ابلیس کی حقیقت قرآن کی روشنی میں - صفدر چیمہ

ابلیس کے حوالے سے کچھ ایسے تحریریں نظروں سے گزریں کہ جن میں ابلیس کو مختلف طبقات سے تشبیہ دی گئی تھی، میں نے بھی ابلیس کو نسل پرست لبرلز کا جد امجد قرار دیتے ہوئے ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں ایک مختصر سی پوسٹ کی تھی لیکن آج میں اس حوالے سے قرآن کی روشنی میں بات کروں گا. ان شاء اللہ

سیکولر و لبرل نظریات کے حامل مسلم دانشوروں کی اکثریت نے ابلیس کو ’’زعم تقوی کا مارا ہوا پہلا ملا قرار دیا.‘‘ آئیے ان محترمین کے اس دعوے کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ابلیس زعم تقوی کا مارا ہوا ملا تھا یا نسل پرست لبرل؟

سورہ الاعراف کی آیت نمبر 21 میں ابلیس نے آدم کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی عبادت اور تقوی کے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ اپنی نسلی بڑائی کے زعم کا شکار ہو کر یہ جواب دیا کہ ’’میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے.‘‘

اللہ تعالی نے ابلیس کے اس نسل پرستی کے گھمنڈ اور زعم پر مبنی جواب کے جواب میں سورہ الاعراف آیت نمبر 31 میں فرمایا کہ ’’اور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے.‘‘

یہ بات تو قرآن سے طے ہوگئی کہ ابلیس زعم تقوی کا مارا ہوا ملا نہیں تھا بلکہ نسل پرستی کے زعم کا مارا ہوا پہلا نسل پرست تھا.

آگے بڑھنے سے پہلے نسل پرستی کے گھمنڈ اور زعم کو مختصرا سمجھ لیجیے. ’’میں سید ہوں، راجپوت ہوں، جاٹ ہوں، برہمن ہوں، عربی ہوں وغیرہ وغیرہ، اس لیے میں دوسروں سے بہتر اور افضل ہوں.‘‘

اب آتے ہیں، اس اعتراض کی طرف کہ اگر ابلیس نسل پرست ہے تو اسے نسل پرست ہی کہا جائے، لیکن اسے لبرلز کا جد امجد کہنا کسی طور درست نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   حب رسول کے تقاضے - رانااعجاز حسین چوہان

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کی سورہ الحجرات میں عزت اور بڑائی کا معیار تقوی کو قرار دے کر ہر قسم کی عصبیت، نسل پرستی، قومی، لسانی و علاقائی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی، اور ان میں سے کسی بھی عصبیت کے شکار فرد کے لیے سوائے لبرل ازم و سیکولر ازم کے اور کوئی جائے پناہ نہیں ہے کہ جس کی چھتری کے نیچے ابلیس اور اس کی بھٹکائی ہوئی ذریت کو اپنے اپنے جاہلانہ اور فرسودہ عقائد پر عمل کرنے اور ترویج کرنے کی اجازت ہو. ہم ان مندرجہ بالا قرآنی بنیادوں پر ابلیس کو لبرلز و سیکولرز کا جد امجد قرار دیتے ہیں.

نوٹ: سیکولر و لبرل مسلم دانشوروں کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ ایک بار سورہ الاعراف مطالعہ کر لیں، اگر پہلے نہیں کیا تو.