سانحہ سرگودھا، قابل غور پہلو - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

سرگودھا میں واقع ایک مزار کے احاطہ میں 20 افراد کے بہیمانہ قتل نے پوری قوم پر لرزہ طاری کر دیا ہے. مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ تمام قتل اسی مزار کے متولی اور اس کے چند ساتھیوں کے ہاتھوں ہوئے. متولی بمعہ دیگر مجرمان کے گرفتار ہو چکا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں.

20 افراد کا قتل کسی بھی صورتحال میں ایک بہت بڑا واقعہ ہے لیکن ایسے گھناؤنے فعل کا ایک مزار پر ہونا اپنے اندر بہت سے آتش فشاں لیے ہوئے ہے. سوشل میڈیا میں بھی اس پر بھرپور طریقے سے فوکس کیا جا رہا ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر مسلسل بحث جاری ہے.

میری رائے میں اس ضمن چند باتیں بہت اہم ہیں ....
1. معاشرتی سطح پر اس بات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا چاہیے کہ بچیوں کی شادی، بےاولادی، بےروزگاری وغیرہ زندگی کے مسائل ہیں، یہ جرائم نہیں ہیں جس کے لیے کسی کے ناک میں اس قدر دم کر دیا جائے کہ وہ کسی ایسی راہ پر چل نکلے جو اس کا ایمان، آبرو، مال... سب داؤ پر لگا دے.

2. ہر انسان سے غلطی بھی ہو جاتی ہے اور گناہ بھی. اللہ تعالی نے گناہگار سے گناہگار انسان کے لیے بھی معافی کا وعدہ کیا ہے، اگر وہ اپنے کیے پر نادم ہو، اور اپنے رب کے حضور توبہ کر لے. اس کے لیے کسی مزار، دربار یا دیگر جگہ جا کر کسی خاص طریقہ کو اپنانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لیے تو ہمارے ہاں رائج طریقے پر کانوں کو ہاتھ لگانے کی بھی حاجت نہیں. بس اللہ تعالی سے درگزر کی التجا کر لیجیے اور آئندہ نہ کرنے کا وعدہ. توبہ ہوگئی.

3. ہم سب کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ یہ دنیا دارالآزمائش ہے اور ہم زندگی کے نام پر دراصل وقفہ آزمائش میں ہیں. باقی سب محترم ہستیوں کو تو الگ رکھیے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہم سب کے سامنے ہے. اس میں یتیمی بھی ہے، شعب ابی طالب بھی، عام الحزن بھی ہے، اولاد نرینہ کی وفات بھی، جوان بیٹیوں کی موت کا صدمہ بھی ہے، اور جذباتی و نفسیاتی دباؤ بھی، غزوہ احد بھی ہے اور غزوہ احزاب میں پیٹ پر دو دو پتھر باندھنا بھی. یہی نہیں، غور کیجیے کہ اللہ تعالٰی نے ہم سب کی تربیت کے لیے اپنے رسول کو اور کیا کہا:
’’کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے، اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا، اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی، میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں. (الاعراف: 188)‘‘
یہ اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے ہے جو خاتم النبیین ہیں، فرشتوں کا سردار جن کے پاس وحی لے کر آتا ہے، اللہ تعالی سے قریب ترین انسان وہ ہیں. لیکن زندگی کی حقیقت سب کے لیے یکساں ہے تاکہ کوئی دوسرا حرف شکایت لبوں پر نہ لا سکے. خود کسی بھی صاحب مزار کی زندگی دیکھ لیجیے، آزمائش اور صبر ہی ملے گا.

ہم سب کو اس مشکلات بھی پیش آتی ہیں اور بیچ میں آسانی کے اوقات بھی آتے ہیں. اپنی آسانی کے وقت دوسروں کی تکلیف رفع کرنے کی کوشش کرنا ہم سب کا فرض ہے. نشہ، خود کشی، جادو ٹونہ، جعلی پیر، مشرکانہ رسوم، یہ سب اس معاشرتی گھٹن کا شاخسانہ ہے جس میں ہم اپنی گفتگو، رویوں اور عدم توجہی سے اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو دھکیل دیتے ہیں جو کسی پریشانی سے دوچار ہوں.

سماج کے ساتھ ساتھ حکومت کا رول اپنی جگہ نہایت اہم ہے. مزارات کو صرف اوقاف کے رجسٹر پر چڑھا لینا ہی کافی نہیں. یہاں ہونے والی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا بہت اہم ہے. جرائم پیشہ افراد بھی ایسی جگہوں کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں جہاں وہ بھیڑ میں چھپ سکیں. اور تو اور، یہ مقامات نیشنل سکیورٹی کے زاویہ سے بھی نہایت اہم ہیں. بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول صاحب کے بقول مزارات چھپنے اور کیموفلاج کے لیے بہترین جگہیں ہوتی ہیں. ان کے مطابق وہ لاہور میں ایک طویل عرصہ داتا دربار میں ملنگ بنے رہ کر گزارنے میں کامیاب ہوئے.

سرگودھا کے دلدوز واقعہ نے ہم سب کو اداس کر دیا ہے. لیکن اس وقت ایک دوسرے کے ایمان پر انگشت نمائی کا موقع نہیں. ہمیں ایک کثیر الجہات حکمت عملی بنانا ہوگی. اس میں فرد کا بھی کردار ہے، معاشرے کا بھی، علماء کا بھی کہ وہ لوگوں حق بات بتائیں اور آزمائش کا صبر سے مقابلہ کرنے کی تلقین فرمائیں. البتہ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے بڑا کردار حکومت کا ہے کہ وہ مانیٹرنگ اور کنٹرول کا ٹھوس میکانزم بنائے. چیلنج بہت بڑا ہے، تاہم جامع کوشش ہی واحد مستقل حل ہے.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں