بھٹو، ملکی سیاست کا متنازعہ کردار - کاشف نصیر

وطن عزیز کے اکثر سرکردہ سیاستدانوں کہ طرح بھٹو صاحب بھی اسٹیبلشمنٹ کے کندھے پر سوار ہوکر میدان سیاست میں اترے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ ستمبر کے بعد ایوب کابینہ سے ڈرامائی استعفی دے کر انہوں نے مغربی پاکستان میں جس عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا، اس کے درپردہ بھی عسکری اداروں کے کچھ لوگ کھڑے تھے۔ یحیی خان کی حمایت اور نئی مارشل لاء حکومت کے اکثر فیصلوں کی وکالت اس خیال کو تقویت پہنچاتی ہے۔

پیپلزپارٹی کی تاسیس میں جس طرح مشرقی پاکستان کو نظر انداز کیا گیا، اس سے کئی اور خدشات بھی جنم لیتے ہیں، جیسا کہ مشہور ہے کہ بھٹو صاحب اور مقتدر حلقوں کے کچھ لوگ مشرقی و مغربی بازو کے الحاق کو غیرفطری سمجھتے ہوئے علیحدگی چاہتے تھے۔ اس حوالے سے یہ خیال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ پرامن علیحدگی کی صورت میں اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ اٹھنا تھا لیکن بغاوت کی صورت میں بنگالی اس حق سے محروم ہوجاتے۔ نیز آج پیپلزپارٹی کے کچھ لوگ منافقت سے کام لیتے ہوئے جماعت اسلامی اور اسٹیبلشمنٹ کو سقوط ڈھاکہ کا محرک قرار دیتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ بھول جاتے ہیں کہ ہر موقع پر یحیی خان کے ملک دشمن اقدامات میں بھٹو صاحب ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ انہوں نے جان بوجھ کر اپنا تاثر مغربی پاکستان کے نمائندہ رہنما کے طور پر قائم کیا جبکہ مشرقی پاکستان کو عوامی لیگ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ڈھاکہ میں اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا، آپریشن کی حمایت کی،گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن پر مبارکباد کے پیغام جاری کیے، ہندوستان پر فضائی حملوں کی تحسین کی، جنگ کے لیے نفرت انگیز تقریریں کیں، اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ بن کر گئے لیکن جنگ بندی کی دستاویز پھاڑ مشرقی پاکستان کو بچانے کا آخری موقع بھی ضائع کر دیا۔ مغربی پاکستان میں جو کوئی فوجی آپریشن کی مخالفت کرتا تو پیپلزپارٹی کے لوگ اس پر ملک دشمنی کا الزام لگاتے تھے۔

سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد کا استعمال سب سے پہلے بھٹو صاحب کے دور ہی میں ہوا۔ ان کے دور اقتدار میں حزب اختلاف کے درجنوں کارکن اور رہنما قتل ہوئے اور سیکڑوں گرفتار کیے گئے۔ جمہوری ادوار میں احتجاج کو بزور طاقت دبانے کی روایت بھی انہوں نے ہی شروع کی۔ بلوچستان میں نیپ کی حکومت کا خاتمہ اور سیاسی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن کروا کر انہوں نے اس صوبے میں نفرت کی آگ بڑھکائی۔ انہیں حب الوطنی کی اسناد جاری کرنے کا بھی بےحد شوق تھا۔ ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر غداری کے الزامات اور ان کی جماعت پر پابندی سیاسی فاشسزم کی بدترین مثال تھی۔ پنجاب میں ڈاکٹر نذیر احمد، خواجہ رفیق اور محمد احمد قصوری سمیت کئی مخالفین کو قتل کرنے، جیلوں میں ڈالنے اور انتہائی توہین آمیز سلوک کرنے کا الزام ان پر لگا. ایف ایس ایف کا قیام اور آئی ایس آئی میں سیاسی ونگ کا قیام بھی انھی کا کارنامہ تھا.

سوشلزم کے نام پر بھی انہوں نے قوم کو خوب احمق بنایا۔ ایک طرف کئی صنعتی یونٹ، اسپتال اور تعلیمی ادارے زبردستی قومیا لیے گئے تو دوسری طرف جاگیرداروں کو چھیڑنا گوارا نہ کیا۔ لینڈ ریفارمز کے معاملے پر آ کر جناب کی سوشلزم ختم ہوجاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر مبشر اور شیخ رشید ایسے لوگ بھٹو صاحب سے بتدریج دور ہوتے گئے جبکہ وڈیرے اور مخدوم آگے آنے لگے۔ بھٹو صاحب پر ذاتی حیثیت میں تو بدعنوانی کا الزام نہیں لگتا لیکن ان کے دور میں کئی ایسے وزرا ضرور سامنے آئے جنہوں نے رشوت اور جعلسازی کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔

ان تمام باتوں کے باوجود بھٹو صاحب کئی شاندار خوبیوں کے بھی مالک تھے۔ ان میں عجیب کرشماتی کشش اور بلا کی قائدانہ صلاحیت تھی۔ انہوں نے پہلی بار مغربی پاکستان کے لوگوں کو سیاسی شعور دیا، 73 کا شاندار اسلامی دستور اور او آئی سی کے قیام پر ان کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔ شملہ معاہدہ، قیدیوں کی واپسی، ایٹمی پروگرام، کامیاب خارجہ پالیسی اور روس کے اشتراک سے صنعتی شعبے میں ترقی ان کے دور کی خوشگوار یادیں ہیں۔

بھٹو صاحب کو عالمی سیاست میں جو اہمیت حاصل تھی، اس سے قبل اور بیشتر پاکستان کا کوئی دوسرا حکمران اس مقام کے قریب تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ تمام تر خوبیوں کے ساتھ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، بھٹو صاحب سے بہت سی غلطیاں بھی سرزد ہوئیں، کئی معمولی اور کئی انتہائی سنگین لیکن ان کی حکومت کا خاتمہ اور انہیں تختہ دار پر لٹکانا، سوائے بدترین ظلم کے کچھ اور نہ تھا۔ اللہ مرحوم کے درجات بلند کرے۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */