ترقی یا فلاح؟ - روبینہ شاہین

موجودہ دور کا انسان بیک وقت دو رستوں کا راہی ہے۔ وہ فلاح بھی چاہتا ہے اور ترقی کا خواہشمند بھی ہے۔ ہم میں سے تقریباً ہرشخص یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کی دنیا تو فرعون کی طر ح ہو اور لیکن آخرت موسیٰ علیہ السلام جیسی۔ کیا ایک ہی وقت میں دونوں کا حصول ممکن ہے؟ فلاح کیا ہے اور ترقی کیا ہے؟ کیا یہ دونوں چیزیں جدا جدا ہیں یا یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں؟ ہر گزرنے والا لمحہ ماضی اور ہر آنے والا لمحہ مستقبل۔ کیا ہماری پوری زندگی اس درمیان میں پھنسے ایک لمحے کی قیدی ہے؟

دراصل ترقی اور فلاح میں بڑا فرق ہے، ویسا ہی فرق جو علم اور انفارمیشن میں ہے۔ ترقی سے مراد ایسی کامیابی ہے جو ہماری دنیا سے مشروط ہے۔ جبکہ فلاح سے مراد وہ کامیابی جو آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ دنیا میں کامیابی حاصل ہو یا نہ ہو مگر آخرت میں کامیابی ضروری ہے۔ بالکل یہی معاملہ علم کا بھی ہے کہ علم باعمل ہی وہ نافع بخش علم ہے جس کا منبع وحی الٰہی ہے۔ جس کے وارث انبیائے کرام ہیں۔ یہی وہ علم ہے جوغارحرا سے اتر کر سوئے قوم آیا۔ جبکہ انفارمیشن وہ علم ہے جو ہماری معلومات میں تو اضافہ کرتا ہے لیکن ہمارے عمل کا حصہ نہیں بنتا جس کی بنیاد وحی الٰہی پر مبنی نہیں ہوتی۔

فلاح کے لغوی معنی ہیں چیرنا اور قطع کرنا ہے۔ کسان کو عربی میں فلاح اسی لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ زمین کو چیرتا ہے مگر اصطلاحاً فلاح سے مراد کامیابی و کامرانی ہے کیونکہ کامیابی آسانی سے انسان کے ہاتھ نہیں آتی بلکہ اس کے حصول کے لیے خاصے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جیسے کسان زمین میں ہل چلاتا ہے، بیج بوتا ہے، پانی دیتا ہے، موسموں کے سردو گرم سے بچاتا ہے۔ بالکل یہی معاملہ فلاح کے راستے کا بھی ہے۔ فلاح کے راستے کا مطلوب انسان حسن نیت کا ہل چلا کر ایمان کا بیج بوتا ہے۔ پھر اس ایمان کو نشوونما دینے کے لیے ایک سازگار ماحول مہیا کرتا ہے جہاں روحانی طاقتیں پھلتی پھولتی اور شیطانی طاقتوں کا قلع قمع ہوتا ہے۔ تب ایمان کا پودا لہلہاتا ہے اور پھل دیتا ہے۔ کسان کی زندگی میں انسانوں کے لیے بے شمار نصیحتیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   دنیا بدل رہی ہے - زبیر منصوری

جہالت کا کمال یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو مقدس بنا دیتی ہے جو مقدس جھوٹ بولنے والوں میں سرفہرست ہوں۔ ترقی و فلاح کو ایک سمجھنے والوں سے بھی یہی کمال ہوا ہے۔ وہ مقدس جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بقول اشفاق احمد "یہ بڑا غور طلب نکتہ ہے کہ ہم ترقی کے پیچھے بھاگیں یا فلاح کی طرف لپکیں؟وہ ترقی جو آپ کے اردگرد ابلیسی ناچ کر رہی ہے یا وہ ترقی جو آپ کو خوفناک ہتھیاروں سے سجا رہی ہے اسے ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ کیا نئی چیزوں کو اس لیے قبول کر لیا جائے کہ وہ ماڈرن دور میں پسندیدہ ہیں اور وہ علم جو ہمیں پیغمبروں نے عطا کیا ہے وہ اس وجہ سے پیچھے ہٹتے جائیں گے کہ ماڈرن دور کے انسان کا مطلوب نہیں ہے۔ بقول بانو قدسیہ "بھلے غازی علم دین شہید نہ بنیں لیکن کم از کم ترقی کا وہ آب حیات نہ پئیں جو پیغمبروں کی تحقیر کے پیالے میں سرو کیا جائے۔ "

یہ دنیا اللہ رب العزت کی پیدا کردہ ہے۔ یہاں اصول بھی وہی پنپ سکتے جو اللہ کے بنائے ہوئے۔ یقین نہیں آتا تو غو ر کیجئے واصف علی واصفؒ کیا فرماتے ہیں:
"باز اور شکروں کی موجودگی کے باعث چڑیا کے بچے پرورش پاتے رہتے ہیں آندھیاں سب چراغ نہیں بجھاسکتیں۔ شیر دھاڑتے رہتے ہیں اور ہرن کے بچے کلکاریاں بھرتے رہتے ہیں۔ یہ سب اس مالک کے کام ہیں اس کی پیداکردہ مخلوق اپنے اپنے طرزعمل سے زندگی گزارتی رہتی ہے۔ فرعون نے سب بچے ہلاک کر دیے مگر وہ بچہ بچ گیا۔ یہ سب قدرت کے کام ہیں۔ زمانہ ترقی کر گیا ہے مگر مچھر چوہے اور مکھیاں اب بھی پیدا ہوتیں ہیں۔ جراثیم کش دوائیاں نئے جراثیم پیدا کرتی ہیں۔ طب مشرق و مغرب میں بڑی ترقی ہوئی،بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انسان کل بھی دکھی تھا آج بھی سکھی نہیں۔علاج خالق کے قرب میں ہے لوگ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے۔ "

یہ بھی پڑھیں:   چمکتی ہوئی دوکان سیاست - ام عمار

ترقی اور فلاح کبھی ایک نہیں ہو سکتے کیونکہ فلاح کے راستے کو دوام ہے۔ فلاح کا راستہ ایک ہی ہے، وہ ہے اللہ کا راستہ اور اس کے چنیدہ بندوں کا راستہ۔ آپ کا اصل ساتھی آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے اسی نے عبادت کرنی ہے اور اسی نے بغاوت!وہی دنیاوالا بنتا ہے اور وہی آخرت والا، اقبال کے الفاظ میں یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے، نہ ناری ہے!

اللہ سے ہر گھڑی دعا مانگیں کہ وہ آپ کو ترقی اور فلاح کے راستے کی سمجھ دے اور فلاح کے راستے پہ ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.