اپریل فول:حماقت نہیں ہے توپھراورکیاہے؟ لقمان عثمانی

حد ہو گئی رذالت و خساست،جہالت و سفاہت،حماقت ورکاکت اور ظلمت وضلالت کی کہ لوگوں نے ایسے ایسے بدعات و خرافات ایجاد کر لیے جو شرعا درست ہیں نہ عقلا اور نا ہی کسی ہوش مند انسان کی طبیعت جنہیں قبول کر سکتی ہے مگر افسوس تو اس وقت ہوتا ہے جب ہماری قوم بھی مسلم اور اسلام دشمن افرادکے احمقانہ رسومات میں حصہ لیکر انکا ساتھ اور اپنی کم عقلی کا ثبوت دیتے ہیں ؟چنانچہ آپ مشاہدہ کر لیں! کل یکم اپریل ہے جو "اپریل فول" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے؛ جس میں لوگ ایک دوسرے سے عملی مذاق کرتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں اور انہیں بیوقوف بنا نے میں کامیابی حاصل کرنے کی خوشی میں جشن مناتے ہیں،اسکی پرواہ کیے بغیر کہ اس بیہودہ مذاق سے مخاطب ومتاثرکو کتنی تکلیف پہنچ سکتی ہے اور کتنا بڑا نقصان ہوسکتا ہے ?

اس رسم بد کی ابتداء4 کہاں سے ہوئی اور اسکی تاریخ کیا ہے؟ اس سلسلے میں مؤرخین،علماء4 اورمحققین مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہیں اگر چہ کسی ایک کو حتمی طور پر متعین،مصدق اورمتیقن کہنادشوار ہے؛لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی مبنی بر حقیقت ہو یا کسی حد تک حقیقت کے قریب بھی ہو تو ایسی صورت میں مسلمانوں کا اپریل فول منانا خود کو طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے ?
اپریل فول کی حقیقت:
کہا جاتا ہے کہ جب عیسائیوں نے اسپین کو فتح کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا
خون کی ندیاں بہا کر تھک جانے کے بعد بادشاہ فرڈینینڈ نے اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ہے اسلیے ہم نے ایک اسلامی ملک میں انہیں بسانے کا فیصلہ کر لیا ہے چناچہ جو مسلمان وہاں جانا چاہے وہ بذریعہ بحری جہاز جا سکتا ہے ۔
۔مسلمانوں نے اسلامی ملک بسانے کی خوشی میں جہاز کی طرف رخ کیا اور اس پر سوار ہو گئےْ
جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہونچا تو بادشاہ فرڈنینڈ کے فوجیوں نے بارود کے ذریعہ اس میں سوراخ کردیا اور اور دیکھتے ہی دیکھتے جہاز مسافرین سمیت غرقاب ہوگیا ۔
بادشاہ کی اس شرارت پر عیسائی دنیا نے اسکا پر زور استقبال کیا اور وہ یکم اپریل کا دن تھا ۔
بادشاہ کی اس کمینگی،سفلہ پن،خباثت ،مسلمانوں کو بے وقوف بنانے اور انہیں ڈبونے کی خوشی میں (first april fool) منایا گیا پھر اسپین کی سر حدوں سے نکل کر مغربی دنیا میں اور اس کے بعد چہاردانگ عالم میں خوشی کے ساتھ اس دن کو اپریل فول کے نام سے منایا جانے لگا
یہ ہے اپریل فول کی حقیقت!
چنانچہ جو مسلمان ان ظالموں کی اس خوشی میں شریک ہوتے ہیں وہ گویا اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کو ہلاک کرنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں
اور اگر ان واقعات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ ہو پھر بھی اک مسلمان کے لیے اس بیہودہ رسم میں کسی طرح کا حصہ لینا جائز نہیں ہو سکتا ۔
کیوں کہ یہ فعل بد چند ایسی برائیوں اور گناہوں پر مشتمل ہے جسکی وعید آئی ہے
(1)جھوٹ بولنا: جس طرح شراب ام الخبائث ہے اسی طرح جھوٹ بولنا بھی تمام برائیوں کی جڑ ہے نیز اللہ تعالی نے فرمایا:‘ گویا کہ اللہ رب العزت نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہو اسکی ہلاکت امر یقینی ہے ۔
(2)دھوکہ دینا: حدیث میں آیا ہے: "من غشنا فل?س منا" (جو دھوکہ دے وہ مسلمان نہیں ہے) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دھوکہ دینا بھی کتنا بڑا جرم ہے نیز دوسری حدیث میں جھوٹ اور دھوکہ دہی؛دونوں کو منافق کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے ?
(3)تمسخر: جب کسی کو بے وقوف بنانے میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے پھر اسکا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اور اس پر ہنسا بھی جاتا ہے؛ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایاجس میں صاف لفظوں میں کسی کا بھی مذاق اڑانے سے منع کیا گیا ہے ?
اسی طرح مسلمانوں کو ایذا رسانی اور جانی،مالی،ذہنی وجسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ دیگر برائیاں بھی شامل ہیں
لہذا:مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس لغو،بے ہودہ اور خلاف تہذیب مذاق اور وقار انسانیت کے منافی اس رسم سے دور رہیں، یہی اسلام کا مطالبہ بھی ہے اور یہی عقل و خرد کا تقاضا بھی!

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • […] اس رسم بد کی ابتداء4 کہاں سے ہوئی اور اسکی تاریخ کیا ہے؟ اس سلسلے میں مؤرخین،علماء4 اورمحققین مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہیں اگر چہ کسی ایک کو حتمی طور پر متعین،مصدق اورمتیقن کہنادشوار ہے؛لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی مبنی بر حقیقت ہو یا کسی حد تک حقیقت کے قریب بھی ہو تو ایسی صورت میں مسلمانوں کا اپریل فول منانا خود کو طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے ? اپریل فول کی حقیقت: کہا جاتا ہے کہ جب عیسائیوں نے اسپین کو فتح کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا خون کی ندیاں بہا کر تھک جانے کے بعد بادشاہ فرڈینینڈ نے اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ہے اسلیے ہم نے ایک اسلامی ملک میں انہیں بسانے کا فیصلہ کر لیا ہے چناچہ جو مسلمان وہاں جانا چاہے وہ بذریعہ بحری جہاز جا سکتا ہے ۔ ۔مسلمانوں نے اسلامی ملک بسانے کی خوشی میں جہاز کی طرف رخ کیا اور اس پر سوار ہو گئےْ جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہونچا تو بادشاہ فرڈنینڈ کے فوجیوں نے بارود کے ذریعہ اس میں سوراخ کردیا اور اور دیکھتے ہی دیکھتے جہاز مسافرین سمیت غرقاب ہوگیا ۔ بادشاہ کی اس شرارت پر عیسائی دنیا نے اسکا پر زور استقبال کیا اور وہ یکم اپریل کا دن تھا ۔ بادشاہ کی اس کمینگی،سفلہ پن،خباثت ،مسلمانوں کو بے وقوف بنانے اور انہیں ڈبونے کی خوشی میں (first april fool) منایا گیا پھر اسپین کی سر حدوں سے نکل کر مغربی دنیا میں اور اس کے بعد چہاردانگ عالم میں خوشی کے ساتھ اس دن کو اپریل فول کے نام سے منایا جانے لگا یہ ہے اپریل فول کی حقیقت! چنانچہ جو مسلمان ان ظالموں کی اس خوشی میں شریک ہوتے ہیں وہ گویا اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کو ہلاک کرنے والوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور اگر ان واقعات کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ ہو پھر بھی اک مسلمان کے لیے اس بیہودہ رسم میں کسی طرح کا حصہ لینا جائز نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ یہ فعل بد چند ایسی برائیوں اور گناہوں پر مشتمل ہے جسکی وعید آئی ہے (1)جھوٹ بولنا: جس طرح شراب ام الخبائث ہے اسی طرح جھوٹ بولنا بھی تمام برائیوں کی جڑ ہے نیز اللہ تعالی نے فرمایا:‘ گویا کہ اللہ رب العزت نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت بھیجی ہے اور جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہو اسکی ہلاکت امر یقینی ہے ۔ (2)دھوکہ دینا: حدیث میں آیا ہے: “من غشنا فل?س منا” (جو دھوکہ دے وہ مسلمان نہیں ہے) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دھوکہ دینا بھی کتنا بڑا جرم ہے نیز دوسری حدیث میں جھوٹ اور دھوکہ دہی؛دونوں کو منافق کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے ? (3)تمسخر: جب کسی کو بے وقوف بنانے میں کامیابی حاصل ہوجاتی ہے پھر اسکا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے اور اس پر ہنسا بھی جاتا ہے؛ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایاجس میں صاف لفظوں میں کسی کا بھی مذاق اڑانے سے منع کیا گیا ہے ? اسی طرح مسلمانوں کو ایذا رسانی اور جانی،مالی،ذہنی وجسمانی نقصان پہنچانے کے ساتھ دیگر برائیاں بھی شامل ہیں لہذا:مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس لغو،بے ہودہ اور خلاف تہذیب مذاق اور وقار انسانیت کے منافی اس رسم سے دور رہیں، یہی اسلام کا مطالبہ بھی ہے اور یہی عقل و خرد کا تقاضا بھی! بشکریہ دلیل ڈاٹ پی کے […]