"ملاقاتیں کیا کیا" پر ایک تبصرہ - حسان احمد اعوان

میری عمر اتنی تو نہیں لیکن تجربہ تو بالکل نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر بھی الطاف حسن قریشی صاحب جیسی بڑی شخصیت کے قلم سے نکلے خوبصورت مجموعہ الفاظ پر اپنی رائے دینے کی جسارت کر رہا ہے۔ اس کی وجہ شاید الطاف صاحب کا مداح ہونا ہے کہ میں "ملاقاتیں کیا کیا" پر لکھنے یا کچھ کہنے کا آرزو مند ٹھہرا ہوں۔

یہ اپریل 2010 کی بات ہے جب انگریزی جریدے "ریڈرز ڈائجسٹ" کو پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں خیال اُبھرا کہ ایسے شاندار جریدے کی ترتیب و تالیف اُردو زُبان میں کیوں ممکن نہیں؟ تب میں اردو ڈائجسٹ کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ اُنہی دنوں اپنے گاؤں کے ایک دوست سے ملنے گیا تو وہ وہ اردو ڈائجسٹ کی ورق گردانی میں مصروف تھے۔ ـ میں نے رسالہ طلب کیا، صفحات اُلٹے، رسالے کی طباعت اور اور مضامین کی عمدگی پر غور کیا۔ مُجھے بہت خوشی ہوئی کہ یہ رسالہ ہر اعتبار سے ریڈرز ڈائجسٹ کے مقابلے کا ہے۔ ـ یہ اردو ڈائجسٹ سے میرا پہلا تعارف تھا اور الطاف حسن قریشی صاحب سے بھی۔ اس کے بعد میں اردو ڈائجسٹ کا مستقل قاری بن گیا۔

اسی جریدے سے مُجھے معلوم ہوا کہ الطاف صاحب نے اپنی زندگی میں جن بڑی شخصیات کے انٹر ویوز لیے تھے، ان پر ایک خُوبصورت اور جامع کتاب تالیف ترتیب دی ہے۔ اُسی وقت جمہوری پبلیکیشنز سے رابطہ کرکے کتاب منگوائی۔ 389 صفحات پر مُشتمل اس ـ کتاب کی قیمت 1490 روپے ہے۔ یہ کتاب تاریخ کے اہم راز اور 23 عظیم اور تاریخی پاکستانی و عالمی شخصیات کے افکارو اعمال کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور تاریخ کے طلبہ کے لیے بہت مُفید ہے۔

الطاف حسن قریشی صاحب کہتے ہیں کہ "اونچے حلقوں سے سُنا ہے کہ ہمارے مُلک میں ' بڑے آدمی ' درآمد ہوتے ہیں اور کبھی کبھی برآمد بھی"۔ پچاس سال سے زائد عرصے میں لیے گئے ان منتخب انٹرویوز کا مجموعہ بلاشبہ ہمارے سیاسی ادب میں ایک قابلِ قدر اور بیش بہا اضافہ ہے ـ۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

جن شخصیات کے انٹر ویوز کو اس مجموعے میں جگہ دی گئی ہے، اُن میں جسٹس ایس اے رحمٰن، سید ابوالاعلیٰ مودودی، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مُجیب الرحمٰن، جنرل محمد ضیا الحق، خادم الحرمین الشریفین شاہ فیصل، سلیمان دیمیرل، خانِ قلات احمد یار خان، چیف جسٹس اے - آر – کارنیلیس، ڈاکٹر سید عبداللہ، اے کے بروہی، غلام رسول مہر،ڈاکٹر خدیجہ فیروز الدین، مولوی تمیز الدین خاں، پروفیسر حمید احمد خان، ڈاکٹر عبد الرحمٰن بارکر، چودھری محمد علی، حکیم محمد سعید دہلوی، جسٹس حمود الرحمٰن، ایس ایم ظفر، مولانا ظفر احمد انصاری، قدرت اللہ شہاب اور ایئر مارشل اصغر خان شامل ہیں۔

کتاب سے ایک اقتباس
"سیاسی عمل میں رہنے والے لوگوں کو بعض اوقات ایسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ جب اُن کو وسیع تر سیاسی مقاصد کی خاطر ذاتی تکلیفوں کو بھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے، چنانچہ جنرل ضیا الحق کے دور میں بحا لئِ جمہوریت کی تحریک میں بہت سے وہ افراد شامل ہوئے جنہوں نے بھٹو صاحب کے زمانے میں بڑا مشکل وقت کاٹا تھا"ـ

انٹرویوز سے فکر انگیز اقتباسات
جسٹس ایس - اے - رحمان
سوال: آپ کے نزدیک اقبال کا اسلامی ثقافت کا تصور کیا تھا اور اُن کے نظریے سے آپ کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: "میرے خیال میں اقبال قُرآن کو اسلامی ثقافت کا منبع تصور کرتے تھےـ۔ دراصل ثقافت نام ہے فکرو عمل کے اُن اصولوں کا جو ایک قوم زندگی کے مُختلف شعبوں میں اختیار کرتی ہےـ۔ یہ بُنیادی اصول قرآنِ حکیم میں بیان فرما دیے گئے ہیں ـ"

سید ابوالاعلیٰ مودودی
سوال: یہ بین الاقوامیت کا دور ہے جس میں مختلف تہذیبوں کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا ایک فطری عمل ہے ـ۔ اِن حالات میں مغربی تہذیب سے مصالحت کر لینے میں کیا حرج ہے؟

جواب: " جو لوگ اپنی تہذیب چھوڑ کر دوسروں کی تہذیب اپناتے ہیں اُن کی حیثیت خَس وخاشاک سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ـ اسلام نے انسان کے فطری داعیوں اور تقاضوں پر قدغن نہیں لگائی بلکہ صحت مند نشو نما کی راہیں مُتعین کر دی ہیں ـ۔"

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

ذوالفقار علی بھُٹو
سوال: "اپنے خاندانی پسِ منظر پر کچھ روشنی ڈالیے"ـ

جواب: "الطاف! ایک بات سُنو میں خاندان کے پسِ منظر کو اہمیت نہیں دیتا۔ ـ میرے خیال میں ہر شخص کے اندر ایک انفرادیت ہوتی ہے، وہی انفرادیت میدانِ عمل میں کام آتی ہے۔"ـ

آخر میں کتاب کے اوائل میں دے گئی الطاف صاحب کی غزل کے چند اشعار

َوہ اور ہی ہوں گے کم ہمت، آلام ومصائب سہہ نہ سکے
شمشیر وسناں کی دھاروں پر جو حرفِ صداقت کہہ نہ سکے

اِ ک جزبِ حصولِ مقصد نے یوں حرص و ہوا سے پاک کیا
ہم کفر کے آگے جُھک نہ سکے ہم وقت کی رو میں بہہ نہ سکے

جس بات پہ تم نے ٹوکا تھا اور دار پہ ہم کو کھینچا تھا
مرنے پہ ہمارے عام ہوئی گو جیتے جی ہم کہہ نہ سکے

تھے تم سے زیادہ طاقتور پَر چَشمِ فلک نے دیکھا ہے
توحید کا طوفاں جب اُٹھا، وہ مدِ مُقابل رہ نہ سکے

الطاف مُحبت چیز ہے کیا اِک سوزِ دروں اِک دردِ نِہاں
وہ پچھلے پہر کی آہ بنیں جو آنکھ سے آنسو کہہ نہ سکے