پانامہ کیس کا تیسرا فریق - شاف وکیل

سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کا فیصلہ ہونے جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر پاکستانی کی زبان پر بس یہی سوال ہے کہ "پانامہ کیس کا فیصلہ کب اور کیا آئے گا؟"۔ اس سلسلے میں پانامہ کیس کے دونوں فریق پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ عدالت عظمی جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اسے قبول کریں گے۔ لیکن اس مقدمہ کا تیسرا فریق بھی ہے جسے اکثریت نظر انداز کر بیٹھی ہے۔ اور وہ تیسرا فرق ہے کہ ایک عام پاکستانی۔

یہ تیسرا فریق اپنی حق حلال کی کمائی سے ماچس جیسی معمولی چیز سے لے کر کھانے پینے کی اشیاء تک اور بچوں کی کتابوں سے لے کر بیمار والدین کی دواؤں تک ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ امداد کرتا ہے تاکہ حکومت ان پیسوں سے بنیادی سہولیات فراہم کرسکے۔ اسی لیے یہ تیسرا فریق چاہتا ہے کہ حکومت اس کے علاج معالجے کے لیے اسپتال بنائے، بچوں کے لیے اسکول اور کالج بنائے۔ کیوں کہ اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ لندن جاکر علاج کروا سکے یا اپنے بچوں کو ائیر کنڈیشنڈ کمروں والے اسکول یا کالج بھیج سکے۔ تیسرا فریق چاہتا ہے کہ جن لوگوں نے اس کی نوکری اور اس کے بچوں کی روٹی چھینی، اور مسیحا کے روپ میں 70 سالوں سے استحصال کر رہے ہیں، اب ان لوگوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے. ان سے پوچھنا چاہیے کہ دو روٹی سے انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے اور ایک تم لوگ ہو، جن کا پیٹ بیس کروڑ عوام کی روٹی، پانی، بجلی، نوکریاں، ٹیکس کھا کر بھی نہیں بھرے، تو سن لو تمہارا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھرے گی:

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

اب اس تیسرے فریق کو بس اس پانامہ کیس سے اتنی غرض ہے کہ قانون کی بالادستی ہونی چاہیے۔ وہ قانون جو ہر وقت، ہر جگہ عام پاکستانی پر لاگو ہوتا ہے۔ جس قانون کے تحت میٹر ریڈر بجلی کاٹنے کی دھمکی دیتا ہے، جس قانون کے تحت میونسپلٹی کے لوگ اس کا ٹھیلا اٹھا پھینکتے ہیں، جس قانون کے تحت ٹریفک وارڈن ہر دوسرے دن اس کا چالان کرتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ قانون ان پر بھی لاگو ہو جو اس ملک میں قانون سے بالاتر سمجھے جاتے ہیں، جو انصاف کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتے ہیں اور جو دن دیہاڑے لاشیں گرانے کے باوجود بھی بچ جاتے ہیں۔ شاید شاعر نے ان لوگوں کے لئے ہی کہا تھا:

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچہ نہیں ہوتا

اس فریق کی بس یہی خواہش ہے کہ ہر خاص و عام کے لیے پیمانہ ایک ہی ہو۔ اک دفعہ کسی بڑے مگر مچھ کو سزا ہوگئی تو باقی خودبخود سیدھے ہو جائیں گے۔ تیسرا فریق کسی کو گولی مارنے کا مطالبہ نہیں کرتا بس انصاف چاہتا ہے۔

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */