ٹیچر چاہیے - محسن حدید

اس نے چائے رکھی، ہاتھ باقاعدہ کانپ رہے تھے، اس نے دل میں سوچا اب تو باقاعدہ پریکٹس ہو چکی ہے، پھر ہاتھ کیوں کانپتے ہیں؟ یہ کوئی پہلی دفعہ تو ہے نہیں، اسے یاد آیا کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں یہ چوتھا واقعہ تھا جب وہ مہمانوں کے لیے چائے لے کر آئی ہو. یہ سوچ کر ہی اس کا دل جیسے زور سے دھڑکا، ایک بار تو اسے چکر آتے آتے رہ گیا. عجیب بے بسی، ذلت، تحقیر کی لہر اٹھی، وہ اندازہ لگانے میں ناکام رہی کہ بے بسی تھی، لاچاری تھی، ذلت تھی، تحقیر یا کچھ اور. ایک بار تو اسے یہی لگا کہ جیسے وہ کوئی مشین ہے، خودکار طریقے سے سارے کام انجام دیتی ہوئی مشین، لیکن وہ مشین نہیں تھی. یہ احساس اسے تب ہوا جب اپنے سراپے پر پڑتی ہوئی تنققیدی نگاہوں کی چبھن محسوس ہوئی، وہ مشین بالکل نہیں تھی، وہ تو ایک بھیڑ بکری ٹائپ کی کوئی مخلوق تھی، جیسے قصائی خریدنے سے پہلے کسی جانور کا بغور جائزہ لیتا ہے ایسے ہی سامنے بیٹھی خواتین اس کا جائزہ لے رہی تھیں. شکر ہے ابھی اتنی انسانیت باقی تھی کہ انہوں نے ٹٹول کر نہیں دیکھا، یہ سوچ ذہن میں آتے ہی وہ بےاختیار مسکرائی. سامنے والی خاتون اس کی مسکراہٹ سے تھوڑا گڑبڑا سی گئیں، لیکن وہ تو جیسے ٹرانس میں تھی، ابھی درد کے یہ لمحات مزید طویل تھے، سائیڈ صوفے پر بیٹھتے ہوئے اس نے سوچا۔

اماں بیٹی کی خوبیاں بیان کر رہی تھیں، مہمان خاتون بہت تہذیب سے چائے پی رہی تھیں، ایک ذرا بھی سڑ سڑ کی آواز انہوں نے پیدا نہیں ہونے دی، پہلی دفعہ اس نے ان کی باتوں کو غور سے سنا، کافی معقولیت کی بو آرہی تھی، اسے لگا شاید یہ آخری دفعہ ہے، اب کی بار قبولیت کا لمحہ اس کے نصیب میں بھی لکھا جا چکا ہے. اسے یاد آیا کہ رات سے وہ کتنی دعائیں کر رہی تھی. ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ اس نے باقاعدہ اپنے رب سے کہا تھا ’’اے اللہ! مجھے بنایا بھی تو آپ نے ہے، اپنی تخلیق کی قدر بھی آپ ہی لوگوں کے دلوں میں ڈال دیجیے.‘‘

اماں نے لڑکے کے بارے پوچھا، محترم خاتون اب بتا رہی تھیں کہ لڑکے نے ماشاءاللہ میٹرک کر رکھا ہے، دکان بھی اپنی ہے. اماں نے لڑکے کو باقاعدہ دعا دی. اسے یاد آیا کہ جب یونیورسٹی میں سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھے ہوئے اس نے کہا تھا کہ کیمسٹری میں ماسٹرز کے بعد بھی میں پڑھوں گی تو ایک لڑکی نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا تھا کہ اگر تمھاری شادی کسی کم تعلیم والے بندے سے ہوگئی؟ شادی کے نام پر ایک بار تو اس کے گال سرخ ہوگئے، ساتھ ہی وہ دوست پر جھپٹتے ہوئے بولی تھی کہ ایسا نہیں ہو سکتا، وہ مجھ سے زیادہ پڑھا لکھا ہوگا، بھلا ایک کم پڑھے لکھے بندے سے میرا کیا جوڑ؟ دیکھنا میرے لیے ماما بابا کتنا قیمتی بندہ ڈھونڈیں گے. قہقہہ پھوٹا اور بات ہنسی کے جلترنگ میں آئی گئی ہوگئی. خاتون کے ساتھ موجود ایک عمر رسیدہ مہمان کی آواز نے اسے جیسے دوبارہ حال میں پہنچایا تو اسے یاد آیا کہ لڑکے کی تعلیم صرف میٹرک ہے، اسے دورہ پڑنے لگا، اسے لگا کہ جیسے اس کا وجود کانپ اٹھا ہو، خواب ٹوٹ گیا ہو، تسلی کی آخری کوشش کرتے ہوئے اس نے کمرے میں موجود رہنے کی کوشش کی، حالات اور خواب کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش میں اس نے خود کو جیسے سمیٹنے کی ایک ناکام سی کوشش کی. اس نے خود کو یاد دلایا کہ اماں کہتی تھیں کہ جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں۔

خاتون اب کہہ رہی تھیں کہ لڑکی بہت کمزور ہے آپ کی. اماں نے بات سنبھالنے کی کوشش کی. وہ دھیان سے سن نہیں سکی، اس نے فریش نظر آنے کی ایک اور کوشش کی، ایک اور ناکام کوشش. لڑکی کا قد بھی کچھ زیادہ ہی چھوٹا ہے، خاتون اب باقاعدہ اس پر حملہ کر چکی تھیں، اماں کی خوشگواریت اب پریشانی میں بدل چکی تھی. اب دفاع کا مرحلہ تھا، وہ جانتی تھی کہ اگلا مرحلہ شکست کا ہوگا. ذہنی اذیت اب اس کے جسمانی قویٰ پر اثر کر رہی تھی، رات کی بےآرامی کے سبب سر میں ہونے والا ہلکا ہلکا درد اچانک شدید ہوگیا. اس نے پہلی بار بغور خاتون کی طرف دیکھا، وہ سینڈوچ سے انصاف کر رہی تھیں، اسے بے اختیار یاد آیا کل ٹی وی والے ایک سفاک ڈاکٹر کی خبر سنا رہے تھے جو دوران سرجری چائے پیتے ہوئے مریض کی جان جانے کا سبب بن گیا تھا. حالات کچھ مختلف نہیں تھے، وہ بھی جیسے آپریشن تھیٹر میں تھی. اسے لگا کہ جیسے خاتون دانتوں سے خوراک نہیں چبا رہیں بلکہ اسے بھنبھوڑ رہی ہیں. اماں اب سر جھکائے بیٹھی تھیں، اسے اپنے گلے میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکتا محسوس ہوا. وہ چیخنا چاہتی تھی لیکن کسی درندے کے سامنے بالکل نہیں، وہ اچانک اٹھی اور کمرے سے نکل گئی. تکیے میں سر دبائے اسے رب سے شکوے کرنا تھے. اسے اب نارمل ہونے میں کچھ دن چاہیے تھے. اسے یاد آیا کہ اماں نے پیچھے سے اسے آواز بھی دی تھی لیکن وہ اب نافرمانی کرنا چاہتی تھی. پتا نہیں کتنی دیر بعد اماں کمرے میں آئیں اور شکست خوردہ آواز میں اسے بتایا کہ وہ ٹیچر لڑکی چاہتے تھے، اسے پہلے ہی اندازہ تھا سو اس نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ اس کے علاوہ تو انہیں میری بیٹی پسند تھی، بس اب یہ نوکری ہوجائے تو یہ رکاوٹ بھی دور ہوجائے. اماں رندھی ہوئی آواز میں بات جاری رکھے ہوئے تھیں، وہ جانتی تھی کہ اماں جھوٹ بول رہی ہیں.

یہ ایک بیٹی کی کہانی نہیں، بہت ساری بیٹیوں کی کہانی ہے. ہمارے مڈل کلاس/ لوئر مڈل کلاس طبقے میں پیدا ہونے والی تازہ ترین برائی کی کہانی کہ لڑکی کمانے والی ہونی چاہیے. خدارا ہوش کریں، بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں، انھیں خودغرضی کے اس نئے پیمانے پر نہ تولیں. یاد رہے کہ وقت بدلتا رہتا ہے، آج کسی کی بیٹی کل کو آپ کی بیٹی کے روپ میں آپ کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہے. عورت کی زندگی کو اتنا مشکل نہ بنائیں، معاشرے میں وہ روایت نہ ڈالیں جو کل کو آپ کے لیے اذیت کا باعث بن جائے. شادی آسان بنائیں، رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے.