اسلام اور سائنس کے تعلق کا جائزہ - ڈاکٹر غیث المعرفہ

یہ حقیقت ہے کہ مغرب میں جب روایتی معاشرے کو جدید معاشروں میں بدلا جا رہا تھا جس میں سیکولراور لبرل تعلیم کو کلیدی مقام حاصل ہے تو اس کے بانی سائنسدان تھے۔ یونیورسٹیاں اورلیباٹریاں ہی اس کے مورچے اور قلعے تھے۔ ان کی جیت میں سب سے نمایاں کردار ان تخلیقات کا تھا جو جدید معاشرہ آفر کر رہا تھا۔ مذہبی طبقے کے طرف سے سائنس کے انکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پھر اس معاشرے کو بدلنے میں دیر نہیں لگی۔ دو ڈھائی سال قبل تھامس پین کی کتاب "ایج آف ریزن" پڑھی تھی۔ وہ 17ویں صدی میں کہہ رہا تھا آغازمیں جرچ جانے والوں کی تعداد 80 فیصد سے زائد تھی جو کم ہوتی گئی۔ آج اکیسویں صدی میں کئی چرچ، مسجدوں اورمندروں میں بدل چکے ہیں۔ یہ ایسی تبدیلی تھی جو سائنس کے تابع وقوع پذیر ہوئی۔
دوسری طرف ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ یہاں سائنس کے سب سے بڑے وکیل وہ ہیں جن کی سائنس آٹھویں کلاس کی کتاب سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ جب ہمارے یہاں ڈی این اے کی بحث جاری تھی تو ایک ٹی وی شو میں سائنس کے ایسے ہی بڑےمعروف وکیل نے کہا، یہ مولوی ڈی این اے بارے کیا جانیں، آج دنیا انسان کو کلون کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، دیکھو انسان کی کاپی تیار ہو جائے تو اسے دفتر بھیجو اور خود سنگاپور کی سیر کرنے نکل جاؤ۔ اگر انہیں ڈی این اے ٹیکنالوجی کا ادراک ہوتا تو یہ زنا کے کیسز میں اس پر پابندی عائد کرتے؟۔ اس بات کو سن کر جس شخص کا قہقہ نہ نکلے تواس کی سائنسدانی پر شک کرنا واجب ہے۔
ہمارے ہاں سائنس اور اسلام بارے دو انتہائیں موجود ہیں۔ ایک یہ ہے کہ اسلام اور سائنس ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لیے مسلمانوں کو سائنسی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ سائنسی ترقی، الہام کو کمزور اور انسانی زندگی میں غیر ضروری بنا دے گی۔ دوسری انتہا وہ ہے جو الہام کے لیے سائنسی سہارا ضروری سمجھتی ہے۔ وہ کھل کر کہتے ہیں کہ مذہبی بیان میں سائنسی توجیح کے بجائے غیر سائنسی توجیحات کا استعمال ایک مریضانہ حرکت ہے۔ یہ عمل اندھے مقلد اور پیروکار تو پیدا کرتا ہے لیکن کارآمد مسلمان تیار نہیں کرپاتا۔
سائنس، اسلام کے لیے زہر ہے یا طاقتور سہارا ہے اس فیصلے سے زیادہ اہم ہے کہ ہم سائنس اور اسلام کی حقیقت کو سمجھیں۔ اس سے بعد ہی ہم کسی حقیقی تعلق کی طرف بڑھ پائیں گے۔ سائنس الہامی سچائی کے مقابلے میں انسانی سچائی۔ لیکن یہ اٹل سچائی نہیں۔ ہر نیا سائنسی ہاپوتھیسز، پرانے ہاپوتھیسز پر ہی ڈویلپ کیا جاتا ہے جس سے پرانے تجربے کی ترمیم، تردید یا تائید ہوتی ہے اور نئے ہاپوتھیسز پیدا ہوتے ہیں۔ حقیقتاً سائنس بدلتی ہوئی انسانی سچائیاں ہیں۔ اس کے مقابلے میں الہام رب العالمین کی طرف سے ایک اٹل سچائی ہے اور قیامت تک کوئی نئی الہامی سچائی سامنے نہیں آئے گی۔ اگر سائنس کی بنیاد دلیل اور تجربہ ہے تو اسلام کی بنیاد بھی الہام اور رسالت ہے۔ ایک تغیر پذیر سچائی ہے تو دوسری اٹل اور دوٹوک سچائی ہے۔
اس ساخت اور حرکیات کے اعتبار سے جہاں نہ صرف سائنس اور الہام کا درست مقام متعین کیا جا سکتا ہے،وہیں اس کے کردار بارے فیصلہ بھی باآسانی ہو سکتا ہے۔ چونکہ سائنس تغیر پذیر سچائی ہے اس لیے یہ انسانی ضرورتوں،خواہشوں، مجبوریوں اور دیگر عوامل کے نتیجے میں تخلیقات کر سکتی ہے، نت نئی ایجادات کر سکتی ہے لیکن اچھائی بُرائی، جھوٹ سچائی اور نیکی بدی کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کیونکہ یہ غیرحتمی اور نامکمل سچائی ہے۔ اچھائی پرائی، جھوٹ سچائی یا نیکی بدی کے فیصلے کا اختیار کسی کامل اور مکمل سچائی کو ہی دیا جا سکتا ہے اس معیار پراپنی ساخت کی بنیاد پر الہام ہی پورا اترتا ہے۔