وبائے لبرلزم کا مجددی علاج - محمد طاہر مرسلین

سیکولر و لبرل ریاستوں کو بطورِ نمونہ پیش کرتے ہوئے ان کی خامیاں چھپائی جاتی ہیں اور اچھائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا اور سیاسی رہنما برطانیہ، امریکہ اور فرانس وغیرہ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ ان ریاستوں کو جدید اور تہذیب یافتہ ممالک کہا جاتا ہے۔ ماضی کی چند سیکولر و لبرل حکومتوں کی ایسی دلکش منظر کشی کی جاتی ہے کہ افسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم اس دور میں پیدا کیوں نہ ہوئے۔ ہندوستان میں مختلف بادشاہوں نے حکومت کی جن میں بڑے مشہور اور عظیم حکمران شامل ہیں، لیکن جس بادشاہ کو آج کے دور میں سب سے عادل، معتدل مزاج، نرم خو اور بہترین فیصلہ ساز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، وہ اکبر بادشاہ ہیں۔ یہ منظر نگاری کس قدر درست ہے؟ اس سے قطع نظر اکبر کے خیالات آج کے دور کے لبرلز سے چندہ مختلف نہ تھے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدیدیت کے لبادے میں چپھی سوچ درحقیقت نئی نہیں ہے۔

آج ہمارے سیکولر لبرل حضرات جن قوانین و روایات کے نفاذ کا خواب دیکھتے ہیں، وہ سب بادشاہ جلال الدین اکبر نے نافذ کر ڈالے تھے۔ مثلاً بادشاہ اکبر تمام ادیان کے پیشواؤں کو بلاتے، ان سے مذہب کے بارے میں جانتے، جو بات انہیں پسند آتی اس کو قانون بنا دیتے۔ پھر یہ کام ایک شوریٰ کو سونپ دیا گیا. یہ قانون ساز اسمبلی، جو کہ چالیس افراد پر مشتمل تھی، تمام مذاہب کے قوانین اور رسم و رواج زیرِ بحث لاتی اور پھر جن پر اتفاق ہو جاتا ان کو نافذ کر دیا جاتا۔ اس سارے جانچ پڑتال اور انتخاب و تردید کا میزان عقل کو مقرر کیا گیا۔ اب اس عقلی دلیل پر مبنی جو قوانین نافذ ہوئے ان کی مختصر فہرست کچھ یوں ہے۔

1- قاضی کا نظام، جو فقہ اسلامی پر مبنی تھا، ختم کر دیا گیا۔ فقہ و شریعت کو اندھی تقلید کہہ کر رد کر دیا گیا۔
2- پردے پر پابندی عائد کر دی گئی اور حکم تھا کہ پردہ نہ کیا جائے۔ لیکن اگر کوئی برقعہ پہنے تو چہرہ کھلا رکھے۔
3- گائے ذبح کرنے پر نہ صرف پابندی لگائی گئی بلکہ حکم دیا گیا کہ جو اس کام میں ملوث ہو اس کے ساتھ کھانہ کھانے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے، چاہے وہ اس کی بیوی ہی کیوں نہ ہو۔
4- شادی کی عمر مقرر کر دی گئی اور پھر عمر کی تصدیق کے لیے مراکز بنائے گئے۔ ان میں جو کچھ ہو سکتا تھا، ہوتا رہا۔
5- جنسی ضروریات کی آگ بجھانے کے لیے شیطان پور کے نام سے بستی قائم کی گئی۔ وہاں پر تعینات عملے کے ساتھ ساز باز سے یہ کام ممکن بنایا جاتا۔
6- دینی علوم پر قدغن لگائی گئی اور اس کی جگہ فلسفہ، علم نجوم اور حساب کی تعلیم رائج کی گئی۔
7- عربی زبان کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔
8- مذہب کی تبدیلی کا قانون پاس کیا گیا جس کے تحت اگر کوئی عورت اسلام قبول کر کے شادی کرلے تو اس کو ہر صورت گھر والوں کے حوالے کرنا لازم ٹھہرایا گیا۔

یہ آج کے دور کی کسی ریاست کے قوانین نہیں ہیں۔ ان قوانین کے نفاذ سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مذہبی رواداری عروج پر ہوتی، امن و آشتی کا دور دورا ہوتا، ہندو مسلم ہاتھ میں ہاتھ ڈالے نظر آتے، لیکن حقیقت یکسر مختلف ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار و تمسخر سرکاری سطح پر ترویج دیا گیا۔ اسلام کے مقابل ایک نیا دین گھڑا گیا اور اسے 'دین الٰہی' کا نام دیا گیا۔ جو اس کو مان لیتا وہ مسلمان توقیر و عزت کا حقدار ٹھہرتا جبکہ انکار کرنے والے کو مطعون کیا جاتا۔ ہندو براہمنوں کو تو عزت بخشی جاتی لیکن حق پرست مسلمان کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتے۔ پھر صورت حال یہ ہوگئی کہ غیر مسلم اپنے تہوار خوب شان و شوکت سے مناتے اور مسلمانوں کے تہواروں کا مذاق اڑاتے۔ مساجد کو گرا کر اپنی عبادت گاہیں بناتے جس پر مسلمان شکوہ بھی کرنے کے قابل نہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کے مسئلے کا ایک اور تناظر - ڈاکٹر رضوان اسد خان

موجودہ لبرل ریاستوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ فرانس میں جس طرح اسلام پر پابندیاں نافذ کی گئی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کینیڈا اور امریکہ میں جس طرح مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نظرِ آتش کیا جاتا ہے، وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ آئے روز مسلمان جن تضحیک آمیز رویوں اور جملوں کا یورپ اور امریکہ میں سامنا کرتے ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ غرض یہ کہ سیکولر لبرلزم کا نظام جس دور میں نافذ ہوا اس کا اصل حدف آخر کار صرف دینِ اسلام بنا۔ یہ ہے وہ خواب جو ہمارے ملک کے سیکولر و لبرل طبقات دیکھتے ہیں۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

جب بھی کفر کی پھونکوں سے حق کا چراغ ٹمٹمانے لگتا ہے، خدا اسے مزید نور سے بھر کر حزب الشیطان کو ناکام و نا مراد لوٹا دیتا ہے۔ اللہ نے یہ کام اس دور میں جس ہستی سے لیا، انھیں آج دنیا امام احمد ربانی مجدد الف ثانی کے نام سے جانتی ہے۔ سرہند میں پیدا ہونے والے اس مردِ قلندر نے نہ صرف حکمرانوں کی اصلاح فرمائی بلکہ اسلامی معاشرے میں پھیلے فرقہ پرستی، تہمات، بدعات اور ہندوانہ رسومات کو اللہ کی مدد و نصرت کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

مجدد الف ثانیؒ نے جو تدبیر ان حالات میں اختیار فرمائی وہ آج بھی اتنی ہی قابلِ عمل اور موثر ہو سکتی ہیں۔ بیشک اتنا بڑا کام اللہ کی منشأ و نصرت کے بغیر ممکن نہیں، لیکن اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے۔ مجددالف ثانیؒ نے جب اس راہ کو اختیار فرمایا تب حالات کو بدلنا اتنا ہی نا ممکن نظر آتا تھا جیسا کہ آج دکھائی دیتا ہے۔ امام سرہندیؒ نے جو تدبیر اختیار فرمائی اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1- انھوں نے حکمران طبقے میں اپنی تعلیمات کو پہنچایا اور ان کو اپنا گرویدہ بنایا۔
2- اپنے مریدین کا جال مختلف علاقوں تک پھیلایا۔ جس سے ان کے پیغامات خطوط کی صورت کسی مربوط مواصلاتی نظام کے بغیر تیزی سے دور دراز علاقوں تک پہنچتے تھے۔
3- اپنے خطوط، مباحث اور مناظروں کا سلسلہ شروع فرمایا جس سے جاہل علما، پیروں اور تہمات کا خاتمہ ممکن ہوا۔

امامؒ کا ماننا تھا کہ جیسے حکمران ہوتے ہیں ویسی رعایا ہو جاتی ہے۔ اس لیے انھوں نے سب سے زیادہ توجہ حکمران طبقے کی اصلاح میں فرمائی۔ بادشاہ اکبر کی وفات کے فوراً بعد آپ نے حکومت میں موجود اہم شخصیات سے رابطوں کا آغاز فرمایا اور ان میں یہ احساس پیدا کیا کہ اللہ نے ان کو جو اہم حیثیت بادشاہ کہ دربار میں عطا فرمائی ہے، وہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اگر انہوں نے اس نعمت کو اللہ کے دین کی تقویت کے لیے استعمال کیا اور بادشاہ کا دل اللہ کے دین کی طرف پھیرنے میں سرخرو ہوگئے تو وہ اللہ کے ہاں اجر عظیم کے حقدار ٹھہریں گے۔ یہ جاننا تو مشکل ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ بادشاہ کے اردگرد موجود لوگ مجدد الف ثانیؒ کے پیروکار بنے کیونکہ یہی لوگ بادشاہ اکبر کی وفات سے پہلے ان کے ساتھ تھے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان کی بدولت مجددؒ کے پیغامات اور تعلیمات بادشاہ جہانگیر تک پہنچنے لگیں۔ کچھ سازشی عناصر نے مجددؒ کو ریاست کا باغی ثابت کرنے کی کوشش کی جس کی پاداش میں آپ کو قید میں ڈالا گیا۔ لیکن آپ نے جیل میں رہ کر مزید لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ بادشاہ جہانگیر کو بھی احساس ہوا کہ آپؒ ریاست کے خلاف نہیں بلکہ اصلاح کے خواہاں ہیں۔ اس طرح آپؒ کو کچھ عرصہ براہ راست بادشاہ کے ساتھ رہنے اور شہزادہ خرم (شاہجہاں) کی تعلیم و تربیت کا موقع میسر آیا۔ حکومتی سر پرستی جو اسلام مخالف اقدامات کو حاصل تھی، وہ ان محنتوں اور ریاضتوں کی بدولت ختم ہوئی تو عام مسلمان بھی اصلاح کی طرف راغب ہوئے۔ شاہجہاں ایک اسلام دوست بادشاہ ثابت ہوئے اور ان کے بعد اورنگزیب عالمگیر نے اسلام کو جو شان و شوکت برِ صغیر میں دلوائی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اقبال نے تو مجدد الف ثانیؒ کے بعد اورنگزیب عالمگیر کو کفر و دین کے معرکے میں اپنے ترکش کا آخری تیر قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کے مسئلے کا ایک اور تناظر - ڈاکٹر رضوان اسد خان

درمیان کارزار کفر ودیں
ترکش مارا خدنگ آخریں

مجدد الف ثانیؒ کی جدوجہد اور کامیابی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حالات چاہے جتنے ابتر ہوجائیں، اللہ اپنے دین کے علم کو بلند کرنے کا انتظام فرما دیتا ہے۔ لہذا حالات کیسے بھی تاریک اور کٹھن نظر آئیں، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ چونکہ کوئی بھی کام تدبیر کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوا کرتا، چاہے کتنے ہی اخلاص اور اتحاد سے کیوں نہ کیا جائے۔

مجدد الف ثانیؒ کی تعلیمات اور تدابیر دین کا نفاذ چاہنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آج کے دور میں طاقت کے مراکز بدل چکے ہیں اور یہ قوت فوج، سیاست، عدالت اور بیوروکریسی میں جمع ہوگئی ہے۔ اگر دین کے نفاذ کی کوئی صورت ممکن ہے تو ان ہی اداروں میں موجود لوگوں کی کوششوں سے ممکن ہے۔ جس کے لیے ان اداروں میں دین کی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کا ہونا ضروری ہے۔

پاکستان کے اسلامی تشخص کو جو نقصان ابتدائی دور میں ان اداروں میں موجود لادین اور اسلام دشمن افراد نے پہنچایا وہ ہر گز ممکن نہ ہوتا اگر وہاں ان کی جگہ دین دار افراد موجود ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دین کا شعور رکھنے والے افراد ان اداروں تک رسائی حاصل کریں۔ اگر پوری دیانتداری کے ساتھ ان شعبوں کے لیے دین دار نوجوانوں کو تیار کیا جائے تو کچھ مشکل نہیں کہ ان اداروں میں پہنچنے والے افراد کی اکثریت اسلام کے خیر خواہ ثابت ہو۔ لیکن اگر اس سمت میں ہم نے کوئی توجہ نہ دی تو بعید نہیں کہ پھر سے ہم پر کوئی بادشاہ اکبر مسلط ہوجائے۔