جہنم کا منظرنامہ - محمد علی نقی

ہر طرف گہما گہمی کا عالم تھا کہ لوگ برہنہ بدن شرق و غرب میں دوڑے جا رہے تھے، کہیں سے آہ کی آواز بلند ہو رہی تھی تو کوئی واہ واہ کہہ کر مسلسل داد دیے جارہا تھا کہ اتنے میں جہنم کے دروغے کی آواز بلند ہوئی، یہ عیش و عشرت کا زمانہ نہیں ہے کہ تم یہاں بھی دل کو بہلانے کے انداز اپنائے پھرتے ہو کہ اک نحیف و سیاہ بدن بزرگ نے اپنی لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے جواب دیا۔
او! صاحب بابو؟
دروغہ! ہاں بتاؤ، تمھیں کیا شکایت ہے؟
صاحب بابو! ہم غریبوں کی کیا مجال کہ شکایت کریں؟
دروغہ! تو میرے قیمتی وقت کو ضائع کیوں کر رہے ہو؟
بزرگ! صاحب بابو ہم میں کیا مجال کہ آپ جیسے افسروں کا وقت ضائع کریں؟
دروغہ غصہ کرتے ہوئے چل دیا اور کہتا گیا کہ کیسے جاہل لوگ ہیں، صرف وقت کا ضیاع ہیں بس..

بزرگ نے مٹی سے کھیلتے اپنے پوتے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اسے تو میں پڑھا لکھا کر دروغہ لگواؤں گا.
اس کے بعد بزرگ چلایا اوئے صدے!
بچہ مٹی چھوڑ کر دوڑے دوڑے بزرگ کے پاس گیا تو اسے کندھے پر بٹھائے بزرگ کہتا رہا
’’تو شہر دا دروغہ لگ جائیں گا تے ساڈی غریبی مٹائیں گا.‘‘
اس کے بعد بزرگ زور سے چلایا اوئے صدے دی ماں، منڈے نوں تیار کروا...
ہمارا لڑکا اب ٹیوشن پڑھنے جائے گا، میں نے حمید کی چھوکری سے بات کرلی ہے، وہ اسے پڑھائے گی، چل حیاتاں! اب اسے جلدی جلدی صاف کپڑے پہنا دے.
حیاتاں صدے کو نہلانے میں مصروف ہوگئی، میل کچیل کے ساتھ اس کے جسم پر سے جہنم کی آگ نے ٹھنڈا ہونا شروع کردیا..
صدے نے بیگ کندھے پر لٹکایا اور حمید کے گھر کی طرف چل دیا، جاتے ہوئے صدے کے خستہ حال بستہ سے متعدد بار ورق ورق ہوئی کتابیں نیچے گرتیں لیکن صدّا دنیا سے بےنیاز ہو کر کتاب اٹھاتا اور پھر بستے میں ڈالتا، بالآخر ٹہلتا ٹہلتا حمید کےگھر پہنچ گیا.

یہ بھی پڑھیں:   سانحہ بہاولپور اور ہمارے رویّے - روبینہ شاہین

حمید کی چھوکری نے صدے کو تہجی کے پانچ حروف یاد کروائے اور پھر صدے کی بساط کے مطابق اس سے کام بھی کروانا شروع کر دیے، صدے کو پرائمری پاس کرنے میں تو دقت نہ ہوئی اور ساتھ میں حمید کی چھوکری جس کا نام سلمیٰ تھا میں کچھ دلچسپی بھی تھی، صدّا مڈل میں بھی اس کے پاس پڑھنے آتا اور وہ اجرت میں اس سے سودا سلف منگوا لیتی جبکہ صدے کو اس کے تخیل سے جسم میں قدرے جنسی راحت محسوس ہوتی.

مڈل کے بعد اب سلمیٰ نے صدے کو پڑھانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اسے مڈل سے آگے پڑھانے کا تجربہ نہیں، اب صدے کو استاد کے پاس پڑھنے جانا پڑتا جہاں اسے پڑھائی تو نصیب ہوتی لیکن نظارہ و تخیل مدھم پڑنا شروع ہوگئے.

ادھر بزرگ بھی اپنی عاقبت کو جا پہنچا، جہنم کی گرم زمین اس پہ ٹھنڈک کے اثر جھاڑنے کو تیار ہوچکی تھی، اور ساتھ میں بزرگ کی منشا کے مطابق اب اس کی غریب بھی انجام کو پہنچ چکی تھی. وقت نے رفتہ رفتہ صدے کو صدر الدین بنانا شروع کردیا اور یوں وہ مستقل صدر الدین بن گیا لیکن نام کے ساتھ داروغہ کی اضافت بھی ہوگئی.

یوں ہی لوگ نیم عریاں بدن لیے شرق و غرب میں دوڑے جا رہے تھے کہ جہنم کے دروغے کی صدا بلند ہوئی، یہ عیش و عشرت کا زمانہ نہیں ہے کہ تم یہاں بھی دل کو بہلانے کے انداز اپنائے پھرتے ہو کہ اک نحیف و سیاہ بدن بزرگ نے اپنی لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے جواب دیا۔
او صاحب بابو!
دروغہ! ہاں بتاؤ، تمہیں کیا شکایت ہے؟
صاحب بابو! ہم غریبوں کی کیا مجال کہ شکایت کریں؟
دروغہ! تو میرے قیمتی وقت کو ضائع کیوں کر رہے ہو؟
بزرگ! صاحب بابو ہم میں کیا مجال کہ آپ جیسے افسروں کا وقت ضائع کریں؟
دروغہ غصہ کرتے ہوئے چل دیا اور کہتا گیا کیسے جاہل لوگ ہیں، صرف وقت کا ضیاع ہیں بس.

یہ بھی پڑھیں:   محنت اور مستقل مزاجی - حافظ جاوید اقبال

بزرگ نے مٹی سے کھیلتے اپنے پوتے کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اسے تو میں پڑھا لکھا کت دروغہ لگواؤں گا.
اس کے بعد بزرگ چلایا اوئے راحمو!
بچہ مٹی چھوڑ کر دوڑے دوڑے بزرگ کے پاس گیا تو اسے کندھے پر بٹھائے بزرگ کہتا رہا
’’تو شہر دا دروغہ لگ جائیں گا تے ساڈی غریبی مٹائیں گا.‘‘