باسی کڑی میں ابال - ریحان خان

معروف سماجی کارکن اناہزارے نے نریندر مودی کو نامہ لکھا۔ وہ نامہ لکھنے کے بعد یقیناً وہ اسد اللّہ خاں غالب کی اسی کیفیت میں مبتلا ہوں گے جو بزبان غالب
قاصد کے آتے آتے خط اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں کیا وہ لکھیں گے جواب میں
یہ شعر کلام غالب میں محبوب کے تئیں شوخی کا نمونہ ہے اور کچھ ایسا ہی معاملہ انا ہزارے کے نامہ کا ہے جو گزشتہ دنوں انہوں نے نریندر مودی کو لکھا ہے۔

قارئین اس سلسلے میں آزاد ہیں کہ وہ انا ہزارے کے خط کو دھمکی بھرا محبت نامہ سمجھیں یا صرف دھمکی نامہ سمجھیں، اس سلسلے میں ہم اپنی رائے محفوظ رکھتے ہیں۔ نامہ بنام مودی میں انا ہزارے نے لکھا کہ لوک آیکت کی تقرری نہیں ہوئی تو مجبوراً ہمیں اپنے کارکنان اور حمایتیوں کے ساتھ دہلی کوچ کرنا پڑے گا اور رام لیلا کے میدان میں لوک پال تحریک ایک بار پھر زندہ ہوگی۔ انا ہزارے کا خط اردو کے ایک مچلتے ہوئے شعر کا عکاس ہے۔
پس از، مردن بنائے جائیں گے ساغر میری گلی کے
لب جاں بخش کے بوسے ملیں گے خاک میں مل کر
شعر ہلکی سے تشریح کا متقاضی ہے۔ شاعر اپنے محبوب سے بوسے کا طلبگار ہے اور محبوب انکار پر مصر ہے۔ مجبوراً شاعر ’’دھمکی‘‘ بھرا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں مرجاؤں گا، مر کے مٹی میں مل جاؤں گا، اسی مٹی سے پیالہ بنے گا اور اسی پیالے کی شکل میں میں تمہارے ہونٹوں تک پہنچ جاؤں گا۔

انا ہزارے کا کہنا ہے کہ تبدیلی اقتدار سے نہیں بلکہ نظام سے تعلق رکھتی ہے۔ جب تک نظام میں تبدیلی نہیں ہوگی تب تک کسی بھی نظام کا کامیابی سے نفاذ غیر یقینی ہے۔ تبدیلی اور نظام کی اس گردان سے بے اختیار منور رانا یاد آگئے۔
تو بے وفا ہے تو لے اک بری خبر سن لے
کہ انتظار مرا دوسرا بھی کرتا ہے
اس شعر کی تشریح کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ منور رانا ابھی حیات ہیں اور بحمداللہ نریندر مودی کے حدی خواں بھی ہیں۔

انا ہزارے نے اپنے شکایت بھرے محبت نامے میں لکھا کہ لوک پال بل منظور ہوچکا ہے، اس پر صدر جمہوریہ کے دستخط بھی ہوچکے ہیں اس کے باوجود بھی لوک آیکت کی تقرری میں ٹال مٹول تشویش ناک ہے۔ ہوسکتا ہے لوک آیکت کی تقرری سے مکمل کرپشن کا خاتمہ نہ ہو لیکن پچاس فیصدی بدعنوانی تو ختم ہوسکتی ہے۔ خط کا یہ حصّہ نثر میں تجاہل عارفانہ کی ایک بہترین مثال ہے جو عوام الناس کے تغافل جاہلانہ کا شکار ہوگئی۔ پتہ نہیں نریندر مودی حکومت کو لوک آیکت کی تقرری سے عار کیوں ہے جبکہ اس کے باوجود بھی پچاس فیصد کرپشن کے مواقع فراہم ہیں۔ انا ہزارے کی باسی کڑھی میں ابال اسی وقت آتا ہے جب بی جے پی تنازعات کا شکار ہو یا کسی اور تنازعات میں ملوث کرنا چاہتے ہو۔ اب رام لیلا میں ایک اور راس لیلا ہوسکتی ہے اور پھر کوئی ساڑھی نشین ملک کے سیاسی افق پر آئٹم ڈانس کرے گا۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے مطابق لوک پال بل سے ایک چوہے کو بھی سزا نہیں دی جاسکتی اور انا ہزارے کے بقول شیر بھی لوک پال کی زد سے نہیں بچ سکتا۔ ذہن نشین رہے کہ اروند کیجری وال لوک پال بل کے رائٹر ہیں۔ اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ لوک آیکت کے روپ میں آسمان سے فرشتے اتریں گے، وہ بھی کیجریوال کی طرح بشر ہی ہوں گے۔ اور بشریت بسا اوقات حریص واقع ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت انا ہزارے کے خط پر فوری ایکشن لیتے ہوئے انہیں دلی آنے سے باز رکھے کہ رام لیلا کا میدان ایک اور رام دیو کی تاب نہیں لاسکتا اور ملک کی عوام ایک اور کیجری وال کی متحمل نہیں ہوسکتی۔