آئیے اپنی زبان درست کریں (دوسرا حصہ) - سیّد سلیم رضوی

کچھ نجی مصروفیات کے باعث کئی ماہ پر محیط وقفے کے بعد ’’دلیل‘‘ کی محفل میں حاضری ہو رہی ہے۔ سب سے پہلے سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ اِن شاء اللہ اب آپ احباب کے ساتھ رابطہ مستقل بنیادوں پر رہے گا۔
اِس تحریرسے پہلے مضمون کی تمہید میں عرض کِیا تھا:
------- ’’درجِ ذیل فقروں پر غور کیجیے اورانھیں اپنے طور پر درست کیجیے‘‘ -------
( ’’تصحیح اور تصریح ہم آئندہ مرحلے پر پیش کریں گے‘‘)
[لہٰذا اَب پہلے والے مضمون کو سامنے رکھ کر، اس کا موازنہ درجِ ذیل سے کریں]

1۔ مضمون لکھتے وقت موضوع کے بارے میں کتابوں سے اِستفادہ کرنا انکل زبیر کے معمول میں شامل ہے۔
(لفظ ’استفادہ‘ …… ’حاصل کرنا‘ کامفہوم بھی اپنے اندر رکھتا ہے، لہٰذا اس کے آگے ’حاصل‘ لگانا زائد اور صریحاً غلط ہے)

2۔ مُنشی جی نے اپنی بات کا اعادہ کرتے ہُوئے کہا کہ مُلک چلانا موجودہ سیاست دانوں کے بس میں نہیں۔
(’اعادہ‘ کا مطلب ہے ’کسی بات کو دوہرانا‘۔ لہٰذا اِس لفظ سے پہلے، فقرے کے اندر’ایک بار پھر ‘ لگانا غیرضروری ہے)

3۔ کوہِ طور، آبِ زمزم، شب برات اور ماہِ رمضان ہماری دِینی روایات کے اہم حوالے ہیں۔
(اس فقرے کی وضاحت کی ضرورت ہی نہیں…… آپ خود ماشاء اللہ بہت سمجھ دار ہیں)

4۔ ٹیم کے ہارنے کی وجہ یہ تھی کہ کھلاڑیوں نے نہ تو میچ کی تیاری کی تھی اور نہ وہ پورے جذبے ہی سے کھیلے۔
(لفظ ’نہ‘ کے فوراً بعد ’ہی‘ کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ آج کے بڑے بڑے نامی گرامی لکھاری اسے بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ’ہی‘اُس لفظ کے فوراً بعد لگانا درست ہے جس پر زور دینا مقصود ہو، مثلاً اُوپر والے فقرے میں لفظ ’جذبے‘ کے فوراً بعد ’ہی‘ کا استعمال)

5۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ آج شام کو ہم کراچی روانہ ہو جائیں؟
(لفظ ’ممکن‘ کے اندر ’ہوسکتا‘ کا مفہوم پہلے سے موجود ہے، لہٰذا اِس کے ساتھ ’ہو سکتا ہے‘ کو نتھی کرنا بالکل زائد اور غیرضروری ہے)

6۔ جذباتی نوجوان نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
(جب ’خود کشی‘ کرلی تو ظاہر ہے ’خود کو‘ گولی مار کے ہی کی، اس لیے فقرے کی درست ساخت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے)

7۔ اپنی ہینڈ رائٹنگ پر توجہ دو، تمہاری لکھائی روزبروزخراب ہوتی جا رہی ہے۔
(’دِن بدن‘ کا استعمال بھی تحریر میں بہت عام ہے، حالانکہ کسی ہندی یا سنسکرت لفظ کو عربی یا فارسی ترکیب سے لکھنا غلط ہے۔ ’دِن‘ ہندی زبان کا لفظ ہے، اس کے ساتھ ’ب‘ لگانا ٹھیک نہیں، لہٰذا ’دِن بدِن‘ کے بجائے ’روزبروز‘ لکھنا درست ہے)

8۔ میری کامیابی بزرگوں (اپنے بڑوں) کے دم قدم سے ہے، اگر یہ نیکہستیاں میری راہنمائی نہ کرتیں تو آج میں ذلیل و خوار ہو رہا ہوتا۔
(’طاغوتی طاقتیں‘ کا مطلب بالکل واضح ہے، اس کے باوجودمبتدی اور نوآموز لکھاری محض اندازے کی بنا پر ایسے مضحکہ خیز الفاظ اِستعمال کر جاتے ہیں اور مذاق کا نشانہ بنتے ہیں…… ایسی سنگین غلطیاں انتہا کی کم علمی اور لفظ کا پس منظر معلوم نہ ہونے کے باعث سرزد ہوتی ہیں، لہٰذا خواہمخواہ کی لفاظی بگھارنے سے گریز ہی لازم ہوتا ہے۔)

9۔ طویل بیماری سے جان چھوٹی تو سہی، پر اِس سے پیدا ہونے والی بے حد (یا’ازحد‘) کمزوری نے مرزا صاحب کو گھر سے باہر قدم نہیں رکھنے دِیا۔
(لفظ ’لاتعداد‘گننے یا شمار کرنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ ’کمزوری‘ گنی نہیں جاتی)

10۔ حکومت پنجاب نے سڑکوں کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کر دِیے۔
(’سڑکات‘-’گلیات‘ طرز کے کئی اور لفظ سرکاری دستاویزات میں عام دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ روایت برِصغیر پہ انگریز راج کے دَور سے چلی آ رہی ہے جب اُن غیرمُلکیوں کی بگڑی ہوئی زبان اور لہجے میں ہندی/سنسکرت الفاظ کو عربی/فارسی تراکیب کے مطابق لکھنے/بولنے کا رواج عام تھا۔ یہ تاحال سرکاری دفتری زبان کو اُردو میں ڈھالنے میں تساہل اور تغافل کا شاخسانہ بھی ہے)

11۔ ہماری جامعہ نے چند ہی سال میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کِیا۔
(لفظ ’جامع‘ کا مطلب ہے ’مکمل‘-’بھرپور‘ -’غیرمنقسم‘ وغیرہ…… جبکہ ’جامعہ‘ بڑی درسگاہ/ یونیورسٹی کے معنی میں مستعمل ہے۔ -۲ جہاں وقت کا تعین جمع کی صورت میں کرنا مقصود ہو اور ساتھ واضح یا مبہم لفظوں میں تعداد بھی ظاہر کر دی جائے تومذکورہ لفظ جمع کے بجائے واحد کی صورت میں آئے گا، یعنی ’دو گھنٹے سے‘- ’چند مِنٹ میں‘- ’کئی سال بعد ‘ وغیرہ لکھنا درست ہے، نہ کہ ’دو گھنٹوں‘- ’چند منٹوں‘- ’کئی سالوں‘ وغیرہ۔ -۳ جہاں لفظ comparative -یا- superlative ڈگری میں آئے، اُس کے ساتھ’بہت‘ یا ’سب سے‘ وغیرہ کا اضافہ نہیں کِیا جاتا۔ یہ غلطی بہت لوگ کرتے پائے گئے ہیں۔ )

12۔ صاحبِ صدر نے دستکاری سکول کے افتتاح کے موقع پر دو لاکھ روپے کی گرانٹ کا اعلان کِیا۔
(لفظ ’موقع‘ کے ساتھ ’ہ‘ لگانا غلط ہے۔)

13۔ ہمارا سکول شہر سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
(اس فقرے میں اصل لفظ’واقع‘ ہے جس کا مطلب ہے قائم یا موجود۔ واقعہ کا مطلب آپ جانتے ہی ہیں۔ اس لفظی فرق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ )

14۔ مجھے سخت حیرانی ہے کہ کلرک نے افسر کی ناراضی کے باوجود حساب کتاب کی درستی میں غفلت کیوں کی؟
(اس فقرے میں شامل تینوں الفاظ ’حیرانگی‘-’ناراضگی‘-’درستگی‘ میں ’گ‘ زائد لگایا گیا ہے۔ ایک عام قاعدہ اس ضمن میں یہ سمجھ لیں کہ فارسی زبان میں شامل ایسے الفاظ جن کے آخر میں ’ہ‘ آتا ہو، ان میں ’گ‘ کا اضافہ کیا جاتا ہے، بقیہ میں نہیں۔ جیسے حوالہ سے حوالگی، باقاعدہ سے باقاعدگی وغیرہ۔ ……اس کی وضاحت قارئین کو قواعد کی توضیحات و اصطلاحات میں اُلجھائے بغیر یوں کی جا سکتی ہے کہ درجِ بالا فقرے میں لفظ ’حیران- ناراض- درست‘ میں ’ہ‘ نہیں ہے، ان کے آخر میں ’گ‘ کے اضافے کے بغیر فقط ’ی‘ لگے گی۔ یہاں ایک بات کی مزید وضاحت ضروری ہے کہ حوالہ اور باقاعدہ جیسے عربی کے الفاظ فارسی زبان میں بھی مستعمل ہیں اور اُردو کا اسی حوالے سے حصہ ہیں، لہٰذا انھیں فارسی قاعدے کے مطابق لکھا جاتا ہے۔ صاحب علم اُردودان حضرات سے اس سلسلے میں مزید راہنمائی لی جا سکتی ہے)

15۔ کون کسی کا ہے یہاں؟……یہاں سب مایا ہے۔
(لفظ ’مایا‘ کو ’مائع‘ لکھنا جُہلا ہی کا کام ہو سکتا ہے اور املاء کی غلطیاں کرنے والے ایسے جاہل لوگ بھی کہیں کہیں پائے جاتے ہیں۔)

16۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سِوا…… راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سِوا
(فیض صاحب کے کسی شعر کو زیرِموضوع لانا گستاخی ہی کے زُمرے میں آئے گا، تاہم غلطی تو جیسا کہ کہا جاتا ہے، بڑے بڑوں سے بھی ہو جاتی ہے، یہاں بطور ردیف ’سوا‘ کو ’علاوہ‘ یا ’سمیت‘ کے معنی میں برتاگیا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے لکھاریوں اور کالم نویسوں کی اکثریت ’سوا‘ اور ’علاوہ‘ میں امتیاز روا نہیں رکھتی۔ ان دونوں لفظوں کو ایک دوسرے کا متبادل یا ہم معنیٰ سمجھ لیا گیاہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ لفظ ’سوا‘ اپنے اندر ’بغیر‘ کا مفہوم رکھتا ہے جبکہ ’علاوہ‘ میں’ مزید‘ کا مفہوم پایا جاتا ہے، لہٰذا اِن دونوں لفظوں میں موجود فرق اور امتیاز کا لحاظ رکھنا ضروری ہے )

یہ بھی پڑھیں:   تحریک نفاذ اردو - پروفیسر جمیل چودھری

17۔ اِک ہجر جو ہم کو لاحق ہے…… تادیر اُسے دوہرائیں کیا(ملکۂ غزل فریدہ خانم)
(فریدہ خانم کی یہ غزل سُننے سے پتہ چلے گا کہ یہاں دِیے جانے والے شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ ’لاحق‘ میں ’ح‘ پر زَبر کے ساتھ تلفظ کیا گیا ہے جبکہ ’لاحق‘کی ’ح‘ کے نیچے زیر آتی ہے، جس کا مطلب ہے ’ساتھ‘ یا ’منسلک‘ یا ’جڑا ہُوا‘)

18۔ نوجوان موٹر سائیکل سوار، خاتون سے پرس چھین کر فرار۔
(بعض دفعہ ایک کاما -یا-ڈیش کے نہ ہونے سے فقرا ذومعنی ہو جاتا ہے، جیسے اس فقرے میں فرق لگ سکتا ہے کہ موٹر سائیکل سوار خاتون تھی یا نوجوان؟ یہاں لفظ ’سوار‘ کے آگے فقط کاما لگانے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔اس نوع کی ایک بہت پرانی مثال ’’روکو مت جانے دو‘‘والے ذومعنی فقرے کی صورت میں بھی پیش کی جاتی ہے۔)

19۔ مہنگائی نے عام آدمی کے دِل و دماغ میں غصہ اور نفرت بھر دی ہے۔
(قاعدہ یہ ہے کہ فقرے میں جہاں لفظی تذکیروتانیث کا ایک ساتھ ذکر ہو توفقرے کی ساخت اور فعل آخری لفظ کے مطابق ہوگا)

20۔ مادام کیوری کے چوتھی منزل پر واقع کمرے میں ایک ہی دریچہ تھا۔اِس میں نہ تو گیس تھی، نہ بجلی اور نہ سردی (روکنے) ہی کا اِنتظام تھا۔
(1-لفظ ’واقع‘ کی وضاحت پہلے آچکی ہے۔ 2-فقرے میں لفظ ’کمرہ‘درست نہیں ہے، اس کی جگہ ’کمرے‘ لکھنا چاہیے۔ فقروں میں الفاظ کو اِس انداز میں باندھنے والے صاحبان شاید اس ابہام کا شکار ہوتے ہیں کہ مثلاً ’کمرے‘ لکھنے سے واحد کے بجائے جمع کا تأثر پیدا ہوتا ہے اس لیے ’کمرہ‘ ہی لکھنا لازم ہے۔ یہ غیرفصیح بھی ہے اور اُردوقاعدے کے بھی خلاف۔ 3-جب لفظ ’فقط‘ آ گیا تو ’ایک‘ کے بعد ’ہی‘ لگانا زائد ہے۔ 4-’نہ‘ کے بعد ’ہی‘ لگانا خلافِ قاعدہ ہے۔ یہ وضاحت بھی آ چکی ہے۔)

21۔ بجلی کی آئے دِن کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر کے رکھ دِیا ہے۔
(دو لفظوں کو مِلا کے ایک لفظ بنانے کو قواعد کی اِصطلاح میں مرکّب کہتے ہیں۔ اُردو میں قاعدہ یہ ہے کہ ہندی یا سنسکرت کے لفظ کو عربی یا فارسی کے ساتھ مِلا کر مرکّب یا ’ترکیب‘نہیں بنائی جاتی، لہٰذا لفظ ’آئے‘ (ہندی) کے ساتھ ’روز‘ (فارسی) لگا کے ترکیب کی شکل دینا اُردو قاعدے کے خلاف ہے۔ ’آئے روز‘ کے بجائے ’آئے دِن‘ لکھنا چاہیے۔)
22۔ مہنگائی کا گراف روز بروز بلندی کی طرف جا رہا ہے۔
(اس فقرے میں بھی اُوپر والی وضاحت کے مطابق لفظ ’دِن‘ کو ’ب‘ کے اضافے کے ساتھ فارسی ترکیب برت کر مُرکّب بنایا گیا ہے۔ ’دِن بدِن‘ کے بجائے ’روزبروز‘ لکھنا صحیح ہے۔)
23۔ ترقی کے مواقع کی پہچان اور ان سے فائدہ اُٹھانا آدمی کے لیے کامیابی کی کلید ہے۔
(لفظ ’مواقع‘ بذاتِ خود ’موقع‘ کی جمع ہے۔ اسے جمع الجمع کی شکل دینا بے ڈھب [Awkward] بھی ہے اور غیرفصیح بھی۔ الفاظ کو اِس انداز سے بگاڑ کر پیش کرنے سے گریز لازم ہے۔)
24۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور چنددوسرے پیغمبروں کے سوا تمام یہودی حکمران خود کو قانون سے بالاتر اور مقتدرِ اعلیٰ سمجھتے تھے۔
(’علاوہ‘ کا مطلب ہے ’اس کے سمیت‘ یا ’ان کے سمیت‘۔ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے حضرات، حتیٰ کہ جن کا مستقل واسطہ قرطاس و قلم سے ہے، یہ تمیز روا نہیں رکھتے۔ وہ ’سوا‘ کو ’علاوہ‘ اور ’علاوہ‘ کو ’سوا‘ یعنی ہم معنیٰ سمجھے بیٹھے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان میں سے ایک کی جگہ دوسرا لفظ استعمال کرنے سے فقرے کا مفہوم یکسر اُلٹ جاتا ہے، لہٰذا خدارا ’علاوہ‘ اور ’سوا‘ کے فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔)
25۔ نیز یہ فرمایا کہ مسلمان مخصوص شرائط پر پورا اُترنے والے حکمرانوں ہی کو اپنا امیر بنا سکتے ہیں۔
(1- ’نیز‘ کی موجودگی میں ’بھی‘ شامل کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ یا تو ’نیز یہ فرمایاکہ……‘ لکھیے یا فقط ’یہ بھی فرمایاکہ……‘ پر اکتفا کیجیے۔ 2- یہاں ’پورے‘ کے بجائے ’شرائط پر پورااُترنے والے……‘ لکھیے۔ 3- ’حکمرانوں کو ہی……‘ کی جگہ ’حکمرانوں ہی کو……‘ لکھیے۔)
26۔ نیز اِس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اِنسان کو جو کچھ علم سکھایا ہے، اللہ تعالیٰ ہی نے سکھایا ہے۔
(1- ’نیز‘ اور ’بھی‘ کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ 2- یہ وضاحت بھی اُوپر کی مثال میں موجود ہے، یعنی ’اللہ تعالیٰ نے ہی……‘ کی جگہ ’اللہ تعالیٰ ہی نے……‘ لکھیے۔)
27۔ وسیع مطالعہ اور غوروفکر، جس شخص میں یہ دو خوبیاں ہوں، اپنا اِظہار اس کی مجبوری بن جاتاہے۔
(فقرے کی ساخت ہی سے ظاہر ہے کہ یہاں زور لفظ ’اِظہار‘ پہ ہے نہ کہ ’مجبوری ‘پہ۔ لہٰذا صیغہ مذکر اِستعمال ہوگا، مؤنث نہیں۔ ’اپنا اِظہار اس کی مجبوری بن جاتا ہے‘ لکھنا درست ہوگا۔)
28۔ آج کی اعلیٰ عدلیہ کی اکثریت اپنے فیصلے میرٹ پر کر رہی ہے۔
(اچھے بھلے کالم نویس ہیں، جن صاحب کی تحریر سے یہ فقرہ اُٹھایا گیا ہے۔ یہاں ’اکثریت‘ سے پہلے ’کثیر‘ نہ معلوم انھوں نے کس ترنگ میں آکر جڑ دِیا ہے؟)
29۔ حکومت قومی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کوبہتر بنانے میں خاطرخواہ مدد مِلے گی۔
(یہ فقرہ وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جاری کردہ اُردو لغت سے لیا گیا ہے)
(1- درجِ بالا فقرے میں موجود خامیوں سے متعلق مثالیں پہلے پیش کی جا چکی ہیں۔ یہاں ’ایجنڈے‘ کی جگہ ’ایجنڈا‘- ’نتیجے‘ کی جگہ ’نتیجہ‘ کا استعمال اور ’ممکن‘ کے ساتھ ’سکے‘ کا اضافہ غلط کیا گیا ہے۔ ’ممکن ہو سکے گا‘ نہیں ’ممکن ہوگا‘ لکھنا صحیح ہے۔ 2- ’’بہتر پاکستان کا ’حصول‘ ممکن ہوگا‘‘لکھنا بھی مناسب نہیں، مافی الضمیر کو موزوں الفاظ میں لکھنے کی کچھ تو ’سینس‘ ہونی چاہیے!)
30۔ایک بڑے قومی سطح کے اخبار کی بالائی اور ذیلی سرخی ملاحظہ کیجیے
وزیرِاعلیٰ کینسر کے مرض میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بچوں کے علاج اور ادویات کی فراہمی کا خصوصی اعلان کریں گے
(سرخی نکالنے والے ’سب ایڈیٹر‘ صاحب، داد کے مستحق ہیں جن کی [غیرشعوری] کوشش سے تأثر یہ اُبھر رہا ہے کہ خدانخواستہ موت و حیات کی کشکش میں مبتلا[سندھ کے سابق] وزیرِاعلیٰ صاحب ہیں اور اخیر عمر میں اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے وہ بچوں کے علاج معالجے کے لیے ادویات فراہم کریں گے، حالانکہ اس مہمل فقرے کا مفہوم بآسانی واضح کیا جا سکتا ہے۔ کرنا کیا تھا؟ صرف اِتنا کہ یا تو وہ الفاظ کی ترتیب درست کر لیتے اور اگر یہ زحمت اُٹھانے سے عاری تھے تو فقط لفظ ’وزیرِاعلیٰ‘ کے فوراً بعد اور لفظ ’خصوصی‘ سے فوراً پہلے ’کاما‘ لگا دیتے۔)
31۔ ترقی یافتہ فلاحی ممالک میں اوسطاً ہر شخص کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر ہیں۔
(’اوسطاً‘ کو ’ایورجاً‘ بولنے کی عادت میں مبتلا یہ صاحب اِن دِنوں اپنے شہر کے ایک بڑے کالج میں اُردو پڑھا رہے ہیں اور یوں اپنی اُردودانی سے طالب علموں کا بیڑا غرق کرنے میں مگن ہیں۔ تحریر اور تقریر میں ایسی فاش غلطیاں کرنے والے اپنی اصلیت کا پول کھولتے کہیں کہیں مِل جاتے ہیں۔)
32۔ 24 سال کی عمر میں نپولین ایک گمنام سپاہی تھا، جس کی جائے پیدائش بھی فرانس سے باہر تھی۔
(یہ فقرہ ایک بڑے معروف مترجم/مصنف کی ترجمہ شدہ مقبولِ عام کتاب سے لیا گیا ہے، وہ اِتنا نہیں جانتے کہ ’جائے پیدائش‘ کے ساتھ مذکّر نہیں مؤنث صیغہ استعمال کِیا جاتا ہے۔)
33۔ حاجی صاحب کی نمازِ جنازہ ہاکی گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔
(’نمازِ جنازہ‘ کی ترکیب میں لفظ ’نماز‘پہلے آیا ہے جو مؤنث ہے، لہٰذا صیغہ بھی مؤنث آئے گا۔ ’نمازِ جنازہ…… ادا کی جائے گی‘ لکھنا درست صورت ہے )
34۔ یہ بات تحقیق طلب ہے کہ شیخ چلّی کیا واقعی کوئی تاریخی شخصیت تھا؟
(’شیخ چلی‘ کا معروف کردار مرد ہے نہ کہ عورت، لہٰذا اِس فقرے کا آخری لفظ ’تھی‘ نہیں ’تھا‘ آئے گا۔یہاں صیغے کو لفظ ’شخصیت‘پر قیاس نہ کِیا جائے۔)
35۔ کبھی کبھی جہاندیدہ شخص بھی عاقبت نا اندیشی سے اپنا کام بگاڑ بیٹھتا ہے۔
(’ناعاقبت اندیش/اندیشی‘ بھی بہت سے اصحاب تواتر سے استعمال کرتے پائے گئے ہیں جبکہ اصل لفظ یا ترکیب ’عاقبت نااندیش/اندیشی‘ ہے۔)
36۔ عظیم فاتح نپولین کینسر کے عارضے میں مبتلا ہو کر 1821ء میں چل بسا۔
(-۱ ’عارضہ لاحق ہونا‘ تو سمجھ میں آتا ہے، ’عارضے میں لاحق ہونے‘ کا کمال لکھنے والے موصوف کا قلم ہی دکھا سکتا ہے جو کہ ماشاء اللہ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ -۲ دنیا سے گزر جانے والے کسی غیرمسلم کے لیے ’جاں بحق‘ کا لفظ بالعموم استعمال نہیں کیا جاتا، اس کے ساتھ، نام سے پہلے، ’آں جہانی‘ لکھا جاتا ہے۔میری کم علمی سمجھیے کہ مسلم اور غیر مسلم کے فرق سے اس تقسیم کی وجہ تاحال میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ایک مرتبہ یہ غلطی مجھ سے سرزد ہو گئی تھی، وجہ معلوم کہ پکڑ ہو گئی، لہٰذا آپ کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔)
37۔ کرنل معمرالقذافی جدید اِسلامی دُنیا کے واحد انقلابی لیڈرتھے جنھوں نے عالمی سامراج کو اپنے مُلک میں مَن مانیوں کے حوالے سے طویل عرصے تک بے بس کیے رکھا۔
(لفظ ’اغلباً‘ فقرے میں بالکل فالتو استعمال ہوا ہے، اگر کرنا ہی تھا تو ’غالباً‘ پر اکتفا کر لیا جاتا۔ اہلِ زباں نے ویسے بھی ’اغلباً‘ لکھنا خلافِ قاعدہ قرار دیا ہے، لہٰذا اسے تحریر میں شامل کرنے سے اجتناب ہی بہتر ہے)
39۔ یہ تمام غیر متوقع فیصلے بنیادی منصوبوں سے بہت حد تک غیر متعلق تھے۔
(فقرے کی ساخت ہی غلط ہے‘ لیکن لفظ ’قریب‘ تو یہاں بری طرح کھٹک رہا ہے۔ اس کی جگہ اگر ’کسی حد تک‘ یا ’بہت حد تک‘ استعمال کر لیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔)
40۔ اعلیٰ تعلیم سے اپنی محرومی کے باوجود لیون ہاک کو ’’ڈچ ‘‘ کے سوا کوئی زبان نہیں آتی تھی۔
(نہیں معلوم کہ لکھنے والے کو یہاں ’باوجود‘ کی جگہ ’باوصف‘ لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ’علاوہ‘ کو یہاں بھی ’سوا‘ کے معنیٰ میں برتا گیا ہے۔)
41۔ قدیم یونان میں عوام الناس بھی ہومر کی شاعری سے واقف تھے۔
(عوام الناس=عام لوگ۔ ’عوام‘ کو بطورِ واحد اور تانیث لینا سراسر غلط ہے۔ لہٰذا اِس لفظی ترکیب کے ساتھ ’تھی‘ لگانا جہالت کا بڑا واضح ثبوت ہے۔ یہاں ’واقف تھی‘ کی جگہ ’واقف تھے‘ لکھا جائے گا۔)
42۔ کسے سیاست میں رہنا ہے اور کسے جانا ہے، اس بات کا فیصلہ عوام کریں گے۔
(فقرے میں جہاں مصدر ’رہنا‘-’جانا‘ وغیرہ آئے وہاں ’کس نے‘- ’جس نے‘ - ’مَیں نے‘ - ’اُس نے‘ وغیرہ نہیں آئے گابلکہ فقرے کی اصل صورت اُوپر درج شدہ فقرے کے مطابق ہو گی ۔ -۲یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ لفظ ’عوام‘ کے ساتھ، جو کہ بذاتِ خود جمع ہے، صیغۂ تانیث کے بجائے جمع کا صیغہ آئے گا)
43۔ جین مت سے ہمیں یہ مثال مِلتی ہے کہ کس طور مذہبی اعتقادات مجموعی طرزِ معاشرت کو تباہ کر دیتے ہیں۔
(جب لفظ ’طرزِ معاشرت‘ آگیا تو کیا لازم تھا کہ اس سے پہلے ’معاشرے کی‘ کا اضافہ کیا جائے؟…… افسوس تب ہوتا ہے جب ایسی غلطیاں ان محترم اور معزز لوگوں کی طرف سے سرزد ہوتی ہیں جن کے بارے میں ایک منجھے ہوئے رائیٹر ہونے کا تأثر قائم ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسے مواقع پراس ناچیز کا جی مچلتا ہے کہ ایسے فقرے رائٹر کے نام کا حوالہ دے کر درج کیے جائیں مگر پھر لحاظ اور مروّت آڑے آ جاتی ہے)
44۔ شاہد نے نوید کے ساتھ اس مشکل مہم پر روانہ ہونے کہ ہامی بھر لی۔
(لفظ ’حامی‘ اور ’ہامی‘ میں فرق ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ عموماً اس کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ’حامی‘ کا مطلب ’تائید کرنے والا‘- ’حمایت کرنے والا‘ ہے، جبکہ (ہائے ہوّز کے ساتھ) ’ہامی بھرنا‘ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے)
45۔ بیٹا ! ایک جگ پانی کا لاؤ، اور ہاں، دو گلاس بھی لیتے آنا۔
(یہاں لفظ ’ہمراہ‘ غلط استعمال ہوا ہے۔ ’ہمراہ‘……’ساتھ ساتھ چلنے‘ کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بجائے ’ساتھ دو گلاس لیتے آنا‘ لکھنا چاہیے)
46۔ بچے کہاں ہیں؟……وہ برابر والے کمرے میں ہوم وَرک کر رہے ہیں۔
(یہاں دو چیزیں ایک جگہ پر ایک ساتھ موجود ہیں، اُردو قاعدے کے مطابق ایسے فقروں میں ’ساتھ‘ کے بجائے ’برابر‘ لفظ استعمال ہوتا ہے، اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ یہاں ’برابر‘کو ’متوازی‘ کے معنیٰ میں لیا جاتا ہے)
یاد رکھیے، تحریر وہی زیادہ مؤثر شمار کی جاتی ہے جو ہر طرح کی چھوٹی بڑی غلطیوں سے یکسر پاک ہو، عام رِیڈرز کے علاوہ اہلِ علم بھی جسے پڑھ کر بے مزہ نہ ہوں۔