میرا شجرہ نسب تو آدمؑ سے ملتا ہے - ابو حسن

رمضان المبارک کے بابرکت ایام تھے اور آخری عشرہ شروع ہونے والا تھا۔ میں (ابو اُمامہ) نے مسجد نبوی میں اعتکاف کرنے کا ارادہ کرنے کے بعد ریاض شہر سے مدینہ منورہ کے لیے رخت سفر باندھا اور مسجد نبوی پہنچ گیا۔ مسجد کے دروازے پر بیٹھے خدام سے سلام و دعا کے بعد اپنا مختصر سامان دکھایا اور نام و شہریت وغیرہ کا اندراج کروا کر اندر داخل ہوگیا۔

کچھ دوست، جو کہ پہلے ہی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، وہ بھی مسجد نبوی میں مل گئے۔ ان میں عبداللہ، صابر اور محمد بھی شام تھے۔ میں نے ان کے ساتھ ہی اپنا سامان رکھا اور الماری کا نمبر یاد کرلیا۔ ہمارے دائیں طرف کچھ سعودی نوجوان بھی اعتکاف میں تھے، یوں ان کے ساتھ بھی سلام دعا ہوگئی۔

ایک روز محمد اچانک آیا اور سلام کرتے ہی کہنے لگا کہ بو اُمامہ! میرے ساتھ چلیں کسی سے بات کرنی ہے۔ میں نے اس کی غیر معمولی اجلت دیکھتے ہوئے پوچھا کہ ‘بھائی ہوا کیا؟ اتنی جلدی میں کیوں ہو؟ پہلے آرام سے بیٹھو اور بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے؟’۔ محمد بتانے لگا کہ اس کی ملاقات ایک پیر صاحب سے ہوئی ہے اور وہ ایک کتاب بھی لکھ چکے ہیں جو بقول پیر صاحب نعتوں پر مشتمل رسالہ ہے، مگر اس کے اندر شرکیہ کلام اور گھٹیا باتیں بھی موجود تھیں۔ محمد خواہش تھی کہ میں اس کے ساتھ چلوں اور اس پیر سے بات کروں۔ میں نے کہا ‘محمد! تم وہ رسالہ کچھ وقت کے لیے مانگ کر لے آؤ تاکہ میں خود اس کو پڑھ لوں اور تسلی کرلوں کہ آیا تمہارے خدشات درست ہیں یا نہیں۔’ محمد چلا گیا اور تقریباً نصف گھنٹے بعد لوٹا تو اس کے ہاتھ میں وہ رسالہ بھی موجود تھا۔ میں نے رسالے کو پڑھا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ محمد کی باتیں غلط نہ تھیں۔

میں نے محمد سے پوچھا کہ پیر صاحب کہاں پر ہیں؟ تو اس نے کہا کہ وہ ریاض الجنہ کے پیچھے دوسرے صحن میں موجود ہیں جہاں پر چھتریاں لگی ہوئی ہیں۔ میں نے محمد کو کہا کہ تم اس کے پاس جا بیٹھو اور میں گھوم کر دوسری طرف سے آتا ہوں، تمہیں دیکھوں گا تو تمہارے پاس آکر اس انداز میں مخاطب کروں گا کہ جیسے کافی عرصہ بعد مل رہے ہیں اور پھر تم مجھے بیٹھنے کا کہہ کر یہ بتانا کہ حضرت سے ملو جو پاکستان سے آئے ہیں، پھر اس کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنیں گے اور پھر اس سے بات کروں گا۔ ہم دونوں میں یہ طے پایہ اور محمد اٹھ کر چلا گیا۔

کچھ دیر کے بعد میں بھی گھوم کر اسی طرح پیر صاحب کے پاس پہنچا۔ میں نے اچانک آواز دی محمد! اور وہ بھی جلدی سے کھڑا ہوا اور گرم جوشی سے گلے ملا۔ پھر پیر صاحب سے تعارف کروایا اور بیٹھنے کو کہا۔ میں دو زانو التحیات کی شکل میں پیر صاحب کے سامنے بیٹھ گیا۔ پیر صاحب نے علیک سلیک کی اور اپنے مرید کے ساتھ باتوں میں لگ گئے جو کہ پہلے سے ہورہی تھیں، میں بھی باتیں توجہ سے سننے لگا۔ پیر صاحب اور ان کے مرید کے درمیان ہونے والی گفتگو کچھ یوں ہوئی:

پیر صاحب: ان کو تو میں دیکھ لوں گا وہ سب تو ہیں ہی نیچ اور گھٹیا۔
مرید: جی شاہ جی، آپ سیّد زادے ہیں اور یہ سب اپنی آخرت برباد کرنے پر تلے ہیں۔
پیر صاحب: یہ مجھے صحیح سے جانتے نہیں، میں تو اپنا 'شجرہ نسب' چھپوانے والا ہوں، واپس جاکر جو کمی بیشی رہ گئی ہے اس کو پورا کر کے پرنٹنگ کا کہہ دونگا اور تونے دیکھا یہ میرے کلام کا رسالہ؟ اس کی ‘دس ہزار’ کاپیاں چھپوائی ہیں میں نے، امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں بھی بھیجی ہیں (یہ ہم پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بتا رہا تھا اور اسی وقت میں نے اس سے وہ رسالہ دیکھنے کے لیے مانگ کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا)۔
مرید: جی شاہ جی، یہ تو بہت اچھی خوش خبری سنائی آپ نے۔
پیر صاحب: تمہیں پتہ ہے میرا شجرہ نسب کس سے جاکر ملتا ہے؟
مرید: نہ شاہ جی۔
پیر صاحب: میرا شجرہ نسب 'ابراہیم علیہ السلام' تک پہنچتا ہے۔
مرید (خوشی اور حیرانگی کے ساتھ): ‘جیوے میرے شاہ جی’۔
پیر صاحب: یہ لوگ جو میرے خلاف بکواس کرتے پھرتے ہیں، گاؤں میں ان سب کے منہ بند ہوجائیں گے اور تجھے پتہ ہے ‘پیران پیر’ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ تو اگر اپنے پیر کو زنا کرتا ہوا بھی دیکھے تو اپنے پیر کو برا نہ کہو، کیونکہ تم نے جو دیکھا وہ پیر کے اندر نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کا فتور ہے۔

شیخ عبدالقادر جیلانی پر اس نام نہاد پیر نے بہت بڑا بہتان لگایا۔ اس سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں جو کچھ مرضی کروں کسی کو مجھ پر اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی بات نے مجھے مضطرب کردیا اور میں نے پیر کے گھٹنہ پر ہاتھ رکھ زور سے دبایا اور کہا کہ ‘خاموش! اس سے آگے ایک لفظ بھی نہ بولنا، تم کیا بکے جارہے ہو؟ اور تمہیں بتادوں میرا تعلق یہاں کے ادارے ‘هيئة الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر’ سے ہے۔ اس کے بعد ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ پیش خدمت ہے۔

پیر صاحب: کیا ہوا جناب؟
ابو اُمامہ: تم اپنی فضول بکواس کو شیخ عبدالقادر جیلانی کے ساتھ جوڑ رہے ہو اور پھر مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا ہوا؟ تم نے عمرہ کیا ہے؟
مرید (مجھے روکتے ہوئے): جناب! آپ شاہ جی کی لٹیں دیکھ کر پوچھ رہے ہیں؟ شاہ جی نے تو حج پر بھی یہ نہیں کاٹی تھیں۔
ابو اُمامہ: اتباع رسول صلى الله عليه وسلم نہیں تو حشر کے دن نسب کام نہیں آئے گا، اور تمہار ا شجرہ نسب ابھی ‘ابراہیم علیہ السلام’ تک پہنچا ہے اور جانتے ہو میرا شجرہ نسب کس سے ملتا ہے؟
پیر صاحب: نہیں حضرت۔
ابو اُمامہ: میرا شجرہ نسب ‘آدم علیہ السلام ‘ سے جا ملتا ہے۔

پیر صاحب ہونقوں کی طرح مجھے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟ اور یہ تو آسان سی بات ہے کہ بے شک ہم سب ‘آدم علیہ السلام’ کی اولاد ہیں اور ہمارا شجرہ نسب انہی سے ملتا ہے۔ لیکن پیر صاحب کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ سمجھے کہ جو شجرہ نسب میں نے ان کو بتایا ہے وہ اعلی درجہ ہے۔ پیر صاحب کا تعلق پنجاب کے کسی دیہات سے تھا اس لیے انہوں نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں جن میں ہونٹ دکھائی بھی نہیں دیتے تھے. ان کی داڑھی بھی خاصی لمبی تھی اور زلفیں تقریبا دو بالشت لمبی کمر پر لٹک رہی تھیں۔ یہ ظاہری حلیہ ایسا تھا جیسے کوئی چھٹا ہوا بدمعاش ہو۔

پیر صاحب: حضرت! آپ ناراض نہ ہوں۔
ابو اُمامہ: یہ نعتیہ اشعار کی کتاب میں تم نے کیا گھٹیا باتیں؟ پھر میں نے یہ شعر بتایا:
‘عجب نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے یہاں روضہ رسول پر
درمیاں وہابی، نجدی کتوں کے اور سنیوں کے’
تمہیں پتہ بھی ہے نعت کسے کہتے ہیں؟ نعت یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تعریف اور وہ بھی صحیح تعریف نہ کہ اس میں غلو کیا جائے اور تم نے کیا لکھا ہے اس میں گالیاں؟ (چونکہ اور بھی بہت کچھ تھا جس کو یہاں پر لکھنا ادب اور اخلاق سے گرنے کی بات ہے) میں ابھی فون کرتا ہوں اور تمہیں ابھی پولیس والے ساتھ لے جائیں گے، ڈرنے کی ذرا بھی ضرورت نہیں ایک ہلکا سا جھٹکا لگے گا اور تمہارا سر دھڑ سے الگ ہو جائے گا، یہاں جلاد زیادہ زور سے تلوار گردن پر نہیں مارتا کیوں کہ تلوار بہت زیادہ تیز کی ہوئی ہوتی ہے۔

میں اس انداز سے بتا رہا تھا جیسے کیک کاٹنے کی بات ہورہی ہے اور پیر صاحب کا چہرہ زردی مائل ہوگیا اور انہوں نے جلدی سے میرے گھٹنے تھام لئے۔

پیر صاحب: حضرت! آپ مجھے معاف کردیں یہ جو غلطی ہوگئی آئندہ کبھی نہیں ہوگی اور میں نعتوں میں ایسی باتیں اب کبھی نہیں لکھوں گا، آپ مجھےاپنا پتہ بتائیں میں پہلی کاپی آپ کو بھیجوں گا پھر دیکھنا اس میں کوئی غلطی تو نہیں۔

جس طرح اس نے میرے گھٹنے پکڑے ہوئے تھے اور معافیاں مانگ رہا تھا، اس سے لگ رہا تھا کہ میں اس کا پیر ہوں اور وہ میرا مرید۔

ابو اُمامہ: ٹھیک یہ نیت کرو کہ ایسا گھٹیا کام پھر سے نہیں کرو گے اور جب بھی دعا کرو اللہ تعالی سے معافی مانگو اپنی غلطیوں کی۔
پیر صاحب: جی جی حضرت! ایسا ہی کروں گا۔
میں نے رسالہ ہاتھ میں لیا، سلام کیا اور اپنے قیام کی طرف چل پڑا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس نے کتنے لوگوں کو اپنے جال میں پھانسا ہوگا اور کتنے لوگوں کے عقیدوں کو تہس نہس کیا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ فرمان رسول صلى الله عليه وسلم ذہن میں آیا: ‘عیر سے لیکر ثور پہاڑ تک مدینہ حرم ہے، چنانچہ جو شخص بھی اس میں کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے یا کسی بدعتی کو پناہ دیتا ہے تو اس پر اللہ تعالی، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن کوئی نفل یا فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔ (متفق علیہ)

بے شک مدینہ منورہ خیر و برکت سے ہمیشہ نہال رہا۔ یہ پاکیزہ اور پیارا شہر ہے. اللہ تعالی نے اسے اسلام کا آفاقی پیغام پھیلانے کا مرکز بنایا۔ یہاں پر اپنی وحی نازل فرمائی، اپنے مجتبیٰ اور مصطفیٰ نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت یہیں سے پھیلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر روزِ قیامت تک ڈھیروں دورد و سلام ہوں۔ یہ شہر قلعۂ ہدایت ہے، یہ جارحیت کے سامنے ٹھوس چٹان ہے، یہ شہر مینارۂ اسلام، ایمان کے لیے جائے پناہ، عقیدے کا نشیمن، مرکز تہذیب، اور عالم اسلام کے لیے سربراہی، سروری اور رہبری کا ماخذ ہے۔

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */