ناگ سائیں (3) - ریحان اصغر سید

تیرو ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والا خاندانی سپیرا تھا۔ وہ افسانوی شہرت کے حامل گاؤں لسبی کا رہنے والا تھا۔ گاؤں کی آبادی بمشکل چند سو نفوس پر مشتمل تھی، جو سب سپیرے تھے، لیکن انھیں گاؤں کی حدود میں سانپ پکڑنے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ گاؤں میں موجود ناگ داتا کے مندر میں ہر وقت سانپوں کی آمد و رفت جاری رہتی تھی۔ وہاں آنے والے سانپوں اور سپیروں میں ایک خاموش معاہدہ تھا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔

تیرو سانپوں کو پکڑ کر شہر فروخت کر دیتا جو دوائیاں بنانے سمیت مختلف کاموں میں استعمال ہوتے یا انھیں خوراک کے لیے ہمسایہ ملکوں میں ایکسپورٹ کر دیا جاتا۔ تیرو اس وقت ایک بڑے سبز اژدھے کی تلاش میں تھا جو اس کی اطلاعات کے مطابق بار بار اس گزرگاہ کی جھاڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔ تیرو کی تیز نظریں جھاڑیوں کا ایکسرے کر رہی تھیں، وہ ہاتھ میں پکڑی شاخ نما چھڑی سے جھاڑیوں کو ہٹا ہٹا کے دیکھ رہا تھا جب اس نے ایک تین سالہ بچے کی جھلک دیکھی۔ تیرو کو پہلی نظر میں وہ مردہ لگا۔ وہ دوڑ کے اس کے پاس پہنچا۔ تب اسے بچے کے قریب سبز اژدھا نظر آیا۔ وہ مر چکا تھا۔ تیرو کو سانپ کی موت کا بہت افسوس ہوا۔ وہ دوبارہ بچے کی طرف متوجہ ہوا جو شدید زخمی لگ رہا تھا۔ اس کی سانس اٹک اٹک کے چل رہی تھی لیکن اس کی سانس کے ساتھ اللہ اللہ کی صدا خود بخود ہی نکل رہی تھی۔ تیرو نے بچے کو احتیاط سے اُٹھا لیا۔ اس کی تجربہ کار نگاہوں نے ایک نظر میں ہی جانچ لیا تھا کہ اژدھے نے بچے کو نگل کے اگلا ہے۔ شاید اس کی ہڈیاں نہ ٹوٹنے اور زندہ بچ جانے کی وجہ اس کی بےحد موٹی جلد تھی۔ تیرو حیرت سے بچے کی جلد کو دیکھ رہا تھا جو بالکل کسی کالے ناگ کی جلد کے مشابہ تھی۔ تیرو سوچ رہا تھا کہ اس ویرانے میں یہ بچہ کیسے پہنچا، اور اژدھے کو کس نے ہلاک کیا ہے؟ کیونکہ قریب و جوار میں کسی ذی نفس کے آثار نہیں تھے۔ تیرو زیادہ انتظار نہیں کر سکتا تھا، بچے کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اس لیے تیرو بچے کو احتیاط سے اپنی چادر میں لیپٹ کے وہاں سے نکلنے ہی والا تھا، جب اس نے تین شخص اس طرف آتے دیکھے۔ آنے والے اپنی داڑھیوں اور عماموں کی وجہ سے کسی تبلیغی جماعت کے رکن لگتے تھے۔ تیرو نے آواز دے کر انھوں متوجہ کیا اور اپنی طرف بلایا۔
مولانا حضرات سارا منظرنامہ دیکھ کر کافی حیران نظر آ رہے تھے۔ وہ سبحان اللہ اور استغفراللہ کا ورد تو کر رہے تھے لیکن بچے کی ذمہ داری لینے سے انکاری تھے۔ وہ خود مسافر تھے اور تبلیغ پر نکلے ہوئے تھے بچے کو لے کر کہاں جاتے؟
دوسری طرف تیرو بضد تھا کہ چونکہ بچہ اللہ اللہ پکار ہے یعنی یہ کسی مسلمان کا بچہ ہے۔ اس لیے آپ لوگوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس بچے کو اپنے ساتھ لے جائیں اور اس کی جان بچانے کی کوشش کریں۔ لیکن تینوں مسافروں نے اس قریب المرگ بچے کی ذمہ داری اُٹھانے اور اسے اپنے ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا۔ آخر مایوسی کے عالم میں تیرو نے اپنا سامان سمیٹا اور بچے کو لیکر تیزی سے لسبی کی طرف روانہ ہوگیا۔
........................................
بابر علی کو یہ سن کے دھچکا لگا کہ ناگ سائیں نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا ہے۔ بنگش سے ناکام ملاقات کے بعد وہ سخت بیزار تھا اور فی الحال وہ کسی شہری بندے سے ملنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
آپ کسی طرح سے میری ناگ سائیں سے فون پر بات کروا دیجیے۔ میں اسے ملاقات پر آمادہ کر لوں گا۔ بابر نے ناظم صاحب سے درخواست کی۔
میں ناگ سائیں کو آپ کا نمبر دے دیتا ہوں، اگر انھوں نے مناسب سمجھا تو وہ آپ کو کال کر لیں گے۔
یہ کہہ کر ناظم صاحب نے فون رکھ دیا۔ بابر علی کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل تھی کہ اتنے بڑے صحافی سے کوئی ملنے سے انکار کر دے۔ لیکن وہ ناگ سائیں کے معاملے میں خود کو بےبس محسوس کر رہا تھا۔ اس نے قحط زدہ علاقوں کا ایک دورہ کیا، اور اس کی ویڈیو رپورٹ تیار کی۔ غلے کے معاملے میں ہوئی کرپشن پر ایک شو ریکارڈ کروایا اور ڈی ایس این جی وین سمیت دیگر عملے کو واپس بھیج دیا۔ اس دوران اس کی ناگ سائیں سے ایک دفعہ فون پر بات ہوئی۔ ناگ سائیں اس کے نام یا کام سے واقف نہیں تھا۔ بابر نے ناگ سائیں کو قائل کر لیا کہ اس سے ملاقات ناگ سائیں کے مفاد میں ہے، میڈیا ایک بہت طاقتور میڈیم ہے۔ ناگ سائیں اس کو استعمال کر کے اپنا پیغام پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ ناگ سائیں نے وعدہ کیا کہ وہ پہلی فرصت میں بابر کو ملاقات کے لیے بلا لے گا۔ اب بابر کے پاس سوائے انتظار کے کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ ناگ سائیں سے ملے بغیر کسی صورت ناکام واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔

دوسری طرف ڈپٹی کمشنر بنگش کی اچانک اور پراسرا موت نے انتظامیہ میں ہلچل مچا دی تھی۔ بنگش کا تقریباً پورا خاندان ہی بیوروکریسی میں گھسا ہوا تھا۔ کئی لوگ تو انتہائی کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔ انھیں ناگ سائیں والے معاملے کی سن گن مل چکی تھی، اور وہ بنگش کی موت کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے والے نہیں تھے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد بنگش کو دفن تو کر دیا گیا لیکن غیر محسوس انداز میں ناگ سائیں کی شخصیت کے بارے میں چھان بین جاری تھی۔ بالآخر بنگش کی موت کے پانچ دن بعد ناگ سائیں کے خلاف بنگش کے قتل کی باقاعدہ آیف آئی آر کاٹ دی گئی۔ ضلعی ناظم کو ناگ سائیں کے سہولت کار کے طور پر فوراً گرفتار کر لیا گیا اور ناگ سائیں کی تلاش میں پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے۔ اب ناگ سائیں کے خلاف پرانے الزامات کے تحت بھی پرچے کاٹے جا رہے تھے۔ اچانک سے ہی ناگ سائیں انتہائی مطلوب مجرم بن گیا تھا۔ بابر علی کے لیے ناگ سائیں کے خلاف قانونی کارروائی مایوس کن تھی۔ اس کے خیال میں اب یہاں رکنا فضول تھا۔ ناگ سائیں کا نمبر بھی مسلسل بند جا رہا تھا، اس لیے بابر علی نے صبح اُٹھ کے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسی لمحے دروازے پر ایک دھمیی دستک ہوئی۔ بابر علی نے چونک کے وال کلاک پر وقت دیکھا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ بابر علی بیڈ سے اتر کر دبے پاؤں کمرے کے دروازے تک گیا۔
کون ہے؟
دروازہ کھولیے سائیں! میں آپ کو ملاقات کے لیے لینے آیا ہوں۔
باہر سے کسی نے مقامی لہجے میں سرگوشی کی۔ بابر علی نے محتاط انداز میں تھوڑا سا دروازہ کھول کے جھانکا۔ باہر ناگ سائیں کا دست راست بانڈھی کھڑا تھا۔
ناگ سائیں نے آپ کو بلایا ہے۔ ابھی۔ ہمیں فوراً نکلنا ہوگا۔
بانڈھی نے بابر کو متذبذب دیکھ کر جلدی سے کہا۔ بابر سوچ میں پڑ گیا۔ اس وقت حکومت کی نظر میں ناگ سائیں انتہائی مطلوب اور خطرناک مجرم تھا۔ اس سے ملنا اس کے لیے مسائل بھی کھڑے کر سکتا تھا۔ کچھ عجب نہیں ناگ سائیں اسے انسانی ڈھال کے طور پر استمعال کرنے کی کوشش کرتا۔ دوسری طرف ناگ سائیں کی اسرار میں لپٹی شخصیت کا سحر تھا جو بابر کو عالمی شہرت دلوا سکتا تھا۔ بابر علی نے اپنے پورے کیرئیر میں کبھی خطرات مول لینے سے گریز نہیں کیا تھا۔ اب اگر وہ پیچھے ہٹ جاتا تو باقی عمر پچھتاوے اس کے تعاقب میں رہتے۔
مجھے تیار ہونے کے لیے دس منٹ چاہییں۔ ویسے ہمیں جانا کہاں ہے؟
بابر نے بانڈھی کے لیے راستہ چھوڑتے ہوئے کہا۔
........................................
تیرو یوسف کو لے کر لسبی پہنچا تو شام ڈھل رہی تھی۔ لسبی گاؤں چھوٹے چھوٹے خشک اور سفید ٹیلوں کے دامن میں واقع تھا۔ اس علاقے میں ریت کے جھکڑ اور طوفان کثرت سے آتے تھے۔ لیکن عموماً لسبی گاؤں ان سے محفوظ رہتا۔ لسبی کے رہائشی زیادہ تر ٹیلوں میں بنے غاروں میں رہتے تھے۔ کچھ نے جھونپڑیاں اور کچے مکان بھی بنا رکھے تھے۔ لسبی میں غیر مقیم افراد کا داخلہ سختی سے ممنوع تھا۔ اس کی ایک وجہ تو ہر وقت یہاں وہاں پھرنے والے خطرناک صحرائی سانپ تھے اور دوسری وجہ ایک بڑے ٹیلے کے نیچے بنا ہوا قدیم مندر تھا، جس میں ہر وقت ہر رنگ و نسل کے سانپ بھرے رہتے۔ یہ بات صرف گاؤں والے جانتے تھے کہ مندر میں انتہائی بیش قیمت ہیرے جواہرات اور خزانے بھی محفوظ ہیں، جن کو چرانے کی کوشش میں درجنوں لوگ عبرت ناک موت کا شکار ہو چکے تھے۔ جن کی حفاظت سانپوں کی ذمہ داری تھی۔ ادھیڑ عمر تیرو اپنی ہم عمر بیوی کے ساتھ بانس اور کجھور کے پتوں کی بنی ایک جھونپڑی میں رہتا تھا۔ یہ جوڑا بےاولاد تھا۔ تیرو نے بچے کو جھونپڑی کے اندر زمین پر لٹایا اور ایک کونے سے مرہم والا پیالہ اُٹھا لایا۔ اس نے پہلے تھوڑا سا پانی بچے کے منہ میں ٹپکایا اور پھر اس کے کپڑے اتار اس کی جلد پر مرہم لگانے لگا۔ بچہ خاصا سخت جان نظر آتا تھا۔ ایک دو دن کی نگہداشت اور مرہم لگانے سے اس کے زخم بڑی تیزی سے ٹھیک ہو رہے تھے۔ تیسرے دن ٹانگ پر سے مرہم صاف کرتے ہوئے بچے کی کھردری جلد کا ایک بڑا ٹکڑا اتر گیا۔ تیرو نے خوفزدہ انداز میں ہاتھ پیچھے ہٹا لیے۔ اتری ہوئی جلد سانپ کی کھنچلی جیسی تھی۔ اس کے نیچے بچے کی دودھیا سفید رنگت والی نئی جلد چمک رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اگلے چوبیس گھنٹے میں بچے کی ساری پرانی اور کھردری جلد اتر چکی تھی۔ سیاہ کھردری جلد کے نیچے سے ایک ملکوتی حسن کا مالک بچہ برآمد ہوا۔ جس کی آنکھوں میں ایک ساحرانہ چمک تھی۔ تیرو کی بیوی بہت خوش تھی اسے بیٹھے بٹھائے پلا ہوا انتہائی خوبصورت بچہ مل گیا تھا۔ لیکن تیرو کے دل میں طرح طرح کے خدشات سر اُٹھا رہے تھے۔ اتنا تو وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے یقینا کوئی پراسرار طاقتیں ہیں۔ تیرو کے خدشات کی تصدیق اس سے بھی ہوتی تھی کہ جب سے وہ بچہ اس جھونپڑی میں آیا تھا، مندر میں خزانے کی رکھوالی کرنے والے سفید سانپ دن رات جھونپڑی کا پہرہ دینے لگے تھے۔ بہت سوچ سمجھ کے تیرو نے بچے کا نام ناگ سائیں تجویز کیا۔
........................................
یہ گہرے نیلے رنگ کی انٹر کولر تھی جس میں بابر علی کو سوار کروایا گیا۔ بابر علی نے روانہ ہونے سے پہلے اپنا سیل فون، کیمرہ، ڈیجیٹل وائس ریکاڈر اور لیپ ٹاپ ساتھ لے لیا تھا لیکن یہ سارا سامان فی الحال بانڈھی کے ساتھی کی تحویل میں تھا۔ کچھ دیر بعد جیپ صحرا کی ایک سڑک پر دوڑ رہی تھی۔
ہم کہاں جا رہے ہیں؟ پچھلی سیٹ پر بیٹھے بابر نے گاڑی کے مون روف سے صحرا کے روشن ستاروں کو دیکھا۔
ایک گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ بانڈھی نے گول مول جواب دیا۔ وہ کھردرے نقوش کا مالک ایک سخت گیر انسان نظر آتا تھا۔
ناگ سائیں کی مستقل رہائش کہاں کی ہے؟
کچھ لمحوں کے توقف کے بعد بابر علی نے پسنجر سیٹ پر بیٹھے بانڈھی کو دوبارہ چھیڑا۔ اس دفعہ بانڈھی نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا، وہ چپ چاپ ونڈ سکرین کے پار ریت کو گھورتا رہا۔ بابر علی نے کچھ دیر مزید بانڈھی کو ناگ سائیں کے متعلق کریدنے کی کوشش کی لیکن ایسا لگتا تھا کہ بانڈھی اور اس کے ساتھی گونگے بہرے ہو چکے ہیں۔ وہ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ ناگ سائیں کی انٹر کولر کو شہر میں پہچان لیا گیا ہے اور اب ایک بکتر بند اور پولیس جیپ ہیڈ لائٹس بند کیے بڑی خاموشی سے انٹر کولر کا پیچھا کر رہی ہیں۔ جیپ صحرا میں تقریباً ایک گھنٹہ دوڑتی رہی۔ گاڑی میں لگی جی پی ایس ڈیوائس ڈرائیور کی راہنمائی کر رہی تھی، ورنہ ہر طرف ریت ہی ریت نظر آ رہی تھی۔ جیپ ریت کے ایک ٹیلے کے پیچھے لگے خمیے کے باہر جا کے رک گئی۔ بابر علی کو نیچے اتارا گیا۔ باہر خاصی خنکی تھی، صحرا میں رات ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ ایک طرف آگ کا الاؤ روشن تھا جس پر ایک سالم بھیڑ کو مصالحہ لگا کےگِرل کیا جا رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی اور سناٹے کا راج تھا۔ چاند ستاروں، اور آگ کی وجہ سے ماحول کافی روشن لگ رہا تھا۔
میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ کو مجھ سے ملاقات کے لیے اتنا انتظار اور زحمت اٹھانی پڑی!
بابر علی گردو پیش کے فسوں میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ ناگ سائیں اس کی پشت پر کھڑا ہے۔ اس نے بے اختیار مڑ کر دیکھا۔ وہ ناگ سائیں کو پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی تصویروں کے مقابلے میں زیادہ کمسن اور خوبصورت نظر آ رہا تھا۔ اس کے لمبے بال ہوا میں اڑ رہے تھے۔ بابر علی نے آگے بڑھ کے ناگ سائیں سے ہاتھ ملایا۔
انتظار اور سفر کی ساری کوفت آپ سے مل کر دور ہو گئی ہے سائیں۔ مجھے امید ہے جناب کے مزاج بخیر ہوں گے۔ بابر علی نے رسمی انداز میں جواب دیا۔
ناگ سائیں نے نرمی سے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے ساتھ چلاتا ہوا آگ کے آلاؤ کے پاس پڑی لوہے کی فولڈنگ کرسیوں پر آ بیٹھا۔
میری جب آپ سے فون پر بات ہوئی تھی تب حالات مختلف تھے۔ اس کے بعد صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ جس ٹی وی انٹرویو کے متعلق میں نے آمادگی ظاہر کی تھی، اب اس کی کوئی ضرورت یا گنجائش باقی ہے۔ لیکن چونکہ میں نے آپ سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا، اس لیے میں نے آپ کو فقط اپنا وچن نبھانے کے لیے بلایا ہے۔
ناگ سائیں نے سائیڈ پاکٹ سے اپنی سگریٹوں کی ڈبی برآمد کرتے ہوئے کہا۔ بابر علی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ناگ سائیں اپنے انداز و اطوار اور گفتگو سے انتہائی مہذب، شائستہ اور اعلی تعلیم یافتہ شخص لگتا تھا۔ بابر علی نے ناگ سائیں کا پیش کیا ہوا سگریٹ لے کر لائٹر سے سلگایا اور بولا۔
حالات میں تبدیلی واقعی مایوس کن ہے۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے خاکسار کو اس عزت کے قابل جانا، لیکن میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ جیسا نفیس انسان اس صحرا میں بیٹھا کیا کر رہا ہے؟
میری جڑیں اس صحرا میں پیوست ہیں۔ میں کہیں اور زندہ نہیں رہ سکتا، مجھے یہیں پر رہنا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ انسان نہیں ناگ ہیں؟ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے؟
اس سوال پر ناگ سائیں نے ایک بھرپور قہقہ لگایا۔
لوگوں کا کیا ہے لوگ تو رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں۔
پھر بھی، دھواں وہی سے اٹھتا ہے جہاں آگ ہوتی ہے۔ آپ کا ماضی اور حال اسرار میں لپٹا ہوا ہے۔ کیا آپ مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟
ناگ سائیں کچھ دیر سلاخ سے آگ کو کریدتا رہا۔ آگ کے لپٹوں کی روشنی میں اس کا چہرہ بہت پراسرار نظر آ رہا تھا۔ حسب معمول ایک کالی عینک نے اس کی آنکھوں کو چھپا رکھا تھا۔
میرے ماضی کے کئی اہم ورق میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود بھی اپنے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔
ناگ سائیں کی آواز میں کھردرا پن ابھر آیا، شاید وہ اس موضوع پر مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
سائیں آپ نے دو سال پہلے علاقے کی غریب عوام میں سونا تقسیم کیا تھا جو غالباً سونے کے قدیم سکوں کو پگھلا کے بنایا گیا تھا۔ وہ سکے آپ کو کہاں سے ملے تھے۔
پرانی بات ہے، اس لیے مجھے کچھ صحیح یاد نہیں۔ ناگ سائیں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔
آپ پر لگے قتل کے الزامات میں کتنی حقیقت ہے؟
قتل کے الزامات سراسر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ میں نے کسی کو قتل کیا ہے نہ کروایا ہے۔ البتہ گودام اور بنک لوٹنے والے جرائم کا میں اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن مجھے ان جرائم پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا ہے، بھوک سے مرتے لوگوں کو بچانے کے لیے کیا ہے۔
آپ کا مذہب کیا ہے سائیں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں آپ ہندو اور ناگ دیوتا کے پجاری ہیں۔
میرا مذہب انسانیت ہے۔
ناگ سائیں کے انداز میں قطعیت تھی۔ ایسا لگ رہا تھا، وہ کچھ سننے کی کوشش کر رہا ہے۔ پھر اس نے گردن موڑ کے کچھ دور کھڑے بانڈھی کو مقامی زبان میں کہا۔
تم اپنے ساتھ اُن کو بھی لے آئے ہو؟
بانڈھی بےاختیار چونکا، اس نے ٹیلے کی طرف دیکھا لیکن دیر ہو چکی تھی۔ ٹیلے پر پولیس کمانڈوز پوزیشن سنبھال چکے تھے۔ انھوں نے اپنی گاڑیاں ایک کلومیٹر دور چھوڑ دی تھیں۔ وہ سارا راستہ نیلی جیپ کی بیک لائٹ اور ریت پر اس کے ٹائروں کے نشان کا تعاقب کرتے رہے تھے۔ ناگ سائیں اور اس کے ساتھی بالکل کھلے میں پولیس کے نشانے پر تھے۔ کہیں اوٹ یا چھپنے کی جگہ ہی نہیں تھی۔ اتنی دیر میں ایک گرج دار آواز نے سکوت کو توڑا۔
ہتھیار پھینک دو ناگ سائیں۔ تم چاروں طرف سے گھیرے میں ہو۔ خبردار کوئی حرکت نہ کرے ورنہ گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے گا۔
میرے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔
ناگ سائیں نے اونچی آواز میں کہا اور سکون سے سگریٹ کے کش لینے لگا۔
ہتھیار پھینک دو بانڈھی۔
ناگ سائیں نے بانڈھی اور اس کے ساتھیوں کو دیکھا۔ بانڈھی اور اس کے تین ساتھیوں نے اپنی آٹو میٹک رائفلیں پھینک دیں۔
ریت پر الٹے لیٹ جاؤ۔ ناگ سائیں تم بھی۔
اگلا حکم وصول ہوا۔
میرے کاٹن کا نیا سوٹ برباد ہو جائے گا۔ مجھے لیٹا ہوا ہی تصور کیا جائے۔
ناگ سائیں نے اپنی کرسی پر ہی نیم دراز ہوتے ہوئے کہا، البتہ گھبرایا ہوا بابر علی بغیر کسی کے کہے ہی ریت پر لیٹ چکا تھا۔ اچانک خمیے کی پشت سے دو پولیس کمانڈوز نکلے۔ ان کی گنز کا رخ ناگ سائیں کی طرف تھا اور انگلیاں ٹریگر پر جمی تھیں۔
........................................
ناگ سائیں اب ایک مکمل صحت مند بچہ تھا۔ اس کی یادداشت اور ذہانت غیر معمولی تھی۔ لسبی گاؤں کا ہر باشندہ ناگ سائیں کو عقیدت و احترام سے دیکھنے لگا تھا۔ ان کو یقین تھا کہ ناگ سائیں ناگ دیوتا کا ہی دوسرا جنم ہے کیونکہ ناگ سائیں سے پہلے کسی کو مندر میں جانے کی ہمت نہیں تھی۔ گاؤں والے اونٹنیوں اور بھیڑوں کا دودھ پیالوں میں ڈال کے مندر کی دہلیز تک چھوڑ آتے تھے لیکن ناگ سائیں چار سال کی عمر سے بےدھڑک مندر میں گھس جاتا، اور جب وہ مندر سے واپس نکلتا تو ناگ داتا کا بوڑھا پروہت کالا کوبرا اس کے گلے سے جھول رہا ہوتا، وہ اس کو تیرو کی جھونپڑی تک چھوڑنے آتا۔ عمر کے ساتھ ساتھ ناگ سائیں کی آنکھوں کا سحر بڑھتا جا رہا تھا۔ سات سال کی عمر میں ایک ایسا واقعہ ہوا کہ جس نے پورے لسبی کو چونکا دیا۔ اس دن ناگ سائیں گاؤں کے بچوں کے ساتھ ٹیلوں کی کھوہ میں کھیل رہا تھا۔ بچوں کے کھیل کے دوران اکثر لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک لڑائی کے دوران ایک بچے نے ناگ سائیں کی آنکھ پر گھونسا مار دیا۔ ناگ سائیں کی آنکھ کے کنارے سے خون رسنے لگا۔ ناگ سائیں خاموشی سے اپنی جھونپڑی میں واپس آ گیا۔ کچھ دیر بعد ناگ سائیں کو گھونسا مارنے والے بچے کو درجنوں سانپوں نے ڈس لیا۔ بچے کے مرنے کے بعد بھی سانپوں کا غصہ کم نہیں ہوا وہ اس کی لاش کو ڈنک مارتے رہے۔ لسبی جیسے چھوٹی سی جگہ میں یہ واقعہ ایسا نہیں تھا جسے آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا۔ اب گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں ناگ سائیں کے متعلق عقیدت کے علاوہ خوف کے جذبات نے بھی جنم لینا شروع کر دیا تھا۔

لیکن تیرو کچھ اور سوچ رہا تھا۔ اب اس کی اکثر اپنی بیوی سے بحث رہتی۔
میں سوچ رہا ہوں ناگ سائیں کو بڑے شہر میں بھجوا دوں۔ یہ جگہ اس کے شایان شان نہیں ہے۔ کیا کرے گا وہ یہاں رہ کر؟
زیادہ سے زیادہ میری طرح ایک جاہل سپیرا بن جائے گا۔
کیوں جی؟ سپیرا کیوں بنے گا میرا بیٹا۔ وہ تو شہزادہ ہے، سارے گاؤں میں راجہ کی شان سے پھرتا ہے، کسی میں جرات نہیں ہے کہ اسے روک ٹوک سکے۔ میں اپنے بیٹے کو خود سے دور کرنے والی نہیں۔ تیرو کی بیوی تنک کے کہتی۔
تو اپنی محبت میں خودغرضی اور دشمنی کر رہی ہے اس کے ساتھ۔ میں نے تجھے بتایا تھا کہ وہ ہندو نہیں کسی مسلمان کا بچہ ہے۔ یہ بہت بڑا پاپ ہے کہ ہم اس کا مذہب بدل دیں۔ شہر میں حاجی رمضان صاحب سے میری اچھی سلام دعا ہے۔ میں سائیں کو ان کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔ شہر میں رہ کر پڑھ لکھ کے بڑا افسر بن جائے گا تو ہمارے دن بھی پھر جائیں گے۔ تو بھی کوٹھی کار والی ہو جائے گی۔ تیرو نے بیوی کو لالچ دیا۔
مجھے لگتا ہے تیرو تیرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ہمارا ناگ سائیں، ناگ دیوتا کا بڑا لاڈلا ہے، تو نے اسے شہر لے جانے کی کوشش کی تو مندر کے سانپ تجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ مجھے کوٹھی کار نہیں چاہیے، مجھے بس اپنا بیٹا اپنی آنکھوں کے سامنے چاہیے۔ یہ بھی تو سوچ ناگ سائیں کی وجہ سے ہماری کتنی عزت بن گئی ہے گاؤں میں۔ اور تو مندر کے خزانوں کو کیوں بھول رہا ہے۔
تیرو نے اپنا سر پیٹ لیا۔
ارے بھگوان، تو کیوں اپنے بیٹے کی زندگی برباد کرنے پر تلی ہے۔ مندر کے خزانوں کی چاہ میں جانے کتنے اپنی زندگی گنوا بیٹھے ہیں، تو ذرا اپنے ہوش و حواس میں رہ۔
اپنے بیٹے کو دیکھ، ہاتھ لگانے سے میلا ہوتا ہے وہ۔ یہ جگہ اس کے رہنے کے قابل نہیں ہے۔ صبح بات کروں گا اس سے۔ اگر اس نے اجازت دی تو شہر چھوڑ آؤں گا۔تیرو نے اپنی طرف سے بات ختم کر دی۔

ناگ سائیں کو شہر جا کے پڑھنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ یہ اس کی دلی خواہش تھی۔ تیرو کی بیوی کے سارے ترلے منت ٹھکرا کے وہ اپنے صوبے کے سب سے بڑے شہر میں حاجی رمضان کے ہاں پہنچا۔ حاجی رمضان صاحب انتہائی ملنسار اور درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ ان کے کاروبار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ کسی زمانے میں صحرا میں ان کی تیرو سے اتفاقاً ہی ملاقات ہو چکی تھی جسے انھوں نے یاد رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے تیرو کی ساری بات بڑی توجہ سے سنی اور اس کے جذبے کی تعریف کی۔ حاجی رمضان کے لیے اس سے خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی کہ ان کی وجہ سے ایک بچہ کفر اور جہالت کے ماحول سے بچ کے ایمان کی طرف لوٹ آئے۔ انھوں نے ناگ سائیں کی تعلیم، رہائش و طعام کی مکمل ذمہ داری لیکر تیرو کو واپس بھیج دیا۔ اب سائیں شہر کے سب سے اعلی بورڈنگ سکول میں زیر تعلیم تھا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے اس نے بہت جلد نہ صرف اپنے ضائع ہونے والے تعلیمی سال ریکور کیے بلکہ اپنے آپ کو تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کر لیا، اور پوزیشن لینے لگا۔ اتفاق سے رمضان صاحب نے بھی اس کے حسن و وجاہت سے متاثر ہو کے اس کا نام یوسف ہی تجویز کیا تھا۔ یوسف اے لیول میں تھا جب اسے اپنی آنکھوں کے سحر کا اندازہ ہونا شروع ہوا۔ جنس مخالف اس پر مکھیوں کی طرح گرتی اور مرتی تھی، لیکن یوسف کے دل پر چوٹ یونیورسٹی میں جا کر لگی۔ ایک سارہ نامی قبول صورت لڑکی نے اسے دیکھا اور فتح کر لیا۔ ہر کسی سے جیتنے والا سکندر ہار گیا تھا۔ جیتی سائرہ بھی نہیں تھی۔ وہ بھی بےاختیار یوسف کی شخصیت کے سحر میں کھوتی چلی گئی۔

سائرہ کا باپ ایک بیورو کریٹ تھا، اسے یوسف کے بیک گراؤنڈ کی کرید تھی۔
اس دن سائرہ یوسف کو چائے کے بہانے اپنے والدین سے ملوانے لائی ہوئی تھی۔
وہ ایک ایک کر کے بیگ صاحب کے ہر سوال کا جواب اپنے فطری اعتماد اور روانی سے دیتا چلا گیا۔
بیگ صاحب کے لیے یہ انکشاف ہی لرزہ خیز تھا کہ ان کی بیٹی ایسے لڑکے کے ساتھ پھر رہی ہے جو ایک انتہائی پسماندہ علاقے کا رہنے والا ہے، اور اس کا باپ سپیرا ہے۔ شہر میں اس کے اخراجات برداشت کرنے والا کوئی مخیر بندہ ہے۔
برخودار ہم تو کتا بھی نسلی رکھنے کے قائل ہیں۔ بیگ صاحب نے اپنی عینک کے اوپر سے یوسف کو گھورا۔
تمھارے اصلی باپ کا پتہ نہیں کہ کون تھا کون نہیں۔ جس نے تمھیں پالا وہ ایک سپیرا ہے۔ یہاں شہر میں تم نے ایک تیسرا باپ بنا رکھا ہے۔ اور تم منہ اُٹھا کے یہاں چلے آئے ہو۔ کیا سوچ کے؟ کہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمھارے ہاتھ میں تھما دوں گا۔
ناگ سائیں چپ چاپ چیونگم چباتے ہوئے اپنے گھٹنے پر دھری دوسری ٹانگ لاپروائی سے ہلاتا رہا۔
میرا خیال ہے انکل انسان اپنی ذات برادری سے نہیں اپنے افکار اور اپنے کردار سے چھوٹا بڑا ہوتا ہے، لیکن میں نے آپ کی باتوں کا بالکل برا نہیں منایا، کیونکہ آپ سائرہ کے پاپا ہیں۔ یوسف کے انداز پر بیگ صاحب کا پارہ ہائی ہو گیا۔
اس سے بولو کہ یہاں سے دفع ہو جائے، اس سے پہلے کے میں اسے اُٹھا کے باہر پھینکواؤں۔
بیگ صاحب سائرہ پر دھاڑے۔ سائرہ نے پہلے ہی اپنا سر تھام رکھا تھا، وہ اس سے پہلے یوسف کے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ اسے یوسف سے محبت تو تھی لیکن یہ جدید دور کی بڑی کیلکولیٹڈ محبت تھی، جس میں سود و زیاں کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ سائرہ جانتی تھی کہ اس کے لیے اس کے برطانوی نیشنل ڈاکٹر کزن کا رشتہ بھی آیا ہوا ہے۔ وہ یوسف کی طرح ڈیشنگ ہیرو نا سہی ایک روشن مسقبل کا حامل امیر کبیر آدمی ہے، ویسے بھی لندن میں رہنا اس کا خواب تھا۔
یہاں سے چلے جاؤ یوسف، اور آئندہ مجھ سے ملنے کی کوشش مت کرنا۔ سائرہ نے ڈرائنگ روم سے نکلتے ہوئے رکھائی سے کہا۔

یوسف کا سارا اعتماد ہوا ہو چکا تھا۔ زندگی میں پہلی دفعہ اس نے ذلت محسوس کی۔ اس کے بعد یوسف کبھی یونیورسٹی نہ جا سکا۔ وہ سارا دن اپنے فلیٹ کے بستر پر پڑا چھت کو گھورتا رہتا۔ کچھ دن بعد رمضان صاحب اس سے ملنے آئے تو اس کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ یوسف کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ جسم اور کپڑے میل سے اٹے ہوئے تھے۔ آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے اور کثرت سگریٹ نوشی سے ہونٹ سیاہ ہو رہے تھے۔ رمضان صاحب زبردستی یوسف کو اپنے بنگلے پر لے گئے، لیکن یوسف کی بے کلی کم نہیں ہو رہی تھی۔ وہ ہر چیز سے لاتعلق اور بیزار ہو چکا تھا۔ رمضان صاحب نے اسے اپنے ایک ویلفیئر ہاسپٹل کے معاملات کو دیکھنے کی تجویز پیش کی۔ یوسف کی فطرت میں اپنی نانی مریم کی طرح انسانیت کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، اس لیے اسے یہ تجویز پسند آئی۔ اس طرح یوسف نے فلاحی ہاسپٹل کے معاملات دیکھنے شروع کر دیے اور آہستہ آہستہ خود کو ان میں غرق کر لیا۔ یوسف کی زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آ رہی تھی کہ ایک دن حاجی رمضان کو کسی نے قتل کر دیا۔ یوسف کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا۔ حاجی رمضان نے اسے سگی اولاد سے بڑھ کر پالا تھا، مزید ستم یہ ہوا کہ کچھ دن بعد پولیس نے یوسف کو حاجی رمضان کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
(جاری ہے)

کہانی کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

کہانی کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.