعہ میں شامل افسانے وراثت، مرڈر، نگہبان اور مٹھی گھماؤ اس کے اعلیٰ نمونے ہیں۔ یہ فن ان کہانیوں میں بار بار جھلکتا ہوا نظر آتا ہے۔ لکھتی ہیں:
’’اور تو اور اب تو ادب میں بھی وراثت، دانشور کا بیٹا دانشور، کالم نگار کا بیٹا کالم نگار، عقل کا یہ عالم ہے کہ مشرق کی تان مغرب پر جا کر توڑتے ہیں..... وہ چپ چپ سنتا رہا، ارے بھائی! ہر چیز ہی وراثت میں منتقل ہو رہی ہے، مکاری، عیاری، چالاکی، فتنہ پروری، ابن الوقتی اور بعض اولادیں تو باپوں سے بھی چار ہاتھ آگے ہیں، سو اس ’ترکے‘ میں بڑھوتی بھی خوب تر ہو رہی ہے‘‘۔ (وراثت۔ص16)

کرداروں کے نام اگرچہ فرضی ہیں مگر واقعات اس لیے فرضی نہیں ہوسکتے کہ آدمی کی ذات رنج و غم میں ہمیشہ دور بھاگنے کی کوشش کرتی ہے۔ خوشی کا منظر غیرحقیقی ہو سکتا ہے لیکن المیہ مناظر کوگڑھنا کوئی عام بات نہیں:
’’وہ کھولتا ہوا خون جیل کی سرد دیواروں نے ٹھنڈا کر دیا تھا، تھکے ماندے ٹوٹے ہوئے بدن کے اندر کچلی ہوئی روح نڈھال پڑی رہتی، بےدھیانی میں، غنودگی اور ہوش و ہواس کے درمیانی مرحلے میں اس کی انگلیاں چلتی رہتیں، انھیں نڈل کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، ذہن کا رابطہ عرصہ ہوا باقی جسم سے منقطع ہو چکا تھا، وہ کسی گہرے خلا میں ڈوبتا اُبھرتا رہتا.....‘‘(مٹھی گھماؤ۔ص 137)

فنی اعتبار سے بھی یہ افسانے خوب ہیں۔ ان تحریروں میں جو ذہانت اور دیدہ وری، زبان وبیان کی شگفتگی اور برجستگی ہے، اس کا اندازہ صدف زبیری کی کسی بھی تحریر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
’’وہ کیسا بھنور میں پھنسا تھا، نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی، ان کی گفتگو لاحاصل، بےمعنی سوالوں کے بوجھ تلے دبنے لگی، اگر مگر کے گرداب میں ہاتھ پاؤں مارتے مارتے بھی وہ ڈوب ہی گیا اور وہ ہمیشہ کی طرح جیت گئی‘‘۔ (مرڈر۔ص89)

کتاب میں جو افسانچے ہیں، ان میں کافی گہرائی ہے، ان کو سمجھنے کے لیے مختصر ہی صحیح مگر منظر، پیش منظر اور پس منظر ہونا چاہیے تھا تاکہ عام قاری کو سمجھنے میں دقت محسوس نہ ہوتی، شاید صدف کا ہدف ہر قاری نہ ہو لیکن اس طرح کے اختصار نے افسانچوں کو کافی مشکل اور کبھی کبھی مہمل بھی بنا دیا۔ اس بات کا اظہار لازم ہے کہ صدف کے اندر منافقت نہیں، آپ جو لکھتی ہیں وہ بلاجھجک لکھتی ہیں۔ ہر کہانی کا پلاٹ خوبصورت ہے۔ تحریر کی خوبی ہے کہ وہ تصویر بن جائے۔ کتاب پڑھتے وقت قاری محسوس کرتا ہے کہ کہانی پڑھ نہیں بلکہ دیکھ رہا ہے۔ کتاب کی طباعت اعلیٰ ہے۔ کچھ کمیوں کے باوجود کتاب اس لائق ہے کہ ہر لائبریری کی زینت بنے۔
٭٭٭

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں