علم بڑی دولت ہے - رفاقت حیات

وکیل صاحب نے ایل ایل بی کیا۔ اس کے لیے بہت پاپڑ بیلے۔ دن رات ایک کر کے محنت کی۔ راتوں کو خون جلایا۔ پوری پوری رات کتابوں کے ساتھ گزار دی۔ اللہ کا کرم ہوا۔ ایک عدالت میں وکیل لگ گئے۔ اپنے مؤکل کے لیے کیس لڑا۔ جیت گئے۔ اسی طرح ایک کے بعد دوسرا، ہر کیس لیتے اور جیتتے گئے۔ کامیابی کی منزلیں طے کرتے گئے۔ انہیں اپنی مقرر کردہ فیس کم محسوس ہوئی۔ دُگنا کردی۔ ابھی بھی کم لگی۔ تِگنا کر دی۔ کوئی فیس نہ دے پاتا تو طرح طرح سے ڈراتے کہ ایسا کرو گے تو ایسا ہو جائے گا۔ تم میری فیس ادا کردو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ مؤکل نے جائیداد بیچی۔ مگر کام نہیں چلا۔ بیوی کے زیور بیچ دیے۔ رقم اب بھی کم تھی۔ آخر کار ایک گردہ بیچنا پڑا۔ فیس پوری ہوگئی۔ وکیل کو ملی۔ وکیل نے کیس لڑا۔ جیت گیا۔ اب وکیل کے پاس کافی پیسہ تھا۔ وہ اب جان چکا تھا کہ واقعی 'علم بڑی دولت ہے' یا شاید بہت بڑی۔۔۔

******

وہ جب چھوٹا تھا تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی تھی۔ اس کا پیٹ شاذ و نادر ہی بھرتا تھا۔ جب کہیں محلے میں کوئی شادی ہوتی تب ہی وہ جی بھر کے کھاتا تھا۔ والدین نے کسی طرح پڑھایا۔ اپنا پیٹ کاٹ کر اسے شہر کے اچھے کالج میں داخل کروایا۔ اس نے اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اچھے نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ یونیورسٹی میں اسکالر شپ پائی۔ اس کی منزل سیاست تھی۔ وہ اس کی ساری منزلیں طے کرتا گیا۔ اپنی پالیسیوں کی بنا پر ہر الیکشن میں جیت اس کا مقدر ہوئی۔ ایک دن ملک کا وزیر اعظم بن گیا۔ وزارت کی کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے ہر چیز پر ٹیکس لگا دیا۔ پیٹرول مہنگا کر دیا۔ ادویات مہنگی ہوگئیں۔ ابھی بھی یہ کم لگا۔ گھروں پر ٹیکس لگا دیے۔ اسے دو سال گزر گئے۔ وہ سب جان گیا تھا۔ پیسہ کہاں سے اور کیسے اکٹھا کرنا ہے۔ اسے اپنی ذہانت اور اپنی علمی قابلیت پر ناز تھا۔ ٹیکسوں کی بھرمار سے اس کے بینک بھر گئے۔ دولت سوئس بینک میں رکھوانی پڑی۔ وہ اب جان چکا تھا کہ واقعی 'علم بڑی دولت ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:   بنیاد اور استاد سے عدم توجہی - ابو المنذر ابنِ طالب

******

اسے بچپن ہی سے اسکول کا پرنسپل بننے کا شوق تھا۔ اس نے کافی تگ و دو کی۔ دن رات پڑھا۔ امتحان دیے۔ نوکری کے حصول کے لیے دعائیں کیں۔ ایم فل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی۔ خدا خدا کر کے ایک اسکول میں ملازمت لگ گئی۔ اسے پرنسپل کا عہدہ دے دیا گیا۔ اس کی خواہش حقیقت کا روپ دھار چکی تھی۔ اسکول میں سختی شروع کی۔ رزلٹ اچھا آیا۔ اس کا حوصلہ ساتویں آسمان تک بلند ہوگیا۔ انعامات ملے۔ تنخواہ پہلے سے بڑھ گئی۔ اس کے پاس اچھی تعلیم تھی۔ اور بہترین نوکری بھی۔ اس نے بچوں کو اپنے پاس ٹیوشن لگوانے کی ہدایت کی۔ اسکول کی فیس اور ٹیوشن کی فیس علیحدہ علیحدہ لیں۔ اسکول کے آس پاس دکانوں پر یونیفارم اور سٹیشنری کی دکانوں سے ٹھیکہ کیا۔ بچوں کو مجبور کیا کہ وہ انہیں مخصوص دکانوں سے ہی ہر چیز لیں گے۔ اس طرح اس کے پاس بھی دولت کے انبار لگتے گئے۔ اس کی تجوری ہرروز بھرنے لگی۔ وہ اب جان چکا تھا کہ واقعی 'علم بڑی دولت ہے'۔

******

وہ صرف میٹرک پاس تھا۔ اس نے آرٹس پڑھی تھی۔ سائنس میں اس کی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ایک عالم دین بننا چاہتا تھا۔ اس نے حفظ کیا۔ ڈیڑھ سال میں قرآن مکمل کیا۔ آٹھ سال کے عالم کے کورس کے لیے اس نے مدرسے میں داخلہ لے لیا۔ اس کا ذہن اچھا تھا۔ وہ ہر چیز کو باآسانی سمجھ اور یاد کر لیتا۔ کئی سو حدیثیں اسے ازبر ہوگئیں۔ آٹھ سال بعد وہ ایک عالم بن چکا تھا۔ اپنے محلے کی مسجد میں دس ہزار روپے میں وہ امامت کرنے لگا۔ لوگوں کو دین کی ترغیب دی۔ ان کی اصلاح کی۔ انہیں آخرت یاد دلائی۔ خدا کے قریب کیا۔ غریبوں کی مدد کے لیے ایک ٹرسٹ کھولا۔ اپنے علاقے کے لوگوں کی مدد کی۔ ایک غریب عورت کی شادی کروائی۔ معذوروں کے لئے وھیل چیئرز منگوائیں۔ ان میں مفت بانٹیں۔ ایک ٹرسٹ کی بدولت اپنے محلے کے کئی غریبوں کی مدد کی۔ اس کا بنایا ہوا ٹرسٹ مزید پھلا پھولا۔ مزید لوگو ں نے مدد کی۔ اب وہ اپنے علاقے کے سب غریبوں کی مدد کرتا۔ دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا۔ اب اس کا سارا علاقہ خوشحال تھا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ واقعی 'علم بڑی دولت ہے'۔