لوڈشیڈنگ عذاب ہے یارب - تنزیلہ یوسف

پاکستان کو جہاں دہشت گردی، بے روزگاری اور لاقانونیت جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے وہیں ان مسائل میں پچھلے کئی برسوں سے لوڈشیڈنگ کا بھی اضافہ ہوا ہے، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ عوام کی اکثریت، اشرافیہ کو نکال کر کہ یہ طبقہ عوام میں کب آتا ہے، بجلی کی قلت برداشت کرنے پر مجبور ہے اور ہر پارٹی انتخابی مہم چلاتے سمے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آتے ہی دو سے تین ماہ کے عرصے میں بجلی کے بحران پر قابو پالے گی۔ مگر جب اقتدار میں آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے سامنے ببانگِ دہل جو دعوے کیے گئے تھے وہ محض سبز باغ تھے اور درحقیقت اس مسئلے کو حل کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے۔ یعنی مسئلے کی تہہ میں جاکر اس کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے کہ بظاہر جو کام آسان لگ رہا تھا وہ تو دور کے ڈھول ہیں جو دور سے ہی سہانے لگتے ہیں، پاس آنے پر یہ ڈھول گلے میں ڈال کر بجانا بھی پڑتا ہے اور اس کی کان پھاڑنے والی آواز بھی برداشت کرنی ہوتی ہے۔

بہرحال، ملک بھر میں گرمی کی لہر کیا چلی ہے، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی طوالت پکڑتا جارہا ہے۔ مشرف دور میں شروع ہونے والی یہ پریشانی اس طویل دور آمریت کے بعد آج دوسری جمہوری حکومت کے آخری سالوں میں بھی قابو میں نہیں آپارہی۔ آغاز میں اس کا دورانیہ شہری علاقوں میں تیس جبکہ دیہی علاقوں میں ساٹھ منٹ کا تھا جو بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ اب ہر ایک گھنٹے کے بعد بجلی غائب۔ اس کی شدت میں مانا کہ کمی آگئی ہے مگر یہ مسئلہ مکمل طورپر ختم ہونے میں نہیں آرہا، ہر حکومت تسلیاں اور دلاسے دیتی ہے کہ فلاں مہینےیا فلاں سال میں لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی مگر عوام بھی کہنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

ابھی گرمی کا آغاز ہی ہے، جوبن پر ہوگی تو خدا جانے کیا حال ہوگا؟

حضرت انسان جو بجلی کی سہولت کا اس حد تک عادی ہوگیا ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں اچھا بھلا مہذب بندہ خود کو پتھر کے دور میں کھڑا دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے جب ہر کام ہی بجلی سے ہوگا تو اس کی عدم دستیابی میں تو یہی محسوس ہوگا ناں کہ جیسے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے ہیں۔ خدا جانے وہ کون سا سال ہوگا کہ جس میں پریشان حال عوام بھی سکھ کا سانس لے گی۔

موجودہ حکومت دعوے تو بہت کررہی ہے کہ سی پیک منصوبہ پاکستان میں ترقی و خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا کیونکہ یہ وہ عالم گیر منصوبہ بننے جارہا ہے جس پر بہت سے ممالک نظریں لگائے بیٹھے ہیں اور اس میں شمولیت کے خواہاں بھی ہیں اور جو شامل نہیں ہوسکتے وہ اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی تگ و دو میں مصروف عمل ہیں کہ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کو بہت فائدہ ہونا ہے بلکہ اس کا حصہ بننے والے ممالک کا مفاد بھی اسی سے وابستہ ہے۔ فی الحال تو اس لاعلاج دکھائی دینے والے مرض کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ عوام کو اس مرض سے نجات ملے اور عوامی مسائل میں سے ایک کا حل نکلے۔

امید واثق ہے کہ وہ دن بہت قریب ہے کہ جب پاکستان میں بھی روشنیاں ہی روشنیاں ہوں گی اور عوام بھی دل کھول کر بجلی سے استفادہ کرپائے گی، کہ ہم بھی سنہرے اور روشن دنوں کے لئے پرامید ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ

ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.