بھٹو کا قتل اور قادیانی - آصف محمود

معلوم نہیں یہ اتفاق ہے یا کیا ہے؟

بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے مسودے پر دستخط کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوں.

یاد رہے کہ اس وقت جب یہ تحریک چل رہی تھی، نیوی کا چیف حسن حفیظ احمد قادیانی تھا. آرمی کا ڈپٹی چیف عبد العلی قادیانی تھا اور فضائیہ کا سربراہ ظفر چودھری بھی متعصب قادیانی تھا. اس نے اپنے ہم زلف میجر جنرل نذیر کے ساتھ مل کر بھٹو کے قتل کی سازش بھی کی تھی اور اس کی دیدہ دلیری کا یہ عالم تھا کہ ربوہ میں مرزا ناصر کے جلسے پر اس نے فضائیہ کے جہاز بھیج کر گل پاشی کی اور سلامی دی. اس نے پی اے ایف سے مسلمان افسروں کے کورٹ مارشل کیے اور قادیانیوں کی میرٹ سے ہٹ کر بھرتیاں شروع کیں اور یہ بات بھٹو کے علم میں آئی تو وہ شدید ناراض ہوئے.

اور پھر بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے والا مسعود محمود بھی قادیانی تھا.

بھٹو کو اس بات کا آخر وقت تک احساس تھا. کرنل رفیع جو جیل میں بھٹو کی نگرانی پر مامور تھے، اپنی یاد داشتوں میں لکھتے ہیں کہ بھٹو کا خیال تھا کہ ختم نبوت کے معاملے میں ان کا فیصلہ ان کی نجات کا باعث بنےگا. پھانسی سے قبل انہوں نے کرنل رفیع سے کہا کہ رفیع! آج تو قادیانی خوش ہوں گے، ان کا دشمن مارا جا رہا ہے.

چنانچہ ہمارے سامنے ہے کہ بھٹو کے قتل پر قادیانیوں نے مرزا کی ایک گالی کو نام نہاد الہام بنا دیا. کہا کہ ان کے مرزا کا نام نہاد الہام پورا ہوگیا ہے. قادیانیوں نے کہا کہ
’’کلب یموت علی کلب‘‘ اب ہو گیا. کلب کے اعداد نکالے گئے جو باون تھے اور کہا گیا کہ کتا باون سال کی عمر میں مر گیا. اصل میں یہ مرزا نے اپنے بیٹے کو گالی دیتے ہوئے کہا کہ تو کتا ہے اور کتے کی موت مرے گا. بھٹو دشمنی میں قادیانیوں نے اسے نام نہاد الہام بنا دیا.

معلوم نہیں کہ یہ اتفاق ہے یا کیا ہے کہ ایف ایس ایف کا قادیانی سربراہ مسعود محمود ایک طرف تو اس احمد رضا قصوری پر حملہ کرواتا ہے جو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی قرارداد پر پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی کے طور پر دستخط کرتا ہے. حملے میں قصوری صاحب کے والد محترم شہید ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد وہ قادیانی مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن کر کہہ دیتا ہے کہ مجھے تو بھٹو نے قتل کا حکم دیا تھا.
ایک تیر سے دو شکار.
اب معلوم نہیں کہ یہ اتفاق ہے یا کچھ اور!

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com