شرابِ پیسہ کی لذت - نعیم الرحمن

چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شرابِ پیسہ کی لذت کشاں کشاں مجھے

آپ تو غصے سے لال پیلے ہوئے جاتے ہوں گے کہ میں نے ڈاکٹر اقبال کے شعر کو غلط لکھ دیا، لیکن اسے آپ کو ہضم کرنا ہو گا کیونکہ اب حقیقت یہی ہے۔ آئے روز ہمارا کوئی نہ کوئی عزیز بیرون ملک کا سفر کرتا ہے، کوئی دبئی جارہا ہوتا ہے تو کوئی انگلینڈ۔ حتی کے چھوٹی موٹی ملازمت کے لیے ان پڑھ لوگ بھی بیرون ممالک کا رخ کر تے نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے، سب کو اچھی طرح معلوم ہے کے پیسہ ہی اصل وجہ ہے۔ اس پیسے کی خاطر ہم وطن عزیز کو الوداع کہہ کہ چلے جاتے ہیں۔ اکثر لوگ جو ایک دفعہ کہیں بیرون ملک چلیں جائیں تو پھر وہ پاکستان نہیں آتے اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان میں انھیں بیرون ممالک جتنا پیسہ میسر نہیں ہوتا۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان جو ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں وہ بیرون ملک ملازمت کر رہے ہیں کیونکہ انھیں اپنی قابلیت کے مطابق پاکستان میں پیسہ نہیں ملتا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 76لاکھ لوگ بیرون ممالک میں مقیم ہیں تو وجہ یہی پیسہ ہی ہے۔ کچھ لوگ اس قدر پیسے کے پجاری ہو گئے ہیں اور کچھ ہمارا ملک کوئی سہولت مہیا نہیں کرتا۔ پاکستان کے اکثر پڑھے لکھے افراد جنہیں بیرون ملک میں ایک اچھا سٹیٹس حاصل ہے اگر پاکستان آجائیں تو انھٰیں کسی اچھے ادارے میں ملازمت ملنا مشکل ہو جاتی ہے کیوں کے ہمارے اداروں میں وہی حساب ہے:

کچھ بھتیجے ہیں، کچھ سالے ہیں
عہدے سارے تقسیم ہونے والے ہیں

ہر جگہ سفارش کا نظام ہے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں کتنے لوگ میرٹ پہ رکھے گئے ہیں؟ یقیناً اکثر سفارشی موجود ہیں۔ ملک کے نظام کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی سفارش ہے کیونکہ اس سے نا اہل لوگ سیٹوں کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں اور اصل ہیرے بیرون ملک کی طرف رخت سفر باندھ جاتے ہیں۔ باہر کے ممالک کی یونیورسٹیوں کو دیکھا جائے تو ایک طالب علم کے لیے اس قدر سہولیات موجود ہیں کہ انسان دنگ رہ جائے اور وطن عزیر پاکستان میں تو ابھی یونیورسٹیوں میں اے سی میسر نہیں تاکہ طلباء اچھی طرح کام کر سکیں۔ ہمارا تعلیمی نظام نصف صدی پیچھے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ باہر کے ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے طلباء پاکستان میں سکالرشپ سے محروم ہیں حالانکہ ان کی عمر گھر کو چلانے کی ہو چکی ہوتی ہے لیکن بیرون ممالک میں اچھا خاصا سکالرشپ دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے طلباء باہر کے ممالک میں جانا پسند کرتے ہیں اور ان کے لیے کام کرتے ہیں۔ پاکستان کی کئی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن میں وقتی طور پہ لیکچرر بھرتی کیے جاتے ہیں حالاں کے وہ سیٹیں مستقل لیکچررز کے لیے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوان جاب سے محروم ہیں اور اچھے بھلے قابل ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   معیشت کے بنیادی خدوخال - پرویز بزدار

ایک پیسے میں کشش بہت زیادہ ہے اور دوسرا پاکستان میں سہولتوں کا نایاب ہونا سب سے بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی بیرون ملک جانا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیٹل ہو جانا پسند کرتے ہیں۔ وطن عزیر کا یہ حال سفارش اور رشوت کی وجہ سے ہے۔ سفارش نے بڑے بڑے ہیروں کو بیرون ملک جانے پہ مجبور کر دیا کیونکہ ان کے پاس ریفرینس موجود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انھیں کسی اچھے ادارے میں جاب نہیں مل سکتی۔ ہمیں اپنے وطن کی حالت پر غور کرنا ہوگا کہ کیوں ہزاروں نوجوان باہر جانا پسند کرتے ہیں اور کیوں لاکھوں چلے گئے ہیں۔ وجہ تلاش کر کے اس کا حل نکالنا ہو گا۔ پی ایچ ڈی کے طلباء کے لیے خصوصی سکالرشپ رکھے جانے چاہئیں تاکہ طلباء گھر کا نظام بھی اچھی طرح چلا سکیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کی رینکنگ بہت لو ہے اس حوالے سے بھی ماہرین کو سوچنا چاہیے کہ کس طرح اس کو بہتر بنایا جائے۔ ہمارے ملک کے ذہین و فطین انجنئیرز اور سائنسدان بیرون ممالک میں کام کررہے ہیں کیوں نہ انھیں اچھی سہولتیں مہیا کر کے وطن عزیر میں لایا جائے تاکہ وہ ملک و قوم کا نام روشن کریں۔ سفارش اور رشوت جیسے ناسور کا قلع قمع ہونا چاہیے تاکہ کسی حق دار کا حق نہ دبے۔ میں اپنے ہم وطنو سے درخواست کروں گا کہ میرے عزیز ہم وطنو باہر جانے کی بجائے اپنے ملک کے لیے صبر و شکر سے کام کرو ایک دن ضرور تمہیں تمہارا صلہ مل جائے گا۔ ان شاء اللہ