ناموس رسالت ﷺ پر ایک ملحد کے ساتھ مکالمہ - حسیب احمد حسیب

ناموس رسالت ﷺ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کے حوالے سے بےشمار اشکالات مغرب یا مغرب زدہ لوگوں کے اذہان میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، آزادی اظہار کی اس نام نہاد دنیا میں بعض لوگ اس بات پر انتہائی حیران و پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ چند شخصیات یا مذہبی مقدسات کو وہ کون سا امتیاز حاصل ہے کہ جس کی وجہ سے ان پر تنقید نہیں ہو سکتی.

یہاں پر اس بات کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ مذہب اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواد تو ضرور دیتا ہے لیکن تذلیل برداشت نہیں کرتا اور ہر دو مختلف اظہاریے ہیں تنقید الگ شے ہے اور تذلیل الگ. اسی موضوع کو لے کر چند سال پہلے ایک صاحب سے مکالمہ ہوا، چونکہ اس مکالمے میں کچھ انتہائی اہم نکات اس بحث سے متعلق جمع ہوگئے تھے، اس لیے انھیں مختلف عنوانات کے تحت ایک مضمون کی شکل میں جمع کیا جا رہا ہے.

1 - اسلام میں رواداری کی حدود
بعض لوگ موجودہ حالات کے تناضر میں یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ عورت جو (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) پر کوڑا پھینکتی تھی، اسے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے گستاخی کی سزا کیوں نہیں دی؟
جب عملی گستاخ کو سزا نہیں تو پھر قولی گستاخ کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔ کچرا پھینکنے والی عورت واحد نہ تھی بلکہ شاتم کے لیے کوئی سزا، خاص کر قتل کرنا ہے ہی نہیں۔ آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت نہیں دی جبکہ خود ان کے فرزند اور عمر فاروق ؒ نے اس کی اجازت طلب بھی کی۔ اسی طرح ابو لہب اور اس کی عورت ہندہ بلکہ سارے اہل مکہ تو اعلانیہ شاتم تھے، کسی کو سزا نہ دی گئی۔ اہل طائف کے لیے تو جبرائیل ؑ سزا کی پیشگی اجازت لیکر آئے تھے مگر آپ ؐ نے نہ صرف منع کیا بلکہ ان کے لیے دعا بھی کی۔ آج سارے اہل طائف مسلمان ہیں۔

جواب :
چند چیزوں کی وضاحت انتہائی ضروری ہے.
کیا ایک اسلامی ریاست میں توہین رسالت ﷺ قانونی اعتبار سے کوئی جرم ہے ہے یا نہیں؟
یہاں دو امور الگ الگ ہیں
1 - پہلی وہ کیفیت جب آپ دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں ہوں اور ایک ابتدائی اسلامی معاشرت کی تشکیل ہونے جا رہی ہو، چونکہ یہ دین کا ابتدائی دور ہے اور اس میں آپ کے پاس کوئی بھی قوت موجود نہ تھی، اس لیے اللہ کے رسول ﷺ نے درگزر سے کام لیا، ایسے تمام واقعات مکے کے ابتدائی دور سے متعلق ہیں.
2. دوسری وہ کیفیت ہے جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ چکا ہو اور شریعت کا قانون نافذ ہو. تب ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے اور مسلمانوں کے حکمران اور ان کے مذہبی پیشوا کی ناموس کی حفاظت قوت کے ساتھ کرے.
جو احباب دلیل کے طور پر حدیث کو پیش کرتے ہیں ان کےلیے کچھ وضاحت حدیث کے تناظر میں تاکہ ان کے اذہان کوئی ابہام باقی نہ رہے .
امام ابن ابی حاتم رازی نے اُسامہ بن زید سےمختصراً یہ روایت بیان کی ہے:
”نبی اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے اللہ کے حکم کے مطابق عفو و درگزر کرتے اور ان کی تکالیف پر صبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور آپ یقیناً ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، ایذا اور تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اُسامہ نے کہا: رسول اللہﷺ ان سے عفو و درگزر سے کام لیتے تھے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا، یہاں تک کہ ان کے بارے اللہ نے اجازت دے دی۔‘‘
( تفسیر ابن ابی حاتم الرازي: 3‎ ‎‎/834(4618) تفسیر ابن کثیر:2‎ ‎‎/160)
امام ابن کثیر فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے۔
تفسیر ابن کثیر میں آخر میں یہ الفاظ ہیں:
’’یہاں تک کہ اللہ نے ان کے متعلق قتل کی اجازت دے دی، پھر قریش کے سرداروں میں سے جن کو قتل کرنا تھا، اللہ نے قتل کردیا۔‘‘
ان احادیث ِصحیحہ میں حتی اذن اللہ فیھم یہاں تک کہ ان کے متعلق اللہ نے اجازت دے دی، سے مراد قتال کی اجازت ہے۔
٭ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
’’حدیث میں حتی اذن اللہ فیھم سے مراد ان کے ساتھ عفو و درگزر کو ترک کرکے قتال کرنے کی اجازت مراد ہے۔‘‘ ( فتح الباري:10‎ ‎‎/20)

عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی اور عمیر جب نبی کریمﷺ کی طرف نکلتے تو وہ اُنہیں رسول اللہﷺکے بارے اذیت دیتی اور نبی کریمﷺ کو گالیاں بکتی اور وہ مشرکہ تھی۔ اُنہوں نے ایک دن تلوار اُٹھائی، پھر اس بہن کے پاس آئے، اسے تلوار کا وار کرکے قتل کر دیا۔ اس کے بیٹے اُٹھے، اُنہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے کہ ہمیں معلوم ہے، کس نے اسے قتل کیا ہے؟ کیا ہمیں امن و امان دے کرقتل کیا گیا ہے؟ اور اس قوم کے آباء و اجداد اور مائیں مشرک ہیں۔ جب عمیر کو یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے میں کسی کو ناجائز قتل کردیں گے تو وہ نبی کریمﷺکے پاس گئے اور آپ کو خبر دی تو آپﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ آپﷺنے پوچھا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تو اُنہوں نے کہا: یہ مجھے آپ کے بارے میں تکلیف دیتی تھی۔ تو نبی ﷺ نےاس کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا تو اُنہوں نے کسی اور کو قاتل بنایا۔ پھر آپﷺنے ان کو خبر دی اور اس کا خون رائیگاں قرار دیا تو اُنہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مان لیا۔ ( المعجم الکبیر17‎ ‎‎/64(124)، مجمع الزوائد:6‎ ‎‎/398 (10570)، أسد الغابۃ:4‎ ‎‎/273، الاصابۃ:4‎‎ ‎/590)

ایک بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کے تمام اقوام میں اپنی مذہبی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی علامات کی حفاظت کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے. دور جدید میں بھی ایسی قانون سازی ہر ملک میں موجود ہے، ہتک عزت کا قانون دنیا کی ہر مملکت میں لاگو ہے جس کے مطابق خاص شخصیات تو چھوڑ کسی عام آدمی کی تذلیل بھی قانونی اعتبار سے شدید جرم ہے. آپ کیا چاہتے ہیں کہ وہ آپ کے نبی کی شان میں شدید گستاخی کرتے چلے جائیں اور آپ اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے چلے جائیں اور آخر کار نبی کی ناموس ایک مذاق بن کر رہ جائے. اگر ایسا ہی رویہ تاریخ اسلامی میں اختیار کیا جاتا تو آج دنیا میں اسلام اور اللہ کے رسول ﷺ کی کوئی وقعت ہی باقی نہ رہتی. اب اللہ کے رسول ﷺ کی شخصیت معروف ہے اور پوری دنیا اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ ان کا دین بھی اللہ کے رسول ﷺ کی شخصیت سے منسلک ہے اور ان کی محبت ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ اور آج مسلمانوں کی دنیا میں تعداد ان کے وسائل اور ان کی حکومتیں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ وہ بے قوت نہیں ہیں. سو ایسے میں اس دور کے احکامات لاگو کرنا کہ جب اسلام کی ابتدا تھی اور آپ انتہائی بے قوت تھے انتہائی کم عقلی اور دانش سے دور بات ہے.

دوسرا سوال :
عبداللہ بن ابی کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟
جواب :
عبدللہ بن ابی سلول یا عبدللہ بن ابی کے قتل کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ منافق تھا اور خود کو مسلمان کہلواتا تھا اور اس نے کبھی بھی کھلی گستاخی نہیں کی تو جب کوئی جرم ہی ثابت نہیں ہو تو اللہ کے رسول ﷺ سزا کیسے دیتے، سو یہ مثال غیر متعلق ہے. فتح مکّہ کے موقع پر شاتمین کو تہہ تیغ کیا گیا اور یہ تاریخی سچائی ہے. معافی صرف ان کو مل سکی جو تائب ہوکر اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے حاضر ہوئے. اصول یہ ہے کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو معاف کروا دیتا ہے.
جس کو نبی خود معاف فرما دے:
اصول یہ ہے کہ وہ شخصیت جس کی شان میں گستاخی کی جائے، اسے یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گستاخ کو خود معاف کر دے لیکن بطور امتی ناموس رسالت ﷺ کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے اور اس ذمے داری کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش ہم پر فرض ہے. چونکہ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں اصحاب رسول رضی اللہ عنہم آپ کے ظاہری حکم کے پابند تھے، اس لیے انہوں نے کبھی ازخود کارروائی نہ کی لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی منشا یہی رہی کہ گستاخان کو معاف نہ کیا جائے جس کی ایک واضح مثال اس واقعے میں ملتی ہے.
عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل سے متعلق ذکر کردہ حدیث: سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا دن تھا کہ رسول اللہ نے سب لوگوں کو امن دیا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے اور ان کا نام لیا، تو ابن ابی سرح حضرت عثمان بن عفان کے پاس چھپ گئے۔ جب رسول اللہ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان نے ابن ابی سرح کو آپ کے سامنے لا کھڑا کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! عبد اللہ سے بیعت کریں، آپ نے اپنا سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور بیعت نہ کی، تین بار ایسا ہی کیا۔ تین بار کے بعد بیعت کر لی، پھر اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا تم میں کوئی بھی عقلمند نہیں ہے جو اُٹھتا اور اس کو مار دیتا کہ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے کھینچ لیا اور بیعت نہ کی۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں آپ کے دل کا حال معلوم نہیں تھا، اگر آپ آنکھ سے اشارہ کر دیتے (تو ہم مار دیتے)۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ رسول کے لیے مناسب نہیں کہ وہ چور آنکھوں سے اشارہ کرے. (سنن ابو داؤد:۲۳۳۴)
دوسری بات تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے بعد خلافت راشدہ اور اس کے بعد کے ادوار میں کبھی بھی گستاخان رسول کو معاف نہیں کیا گیا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے رسول ﷺ کے بعد تمام اصحاب معاذاللہ ، اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے پھر کر اسلام سے دور ہوگئے تھے جو کہ روافض کا عقیدہ ہے. اور کیا چودہ سو سال سے پوری امت نے ہی اس مسئلے کو غلط سمجھا اور آج آپ ایسے جدت پسند اسلام کی حقیقی تعلیمات کی کو درست سمجھ پائے ہیں. کیا ایسی فکر اسلام کی جڑیں کھودنے کے مترادف نہیں۔ کچھ احمقوں نے طے کر دیا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی توہین کے معاملے کو کبھی مسلم غیرت کا مسئلہ نہیں بنائیں گے بلکہ مغرب کے سامنے وہ مسلمانوں کو اس حوالے سے نکّو بنانے کی پوری کوشش کرتے رہیں گے کہ جی ایسے کاموں سے مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے۔

مزید اشکالات .
ایک ملحد اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کسی کی زبردستی عزت نہیں کرائی جا سکتی۔ جن لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے ان کا اختلاف رائے کا حق ہونا چاہیے۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ کسی کی جان لے، نبی کی حرمت یہ ہونی چاہیے کہ اس کے نام پہ خون خرابہ نہ ہو۔ اگر اس کے نام پہ گستاخی کی سزائیں دی گئیں تو اس سے نبی کی حرمت نہیں بڑھتی بلکہ کم ہوتی ہے۔ پہلے اگر دو چار گالیاں دینے والے ہوتے ہیں تو بعد میں ہزاروں ہو جاتے ہیں۔ اور یہی کام ہو رہا ہے آج کل. چارلی ہیبڈو اپنی اشاعت کی وجہ سے کافی بدنام تھا اور مشکل سے کچھ ہزار کاپی بک پاتی تھی اس کی۔ قتل کے واقعے کے بعد ساری دنیا میں اسے عزت افزائی ملی اور اب کئی ہزار میں اس کی کاپیاں بکتی ہیں، بلکہ اس واقعے کے بعد اس نے نبی کی تصویر والی اگلی اشاعت کی تھی، وہ کئی لاکھ کاپیاں بکی تھیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ شدت اور نفرت سے کام لینا چھوڑ دیں۔ اسی میں ان کی بھی اور نبی کی بھی حرمت ہوگی۔ اور اسلام کے بارے میں بھی لوگ اچھا سوچنا شروع کریں گے ۔ جو برا بھلا کہنے والے ہوتے ہیں، انھیں بولنے دیں جو بولنا ہے ۔آخر کب تک بولیں گے۔
جواب :
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے علاوہ کوئی بھی دوسری قوم جذباتی روحانی اور فکری اعتبار سے اسی طرح اپنی نبی سے جڑی ہوئی ہے جیسے مسلمان جڑے ہوئے ہیں اور کیا کبھی مسلمانوں کی جانب سے کسی دوسری قوم کی معتبر شخصیت کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہے. یہاں دو امور ہیں
1- پہلا قانونی جیسا کہ میں نے اوپر بھی عرض کیا کہ قدیم یا جدید مہذب دنیا میں دوسروں کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانا قانونی طور پر جرم ہے، اب چاہے وہ کوئی شخص ہو شخصیت ہو نظریہ ہو یا علامت. مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی ملک کی پارلیمنٹ میں داخل ہو کر اجلاس کے دوران پیشاب کرنا شروع کر دے یا کوئی مزار قائد جا کر گالیاں لکھ دے یا ملک کی کسی معروف شخصیت کے جھوٹے عریاں خاکے بنا کر کسی بھی معروف اخبار میں چسپاں کر دے یا اس سے بھی کمتر چیزوں پر آجائیں، ہتک عزت کے قانون کے تحت تو اتنی چھوٹی اور مضحکہ خیز چیزیں آ جاتی ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے. اس ماحول میں اگر مسلمان ناموس رسالت کے مجرم کی کوئی قانونی سزا مقرر کرتے ہیں تو اس میں کون سی قباحت ہے .
2- دوسرا جذباتی. یہ فطرت انسانی ہے، اگر کوئی آپ کی محبوب چیز شخصیت یا نظریے کے خلاف مسلسل تضحیک آمیز گفتگو کرے اور گفتگو بھی بلا دلیل ہو، مقصود صرف مذاق اڑانا ہو تو کیا آپ کو غصہ آئے گا یا نہیں، یہاں ہر کسی کے بھڑک اٹھنے کی حد مختلف ہو سکتی ہے.
کسی کو اس بات پر شدید غصہ آ سکتا ہے کہ اس کے پسندیدہ اداکار کی برائی کیوں ہوئی.
کوئی اپنی سیاسی فکر کے خلاف بات پر بھڑک سکتا ہے.
کسی کو اگر غلیظ گالیاں دیں تو وہ آپے سے باہر ہو جائے گا.
کسی پر جھوٹی الزام تراشی کریں تو اسے انتہائی غصہ آئے گا.
کسی کے گھر کی خواتین کو چھیڑیں تو وہ مرنے مارنے پر تل جائے گا.

مسلمانوں کی برداشت کی آخری حد ان کی رسول صل اللہ علیہ وسلم کی ناموس ہے.
اب آپ کیا یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے رسول ﷺ سے محبت کرنا چھوڑ دیں؟
دیکھیے جہاں بھی محبت اور محبت بھی شدید ہوگی وہاں شدید جذباتی تعلق بھی ہوگا اور جہاں معاملہ جذبات کا ہو وہاں عقل کے بھاشن نہیں چلتے، وہاں عموم اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں. یہ چار پانچ ، دس بیس ، سو دو سو ، ہزار دو ہزار ، لاکھ دو لاکھ کا نہیں بلکہ کروڑوں سے بھی بڑھا ہوا معاملہ ہے، جب آپ کسی کے اہم ترین قلبی مرجع پر ہاتھ ڈالیں گے تو لوگ اپنے غم کا اظہار بھی کریں گے اور اس اظہار کو کسی بھی طریقے سے روکنا ممکن نہیں.

مسلمان اور دلیل کی اہمیت
کیا مسلمان دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے سے گھبراتے ہیں ؟
مسلمانوں نے دلیل کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا، کبھی کوئی قتل کوئی خون صرف اس بنیاد پر نہیں ہوا کہ کسی نے اسلام پر فلاں اعتراض کر دیا ہے. فن مناظرہ اور علم الکلام مسلمانوں کی ایجاد ہیں، منطق مسلمانوں کا ہتھیار رہا ہے، کسی کو اسلام پر اعتراض ہے، گفتگو کرے دلائل پیش کرے، اپنے اعتراضات کو سامنے لائے، اللہ کے کرم سے مسلمانوں کے پاس ایسے اہل علم کی کمی نہیں کہ انھیں شافی جواب دیکر لاجواب کر سکیں. لیکن کسی کو گالی دی جائے، اس کا ٹھٹھا اڑایا جائے، تضحیک کی جائے اور پھر وہ اپنا رد عمل ظاہر کرے بلکہ اس سے فطرت انسانی کے تحت اظہار ہو جائے تو تمام بھاشن بھی اسے ہی سنائے جائیں. واہ جناب واہ! یہ نرالی منطق سمجھ سے باہر ہے. ایک اور بات کی وضاحت کر دوں کہ آج دنیا میں کوئی بھی اسلامی حکومت موجود نہیں ورنہ یہ معاملہ عوامی احتجاج کا نہیں بلکہ ریاست کی سطح پر شدید ترین کارروائی کا تھا جب امریکہ عافیہ صدیقی کو لے جا کر سزا دے سکتا ہے تو ہم کیوں چارلی ہیبڈو کے کرتا دھرتا بدمعاشوں کو سر عام نہیں لٹکا سکتے.

ملحد اینتھروپالوجسٹ کا جوابی آرگومنٹ
شکریہ تفصیلی جواب کے لیے۔ میرا مطابق ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا آزادی رائے کا حق رکھتی ہے۔ آپ کی اس بات سے میرا اختلاف ہے کہ مسلمان باقی مذاہب کی شخصیات کی عزت کرتے ہیں۔ مسلماں صرف دینی ابراہیمی میں گزرے اور بیان کیِے گئے نبیوں کی عزت کرتے ہیں، ورنہ ہندوؤں کے خداؤں کا تمسخر، مرزا قادیانی کو گالم گلوچ اور کسی مخالف فرقے کے پیشوا کا وہ جو حال کرتے ہیں، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بت شکنی ہمارے ہاں عام رہی ہے۔ ہمیں سکول کی کتابوں میں بت شکنی کا درس دیا گیا ہے. اگر کسی بچے کو بچپن سے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ تمہارے لیِے نبی پاک ﷺ ہر چیز سے افضل ہونے چاہییں اور ان کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دینی چاہیے تو بچہ بڑا ہو کر محبت کے جذبے میں سرشار کسی کے ساتھ کچھ بھی کردے تو اس کا عمل جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور میرا کہنا ہی یہی ہے کہ تعلیم و تربیت میں وہ عنصر ڈالا جائے کہ محبت اپنی جگہ قائم رہے لیکں مخالفت میں قتل تک کی بات نہ ہو۔ آپ نے کہا کہ اکثر لوگ اپنے محبوب اداکار کی مخالفت میں کچھ نہیں سن سکتے۔ اگر وہ نہیں سن سکتے اور قتل تک نوبت آ جاتی ہے تو پھر بھی ان کے قتل کے اقدام کو جائز نہیں قرا ر دیا جا سکتا۔ ایک مہذب معاشرے کی نشانی یہ ہے کہ بندہ آپ سے شعوری طور پہ اختلاف رکھتا ہے اور آپ کے نظریے کو برا بھلا بھی کہتا ہے تو آپ فراخ دلی کا ثبوت دیں اور اس کو خدا حافظ بول کے اپنی راہ لیں نہ کہ اس طرح کے معاملات میں قتل کی سزا تجویز کر دیں۔ جب بھی کوئی شخصیت، نظریہ یا شے پبلک ہو جاتی ہے تو اس پہ ہزار طرح کی انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اور برداشت ہی وہ عمل ہے کہ جس میں بڑائی ہے، یا پھر اٹھتی انگلیوں کو دلیل سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ آپ نے یہ بات بھی بولی ہے کہ اختلاف رائے پہ کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا۔ سلمان رشدی نے گالیاں نہیں نکالی تھیں، ایک کتاب لکھی تھی جو اختلافی تھی۔ چارلی ہیبڈو نے محض کارٹوں نہیں بنائے تھے، ہر تصویر میں مسلمانون کی شدت پسندی اوران کی تعلیمات کے عسکری عنصر کی طرف نشاندہی تھی۔ فنون لطیفہ نظریہ سازی اور پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، دنیا ہر شکل کو اختیار کرکے اپنا پیغام پہنچاتی ہے اور مسلمانوں کو اس دنیا کے ساتھ چلنا پڑے گا، ورنہ وہ سماجی گھٹن کا شکار رہیں گے۔ اور اگر عزت ہی کرنی ہے تو پہلے نبی کے بعد آنے والے کئی نبیوں کی عزت کریں، پھر شاید ان کی بات میں وزن بھی ہو۔

جواب:
چند چیزوں کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے.
پہلی بات مجھے آپ کی اس بات سے اختلاف ہے کہ اسلام غیر مسلم شخصیات کی تضحیک کی اجازت دیتا ہے کیونکہ قرآن تو ان کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکتا ہے.
دوسری بات اپنی محبوب شخصیت سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں جذباتی ہونا عین فطرت انسانی ہے، اس سے مفر ممکن ہی نہیں یہاں تک کہ انسان روبوٹ ہی بن جائے.
تیسری بات چارلی ہیبڈو کے کیری کیچر یا رشدی کا بدنام زمانہ ناول اگر تضحیک نہیں تو اور کیا ہے؟ جناب من میں کافی عرصے سے لکھ رہا ہوں اور مزاح میرا خاص موضوع ہے، اسی طرح کیسے شخصیات کے خاکوں میں تحریر یا تصویر سے مزاح کا رنگ بھرا جاتا ہے، اس سے بھی خوب واقف ہوں، سو گزارش یہ ہے کہ اصحاب فن سے رجوع کیجیے تاکہ آپ پر حقیقت واضح ہو سکے.

مزید سوالات:
’’آپ نے کہا تھا کہ مسلمان عزت کرتے ہیں ۔ تو میں نے اسی کا جواب دیا تھا اگر آپ پہلے کہہ دیتے کہ قرآن کیا کہتا ہے تو میں کوئی اور بات کرتا۔ مجھے یہ بتا دیجے کہ قرآن کی دوسرے کے خداؤں کو برا بھلا نہ کہنے والی آیت فتح مکہ سے پہلے آئی تھی یا بعد میں۔ محبوب شخصیت کی تضحیک پہ جذباتی ہو جانا فطری ہے لیکن قتل کرنا نہیں۔ آپ کی دلیل کو سامنے رکھتے ہوئے تو تمام انسانوں کو اپنی محبوب چیز کی تضحیک پہ قتل کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے۔‘‘
جواب :
جناب!اسی بات کو روکنے کے لیے تو مذہب اسلام قانون سازی کی اہمیت پر زور دیتا ہے. یہ بات اسلام نے کہاں کہی کہ جہاں کسی گستاخ کو پاؤ اسے مار ڈالو. ہاں! اسلام یہ کہتا ہے کہ اس کا مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش کیا جائے اور پھر جرم ثابت ہونے پر اسے سزا دی جائے مگر جب آپ حضرات کسی جرم کو قانونی طور پر جرم ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تو کیا کیا جا سکتا ہے. معاملہ دراصل یہ ہے کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ غیر قانونی طور پر اپنی سرحد پار کرنے والے ہزاروں میکسکنز کو غیر قانونی کہہ کر مار دیتی ہے اور آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر جب اسلام ناموس رسالت کی سزا متعین کرتا ہے تو آپ کے اشکالات شروع ہو جاتے ہیں. جان لیجیے کہ جیسے جدید ریاستوں کی جغرافیائی حدود ہیں، ویسے ہی اسلام کی نظریاتی حدود ہیں.

’’اور جس تحریر کو آپ بدنام زمانہ کہہ رہے ہیں، وہ بیسٹ سیلر رہی ہے، اور کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں اس نے۔ فنون لطیفہ کو جن لوگوں نے پروان چڑھایا ہے، وہ تہذیب کے مراحل سے گزرتے ہوئے آج یہاں تک پہنچے ہیں۔ اگر فنون لطیفہ کو آج مسلماانوں کے ہاں سپرد کر دیا جائے تو شاید کچھ عرصے بعد بولنے کی بھی ایک کتاب شائع کی جائے کہ جس میں ہر انسان کو کیا بولنا ہے کیا نہیں، کے مضامین وقواعد ہوں۔ اختلاف رائے کسی بھی طریقے سے کیا جائے اسے تضحیک کہہ کر اس کا منہ نہیں بند کیا جا سکتا۔‘‘
جواب:
کیا اسلام دوسری مذہبی شخصیات کی تذلیل کی اجازت دیتا ہے، اس کا جواب صاف اور واضح ہے کہ نہیں۔ اب اگر کبھی کہیں کسی زمانے میں کسی مسلمان نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے تو یہ اس شخص کی ذاتی غلطی ہے نہ کہ اسلام کی. دوسری بات مذہب مسیحیت یا یہودیت دونوں کے مرجع حضرت مسیح یا حضرت موسی علیہ السلام مسلمانوں کے نزدیک بھی معتبر ہیں تو ان کی تضحیک و تذلیل کا تو سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا. اب لیتے ہیں دوسرے نکتے کو جو آپ نے پیش کیا کہ محبوب شخصیت کی تضحیک پہ جذباتی ہو جانا فطری ہے لیکن قتل کرنا نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسلام نے کہاں اجازت دی کہ ہر اس شخص کو قتل کر دیا جائے اور یہ اختیار ہر خاص و عام کو حاصل ہو کہ وہ ہر اس شخص کو قتل کر دے جو اسلام کا گستاخ ہو. تاریخ انسانی کا مطالعہ کیجیے، مسلمانوں نے ہزاروں سال دنیا پر حکومت کی ہے، اگر ایسا ہی ہے تو اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوتی جبکہ ایسا نہیں ہے. دوسری بات یہ اختیار عام آدمی کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے کہ وہ ایسے شخص کو سزا دے اور یہ کوئی انوکھا قانون اسلامی ریاست کا نہیں بلکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بلاس فیمی کا قانون موجود ہے بلکہ اسلامی ریاست کا قانون تشکیل ہی اس لیے دیا گیا ہے کہ ہر جذباتی شخص کسی کو گستاخ کہہ کر قتل نہ کر دے بلکہ یہ کام ریاست کرے. انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جیساکہ عرض کیا کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت چیز یا نظریے کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور فطرت انسانی کسی بھاشن سے تبدیل نہیں ہو سکتی، سو اسی لیے اسلام نے اس معاملے پر قانون سازی کر دی. جہاں تک بات ہے بیسٹ سیلر کی تو شاید آپ کا حقیقی ادب سے کوئی تعلق نہیں ورنہ آپ ایسی بات نہ کہتے، اس وقت سب سے زیادہ بکنے والا شاعر کیا سب سے اچھا شاعر بھی ہوگا؟ کیا ہم بھی اس کو بڑا شاعر مان لیں؟ ماہرین فن اور شعرا کے نزدیک وہ شاعر ہی نہ ہو تو؟ معروف تحریر اور ادبی تحریر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے. ایک ایسی فاحشہ جو ننگی ہو کر دنیا کے سامنے آ جائے، معروف تو وہ بھی ہوتی ہے، شہرت اس کو بھی مل جاتی ہے، لیکن حقیقی اداکارہ کون ہے؟ اس کا تعلق شہرت سے نہیں قابلیت سے ہے. یہی کلیہ تمام فنون لطیفہ پر لاگو ہوگا.
کیا جسٹن بیبر پٹھانے خان سے بڑا گائیک ہے، لیکن بیبر کی دنیا عاشق ہے، جسے موسیقی کی میم سے بھی واقفیت نہیں جبکہ پٹھانے خان جیسے استاد سے کتنے لوگ واقف ہوں گے.
پھر آپ نے اپنے اگلے نکتے میں جو امر منکشف کیا ہے، معذرت کے ساتھ اس سے زیادہ بچگانہ بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی. جب آپ کا محبوب یورپ اپنے تاریک دور سے گزر رہا تھا، اس وقت مسلمان فنون لطیفہ کے عروج پر تھے. اسلام تو نازل ہی ایسی قوم پر ہوا تھا جہاں کا ہر دوسرا شخص شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت کا ماہر تھا، حماسہ، متنبی، امرؤ القيس جیسے بلغاء کا رنگ جوان تھا. اسلام وہ واحد دین ہے جس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے منبر سے ایک شاعر کو اپنے فن کے اظہار کا موقع دیا. جب آپ کا یورپ پتھر کے دور میں تھا، اس وقت مامون الرشید کے بیت الحکمت میں یونانی علوم و فلسفے کا عربی میں ترجمہ ہو رہا تھا. میکیاولی کی (The Prince) سے پہلے ہی ابن خلدون اپنا مقدمہ لکھ چکا تھا. جدید عمرانیات، معاشیات، سیاسیات، اور فلسفے سے مسلمانوں نے دنیا کو متعارف کروایا ہے. اگر ابن رشد نہ آتا تو آج مغرب فلسفے کے مبادیات سے ہی ناواقف ہوتا۔ معذرت کے ساتھ علم الکلام اور منطق مسلمانوں کے دور میں پروان چڑھے ہیں، سو ہمیں یہ بتلانا کہ ادب کیا ہے، سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے.

ایک اہم سوال :
دنیا میں کوئی ایسا حالیہ مروجہ قانون بتا دیں کہ جہاں بلاس فیمی پر موت کی سزا ہو؟
جواب:
پہلی بات تو یہ کہ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سزا ہے. اب جزا و سزا کے اصول اور ان کی شدت میں فرق اختلافی ہو سکتا ہے، حال ہی میں یورپ میں دو ہیکرز کو دو دو بار عمر قید کی سزا دی گئی، چونکہ یورپی ممالک میں سزائے موت پر پابندی ہے، سو یہ وہاں کی شدید ترین سزا ہے. ایسا ہی معاملہ اسلام کا ہے. نبی ﷺ کی شان میں گستاخی جرم عظیم ہے اور اس کی سزا ان کے نزدیک موت ہے، اب مسلمان اپنا قانون بنانے کا اور اسے نافذ کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں جیساکہ اوپر کی مثالوں میں یورپ اور امریکہ کو حاصل ہے. کچھ ممالک میں ہولوکاسٹ پر گفتگو جرم ہے، کہیں حجاب پر پابندی ہے، کہیں جمہوریت کے خلاف گفتگو ایک بڑا جرم تصور کیا جاتا ہے تو کہیں کسی مملکت کا آئین و قانون ایسا تقدس رکھتا ہے کہ اس کے خلاف بات قابل گردن زدنی جرم ہے. جب بھی دو افراد کے مابین مکالمہ ہو تو مناسب ہے کہ ہر دو فریق اپنی فکر دوسرے پر واضح کریں، اور ان کی تحریر تلبیس و تدلیس سے پاک ہو تاکہ دلائل مناسب انداز سے ایک دوسرے کے سامنے رکھے جا سکیں. یہ ضروری نہیں کہ مقابل آپ کی دلیل تسلیم کر لے لیکن یہ ضروری ہے کہ مقابل کا صحیح مؤقف ضرور واضح طور پر سامنے ہو.

اعتراض:
شیطانی آیات ناول میں کہیں کوئی گالی لکھی ہوئی دکھا دیں۔ میں نے شروع سے ہی یہ مدعا بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر آپ نے حق رائے دہی پر پابندی لگائی تو مقدس ہستیوں پہ ہر طرح کی تنقید کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ اور شیطانی آیات ایک بہترین تنقید کی کتاب ہے۔ آ پ کے لیے نہیں ہوگی۔ اس پہ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں کوئی تضحیک کا پہلو مجھے بتا دیں۔

جواب :
اس کتاب کا تو نام ہی طنزیہ اور تضحیک آمیز ہے تو آگے اور کیا عرض کروں. جہاں تک بات ہے ایوارڈز کی تو مغرب کی اخلاقیات اور آپ کی اخلاقیات میں فرق ہے. وہاں تو ہم جنس پرستی کے حوالے سے لکھے گئے ناولز کو بھی ایوارڈ مل جاتا ہے تو کیا یہ ہمارے لیے بھی اصول بن جائے گا؟ حال ہی میں ناولز کی ایک سیریز کو ایوارڈ ملا جس پر مووی بھی بنی یعنی (Fifty Shades of Grey) ناول کا ہیرو (BDSM) کا شوقین ہے. جنسی اذیت پسندی سے لطف اندوز ہونے والی بیماری آج ویسٹ میں انتہائی مقبول ہے جیسا کہ ایک زمانے میں (Naturism) عریانیت پسندی یا ہپی ازم پر لکھے گئے ناولز کو ایوارڈز ملے. آپ نے اکثر یہ پڑھا ہوگا کہ اس فلم ناول افسانے یا ڈرامے کے کرداروں سے حقیقی دنیا میں مطابقت اتفاقی ہوگی کیونکہ یہ قانون کے خلاف ہے. تو یہاں ایک ایسی جیتی جاگتی شخصیت جو ایک ارب سے زائد افراد کے لیے مرجع اور ان کے ایمان کا حصہ ہے، ان سے متعلق فکشن لکھنا کیسے درست ہوا اور مغرب نے کیونکر رشدی کو سپورٹ کی؟ معاملہ یہ ہے کہ کمیونزم کی بطور نظام ذلت آمیز شکست کے بعد دنیا میں جو نظام چلا وہ کپیٹل ازم ہے، اور اس نظام میں مذہب اور مذہبی اقدار کی کوئی حیثیت نہیں اور اگر کوئی چیز مذہب کے خلاف جاتی بھی ہے تو وہ اسے قبول کر لیتے ہیں، سو ان کی لا مذہبی اور لادینی اخلاقیات کے نزدیک، عریانیت یا ہم جنس پرستی یا بلاسفیمی کوئی جرم نہیں ہے، لیکن مذہبی اخلاقیات کے نزدیک یہ شدید جرائم میں سے ہیں. اب آپ اگر مذہبی ہیں تو رشدی کی تحریر آپ کے نزدیک قابل اعتراض ہوگی اور اگر آپ مذہب پر یقین نہیں رکھتے تو نہیں ہوگی.

اعتراض:
معتزلہ لبرل تھے اور ان پر مسلمانوں نے مظالم کیے:
جواب :
حقیقت یہ ہے کہ صحیح عقیدہ مسلمانوں کی جانب سے معتزلہ پر کیا مظالم ہوتے، معاملہ ہی اس کے بر عکس ہوا، چونکہ آپ کی تاریخی معلومات کمزور دکھائی دیتی ہیں، اس لیے کچھ عرض کیے دیتا ہوں. امام احمد بن حنبل کی زندگی میں ابتلا کا ایک ایسا دور آیا تھا جس نے ان کی عظمت کردار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس ابتلا کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال آیا کہ اللہ کے کلمات مخلوق ہیں یا غیرمخلوق؟ اولاً اس کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اس پر انھوں نے کہا کہ تمھارا قرآن عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا کلمہ کہتا ہے، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام قرآن کے مطابق غیر مخلوق قرار پائے، یعنی ان کے بارے میں الوہیت کا وہ عقیدہ جو عیسائیوں میں رائج ہے، وہ قرآن کے مطابق بالکل درست عقیدہ ہے۔ اس الجھن کے سامنے آنے کے بعد معتزلہ اور ان کے زیر اثر حکومت نے یہ مؤقف سختی سے اپنا لیا کہ قرآن مخلوق ہے، یعنی اللہ کے سبھی کلمات مخلوق ہیں۔ حکومت نے یہ کوشش بھی کی کہ اسی رائے کو سب علمائے امت کی تصویب حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس کی خاطر پہلے علماء کو قائل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کئی علما نے یہ موقف اختیار کر لیا۔ جن علماء نے بغیر کسی شرعی دلیل کے اس مؤقف کو ماننے سے انکار کر دیا، ان پر پھر خوب ظلم و ستم ڈھایا گیا تاکہ وہ خلق قرآن کے قائل ہو جائیں۔ امام احمد کو اسی رائے کا قائل کرنے کے لیے طرموس سے قید و بند کی حالت میں بغداد لایا گیا۔ ان کے پیروں میں کئی بھاری بیڑیاں پہنا کر انھیں داخل زنداں کیا گیا۔ پھر جب انھیں سزا کے لیے معتصم باللہ کے سامنے پیش کیا گیا تو پہلے درباری علماء نے اور خود معتصم نے بھی ان کو عقیدۂ خلق قرآن اختیار کرنے کی دعوت دی ۔اس مقصد کے لیے درباری علما نے ان سے مناظرہ بھی کیا۔ آپ اپنے مخالفین کی ساری دلیلوں کے جواب میں ایک ہی بات کہتے تھے کہ تم اپنی بات کے حق میں کتاب و سنت کی کوئی دلیل پیش کرو تو میں مان لوں گا۔ ان کی یہ استقامت دیکھ کر، جسے درباری معتزلی علماء ان کی طرف سے ہٹ دھرمی کا رویہ قرار دیتے تھے، خلیفہ معتصم باللہ نے ان کو کوڑے لگانے کا فیصلہ کیا اور اس نے جلادوں کو یہ حکم دیا کہ وہ امام احمد کو کوڑے لگائیں۔ امام احمد خود بیان کرتے ہیں کہ معتصم باللہ کے حکم پر کئی جلادوں نے مجھے کوڑے لگائے۔ ہر جلاد مجھے دو کوڑے پوری قوت سے لگاتا اور پیچھے ہٹ جاتا، پھر نیا جلاد آتا۔ اس طرح مجھے بہت سے کوڑے لگائے گئے۔ ہر کوڑے پر مجھے غشی طاری ہوجاتی تھی۔ جب کوڑے لگانے بند کر دیے جاتے تو میں ہوش میں آجاتا اور دیکھتا کہ معتصم باللہ میرے پاس موجود ہے اور کہہ رہا ہے کہ احمد تم لوگوں کی بات کیوں نہیں مان لیتے۔ دوسرے حاضرین ان سے مخاطب ہو کر کہتے کہ خلیفہ تم سے درخواست کر رہے ہیں اور تم ان کی بات ٹھکرا رہے ہو۔ امام احمد کہتے ہیں کہ میرے کان میں ان کی باتیں پڑ رہی تھیں، مگر میں کسی بات پر دھیان نہ دیتا تھا۔ میرا اصرار صرف اس قدر تھا کہ میرے سامنے اللہ کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کوئی دلیل پیش کرو، میں تمھاری بات تبھی مان سکتا ہوں۔ اس پر مجھے زدوکوب کیا جاتا، بالآخر مار کی شدت سے میرے ہوش و حواس بجا نہ رہے اور تکلیف کا احساس تک ختم ہو گیا۔ اس سے خلیفہ خوف زدہ ہو گیا اور اس نے میری رہائی کا فرمان جاری کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے جاری ہونے تک جلاد مجھے کل اسی کوڑے اپنے پورے زور و قوت کے ساتھ لگا چکے تھے۔ بہرحال، اس کے بعد مجھے رہا کر دیا گیا۔ امام صاحب کو اس ابتلا کے دوران میں 28 سے 30 مہینے تک قید و بند اور محن و مشقت میں گزارنے پڑے۔ تو معتزلہ کی جانب سے اہل سنت مسلمانوں پر شدید مظالم ہوئے نا کہ مسلمانوں کی جانب سے، معتزلہ کو تلوار سے نہیں بلکہ دلیل کے زور سے زیر کیا گیا. دوسری طرف یہی معاملہ فلسفے کا ہوا، مسلمانوں کو فلسفے سے اختلاف نہیں تھا بلکہ جب فلسفے نے الہیات میں دخل دینا شروع کیا اور اللہ کے وجود پر ہی اعتراضات اٹھانے شروع کیے تو فلسفیوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ ان کو دلیل سے بے دلیل کیا گیا. امام غزالی رح نے ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ لکھی نہ کہ کوئی تلوار بردار فورس بنائی، پھر فلسفے کو زندہ بھی ایک مسلم فقیہ ابن رشد نے رکھا.

میری دلیل اب بھی وہیں ہے، شعر و شاعری اور علم و ادب میں مسلمانوں کے کمالات سے انکار اسی صورت میں ممکن ہے کہ نگاہوں پر تعصب کی عینک ہو. جہاں تک بات ہے کیری کیچرز کی تو ان کے تضحیک آمیز ہونے میں کوئی ابہام ہی موجود نہیں، دوسری طرف جہاں تک تصویر کا معاملہ ہے تو تمام امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کشی ناجائز ہے تو یہ بات مغرب کو سمجھنی ہوگی کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا خیال رکھے ورنہ فساد کا ذمہ اس کے سر ہوگا نہ کہ مسلمانوں کے.