قرآن کی نسبت سے اکرام - ابو حسن

کینیڈا میں ٹورنٹو ایئر پورٹ کے نزدیک 'مالٹن مسجد ' واقع ہے۔ پچھلے جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو عجیب منظر دیکھا۔ نماز میں کافی وقت تھا مگر مسجد کا اندرونی حصہ لوگوں سے پُر ہوچکا تھا۔ دروازے سے داخل ہونے پر سامنے ہی اپنے ایک رقیب صادق صاحب کھڑے دکھائی دئیے جو کہ ہر آنے والے نمازی نچلے حصہ میں چلے جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔ میں نے سلام کے بعد ان سے یہ ذمہ داری لینے کی درخواست کی اور انہیں اندر جانے کا کہا جہاں مولانا قرآن کے فضائل پرتقریر فرما رہے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے مسجد کا نچلا اور بالائی حصہ بھی پُر ہوگیا حتیٰ کہ جوتیاں رکھنے کی جگہ پر بھی لوگ بیٹھ گئے۔ اس کے باوجود اب بھی مسجد کے باہر لوگ کھڑے تھے جس کی وجہ سے ہمیں گاڑیوں کی پارکنگ میں صفیں بچھانا پڑیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب میں نے اس مسجد میں نمازیوں کی اتنی کثیر تعداد دیکھی۔ جہاں یہ بات باعث مسرت تھی وہیں حیران کن بھی رہی کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو آج اتنی مسلمانوں کو بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہونے کی ترغیب دے رہی ہے؟

ٹورنٹو کی اس مسجد سے ملحقہ مدرسے میں 300 کے قریب بچے اور بچیاں قرآن کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان میں صبح 8 بجے سے 6 بجے تک قرآن کریم حفظ کرنے کی نیت سے آنے والے کل وقتی بچے بھی ہیں اور دوپہر 4 سے 6 بجے کے علاوہ 6 سے 8 بجے تک قرآن کی تعلیم حاصل کرنے والے نونہال بھی شامل ہیں۔ مزید برآں اسی مدرسے میں 6 بجے سے رات ساڑھے 9 تک عالم کا کورس بھی کروایا جارہا ہے۔ مسجد کے مدرسے میں قرآن کریم کی تعلیم دینے والی معلمہ ایک روز قبل انتقال فرما گئیں تھیں اور نماز جمعہ کے فوری بعد ان کا جنازہ پڑھا جانا تھا۔ اور نمازیوں کی کثرت جس میں حفاظ، علماء اور مفتیان کرام بھی شامل تھے، انہیں خاتون کی نماز جنازہ کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   قرآن کی حفاظت کا معجزہ - نیاز فاطمہ

یہ واقعہ قرآن کی نسبت سے ملنے والے اکرام کی ایک مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاتون، جو 6 سال تک بچوں کو قرآن سکھاتی رہیں، کا اپنی ہی مخلوق سے اکرام کروایا کیوں کہ اللہ کسی کے صالح عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ قرآن کے اساتذہ پر اللہ کے اس اکرام پر مجھے بہت رشک آیا حتیٰ کہ میری آنکھیں بھی اشک بار ہوگئیں۔

ایسا نہیں کہ میں نے نماز جنازہ میں نمازیوں کی کثرت کبھی نہیں دیکھی۔ الحمد للہ، متعدد بار بیت اللہ اور مسجد نبوی میں نماز جنازہ میں شمولیت کی توفیق حاصل ہوئی جہاں ہزاروں کی تعداد میں نمازی دیکھنے کو ملے۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل الگ تھا۔ یہ ایک غیر مسلم ملک کا منظر تھا جہاں پر مسلمان نمازیوں کی اتنی بڑی تعداد شاذ و نادر ہی ایک ساتھ نظر آتی ہے۔

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.