عمل میں اخلاص پیدا کیجیے – حافظ طاہر اسلام عسکری

آج کل مدارس کے تعلیمی سال کا اختتام ہو رہا ہے۔ ان ایام میں مدارس میں صحیح بخاری شریف کی آخری حدیث پر درس کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں طلبہ کے ساتھ ساتھ دیگر علما اور عوام بھی شریک ہوتے ہیں۔ جمعہ کے روز اسلام آباد کی معروف دینی درس گاہ میں ایسی ہی ایک تقریب بپا ہوئی جس میں درس بخاری کے لیے ملک کے مشہور عالم دین اور مفتی مولانا محمد تقی صاحب عثمانی تشریف لائے۔ راقم کو اس بابرکت مجلس میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی؛ اس موقع پر ہزاروں طلبہ علوم نبوت، سیکڑوں علما اور دیگر عوام کا اجتماع تھا جس میں شرکت ایمان کی تازگی اور روح کے نشاط کا باعث بنی۔ اس ایمان پرور محفل میں موجودگی سے یہ احساس بھی پختہ تر ہوا کہ مدارسِ اسلامیہ دین متین کے قلعے اور حفاظت اسلام و پاکستان کے ضامن ہیں۔ فللہ الحمد

محترم مفتی تقی عثمانی صاحب نے بہت اختصار اور جامعیت سے آخری حدیث میں موجود نکات و فوائد کی توضیح فرمائی اور امام بخاریؒ کی فقاہت و بصیرت کو اجاگر کیا؛ ان کی تقریر کے اہم نکات موبائل پر نوٹ کر لیے تھے جنھیں اختصار سے پیش کیا جاتا ہے۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ امام رحمہ اللہ بسا اوقات حدیث پر جو عنوان (ترجمۃ الباب) قائم کرتے ہیں، اس سے کئی پہلوؤں کی جانب اشارہ مقصود ہوتا ہے جیسے یہاں ہے کہ ایک تو یہ حدیث ’’ کتاب التوحید‘‘ کے آخر میں درج فرمائی ہے جس میں وہ مختلف فرقوں کا رد کرتے چلے آ رہے ہیں؛ چناں چہ یہاں بھی معتزلہ فرقے کی تغلیط مقصود ہے جو اعمال کے وزن کیے جانے کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس لیے سرنامہ یوں لکھا: باب قول اللہ و نضع الموازین القسط یوم القیامۃ و ان اعمال بنی آدم و قولھم یوزن (یعنی اللہ عزوجل کے اس ارشاد کی توضیح کہ ہم روزِ قیامت انصاف کے ترازو قائم کریں گے؛ نیز اس امر کی وضاحت کہ ابنائے آدم کے اعمال و اقوال تولے جائیں گے) اس کے تحت جو حدیث بیان فرمائی، اس میں یہ ہے کہ سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم دو ایسے کلمے ہیں جورحمان کو بڑے پسند ہیں؛ زبان پر بڑے ہلکے ہیں لیکن میزان میں بہت وزنی ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اقوال و اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ مزید برآں اس سے کلام الہٰی کے مخلوق ہونے کی نفی بھی مراد ہے۔

ایک نکتہ یہ بیان فرمایا کہ قرآنی آیت میں ’’القسط‘‘ کے متعلق علماء کی دو رائیں ہیں: ایک یہ کہ یہ مفعول لہُ ہے یعنی میزان قائم کیے جائیں گے تاکہ انصاف کیا جائے؛ اور دوسری رائے یہ کہ یہ صفت ہے یعنی وہ ترازو انصاف والے ہوں گے۔ میزان لگا کر انصاف کرنے کا مقصود یہ ہے کہ انصاف ہوتا نظر آئے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پتا چل جائے کہ جزا و سزا کیوں دی جا رہی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو معلوم ہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی امام بخاریؒ یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں کیوں کہ احادیث بیان کرنے کا مقصد محض علم نہیں بل کہ اس پر عمل ہے۔ امامؒ نے توجہ دلائی ہے کہ آخرت میں فیصلہ علم یا وفاق کے امتحان میں حاصل کردہ پوزیشن پر نہیں، عمل صالح پر ہوگا ۔دنیا میں من پسند زندگی حاصل نہیں ہو سکتی؛ ایک راحت ملتی ہے تو ساتھ دس دکھ لگے ہوتے ہیں؛ صرف آخرت میں ایسی زندگی نصیب ہوگی : لا خوف علیھم و لا ھم یحزنون ۔ میزان میں عمل وزنی کرنے کا طریقہ پہلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: لیبلوکم ایکم احسن عملا کہ تمھاری آزمائش کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ احسن عمل کون کرتا ہے، اکثر نہیں فرمایا۔ احسن عمل وہی ہوتا ہے جو اخلاص پر مبنی ہو؛ شہرت ، ریا اور نام و نمود پیش نظر نہ ہو۔ بعض اوقات چھوٹا سا عمل بھی اخلاص کی بہ دولت بڑا وزنی ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے راستے سے کانٹا ہٹا دیا تو اس کی بخشش ہوگئی اور ایک فاحشہ عورت اس بنا پر بخشی گئی کہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اسی لیے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ چھوٹی سی نیکی کو بھی حقیر نہ جانو خواہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔ اپنے شیخ سے ایک واقعہ سنا تھا کہ ایک بہت بڑے عالم تھے؛ ان کی وفات ہوئی تو خواب میں کسی کو ملے؛ پوچھا گیا کیسا معاملہ ہوا؟ کہا: ہم تو سمجھتے تھے کہ ساری زندگی پڑھنے پڑھانےمیں گزری، اس کا کوئی فائدہ ہوگا لیکن اللہ عزوجل نے فرمایا کہ مجھے تمھارا ایک چھوٹا سا عمل پسند آیا کہ ایک مرتبہ تم نے لکھنے کے لیے قلم سیاہی میں ڈبویا تو ایک مکھی اس پر بیٹھ گئی؛ تم نے اسے وہ سیاہی پینے دی؛ یہ عمل خالصتاً میری رضا کے لیے تھا، اس لیے یہ سب سے زیادہ پسند آیا!! ابونواس عرب کا بڑا فحش گو شاعر تھا؛ اس کی موت ہوئی تو کسی صالح شخص نے اسے خواب میں بڑی اچھی حالت میں دیکھا تو پوچھا کہ تم کس حال میں ہو؟ وہ کہنے لگا: مجھے بخشش کا پروانہ مل گیا؛ دو شعر کام کر گئے جو میں نے مرتے دم کہے تھے. (یہ دیوان میں نہیں تھے؛ بعد میں اس کے سرھانے سے ملے جیسا کہ اس نے بتلایا تھا):

يَا رَبِّ إِنْ عَظُمَتْ ذُنُوبِيَ كَثْرَةً
فَلَقَدْ عَلِمْتُ بِانَّ عَفْوَكَ أَعْظَمُ
انْ كَانَ لاَ يَرْجُوكَ الاَّ مُحْسِنٌ
فَمَنِ الذِي يَرْجُو المُسِيءُ المُجْرِمُ

اے میرے پروردگار ! اگر میرے گناہ بہت زیادہ ہیں تو مجھے یقیناً معلوم ہے کہ تیرا عفو عظیم تر ہے۔ اگر تیری طرف صرف نیکو کار ہی رجوع کر سکتے ہیں تو گنہ گار مجرم اپنی امیدیں کس سے وابستہ کریں؟

اب فارغ التحصیل ہونے کے بعد لوگ آپ کو عالم سمجھیں گے؛ مسائل پوچھیں گے، وعظ سننا چاہیں گے تو اخلاص سے کام کرنا ہے، دنیا اور شہرت کی خاطر نہیں۔ حدیث کے مطابق قول کا بھی وزن ہوگا۔ میرے والد حضرت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے مجھے نصیحت فرمائی تھی کہ جو بات کہو، اس سے پہلے یہ ذہن نشین کر لینا کہ اس بات کو عدالت میں ثابت کر سکتا ہوں یا نہیں؟ اگر دنیوی عدالت سے بچ بھی گئے تو آخرت میں بچ نہیں سکو گے: ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید ۔ حدیث شریف میں ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے: کفیٰ بالمرء کذباً ان یحدث بکل ما سمع۔

یہ جو دو کلمے تعلیم فرمائے گئے ہیں تو مشایخ کے بہ قول ان میں مختلف رنگ جمع ہیں، سبحان اللہ و بحمدہ میں کمال ہے یعنی وہ ہستی تمام عیوب سے پاک اور حمد کے قابل ہے گویا تمام محامد اس میں جمع ہیں، علم اور جمال درجہ کمال پر ہیں؛ اس سے محبت پیدا ہوتی ہے، اور سبحان اللہ العظیم میں عظمت و جلال ہے جس سے خوف اور رعب کا احساس جنم لیتا ہے۔ جب محبت اور خوف جمع ہو جائیں تو خشیت پیدا ہوتی ہے جو عالم کی پہچان ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔ امام بخاریؒ کا سب کے لیے یہی پیغام ہے کہ خشیت سے متصف ہوں جو علم کا حاصل ہے۔

آخر میں گزارش ہے کہ سال چھ ماہ میں ایک آدھ مرتبہ ان بوریا نشینوں سے ملاقات کر لیا کیجیے تا کہ اگر میڈیا کے پیش کردہ اعداد و شمار اور ’’غیر سرکاری تنظیموں‘‘ (NGO’s) کے پراپیگنڈے کی بنا پر آپ کے اندر کا ’’تجزیہ کار‘‘ مدارس پر طعن آمیز تجزیے کی تحریک پیدا کرے تو ذہن میں یہ نکتہ تازہ ہو سکے کہ تجزیے سے پہلے مشاہدہ ناگزیر ہوا کرتا ہے.

Comments

FB Login Required

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

Protected by WP Anti Spam