تحریر کا سائیڈ شو - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

جب تک چاٹ میں بارہ مصالحے نہ ہوں، چاٹ کا سواد ادھورا رہتا ہے.
جب تک گول گپے کا پانی پی کر سی سی اور چٹخارے کی آواز نہ نکلے. گول گپے کھائے نہ کھائے ایک برابر.
اسی طرح آج کل تحریر کو پڑھ کر زبان سے سی نہ سہی، کم از کم کانوں سے دھواں نکلنا چاہیے، ورنہ تحریر کالم یا بلاگ کے معیار پر پوری نہیں اترتی.
سیدھی سادھی رومانٹک فلم لگانے سے کھڑکی توڑ رش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک ’’ہمراہ سائیڈ شو‘‘ کا لارا نہ ہو.
اسلام کی خدمت اور اپنی والہانہ محبت کا اظہار دریدہ دہن گالی کے بغیر کیسے کر سکتے ہیں.
جس تحریر میں سرخ بتی والے بازار کا نام نہ لیا جائے یا اس میں پائے جانے والی مخلوق کا ذکر شریف نہ کیا جائے، تحریر اپنے معنی کے ابلاغ میں سراسر ناکام رہتی ہے.
میٹھی میٹھی آب جو کی طرح نرم بہاؤ میں بہتی تحریر میں اگر سونامی کے جیسی لہر بلند نہ ہو تو اسے پڑھنا محض وقت کا ضیاع ہے.

سو تمام اچھے کاروباری حضرات کی مانند سکہ بند لکھاریوں نے اپنی اپنی دالوں کو ہری اور لال مرچ کی طرح سی سی اور سوں سوں کرواتے الفاظ اور جملوں کا تڑکا لگانا شروع کر دیا ہے کہ اس کے بنا کھڑکی توڑ رش نہیں ملتا. اردو کی خدمت کے بجائے گالیوں اور ایسے ذومعنی جملوں سے آراستہ تحاریر ملتی ہیں کہ جن کے مفہوم کی گہرائی سے سیپ میں بند گوہر کی صورت نت نئی تراشیدہ و ناتراشیدہ گالیوں کا خزانہ برآمد ہوتا ہے.

اس سارے دور کے گزرنے کے بعد ایک نئی لغت ضرور وجود میں آئے گی چاہے سینہ گزٹ میں ہی کیوں نہ آئے جو صرف ’’زبان کو گندا کیے بغیر گالی کیسے دی جائے‘‘ کے طریقے سکھائے گی. گالی دے کر ثواب کمانے کے طریقے. بازار کا نام لے کر مزار پر دھمال سکھانے کے انداز. الفاظ کی قینچی سے ایسی صفائی سے کسی کو عریاں کر ڈالنا کہ جملوں میں برہنگی کی جھلک نہ ملے. ہاتھوں کو خون آلود کیے بغیر قتل کرنا.

یہ بھی پڑھیں:   ایکسپریس ٹربیون کا پست معیار صحافت - ہمایوں مجاہد تارڑ

صحافت و تحریر کا معیار اب سائیڈ شو کے بنا طے نہیں ہوتا. وہ سب لکھاری جن کی تحاریر سے اردو اور ادب کے دیے کو تیل ملا کرتا تھا، اب اپنے قلم سے گھنگھرو باندھ کر لکھتے ہیں. سو ان کے الفاظ قرطاس کو بالاخانہ سمجھ کر رقص کرتے ہیں. تماش بینوں کی واہ واہ ضرور پاتے ہیں لیکن یہ رقصاں الفاظ کسی بامقصد مفہوم کے ابلاغ سے عاری ہیں.

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں