میں اور میری کتابیں! - عائشہ افق

آج تو وہاں سے واپس آنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔وہاں وہ سب تھیں۔ لائبریری کا دروازہ گویا ایک نئی دنیا میں داخلے کا دروازہ ہے۔ہاں، وہ میری ہی دنیا ہے۔اس انسانی دنیا سے دُور، میرے تخیلات کی دنیا۔جس میں عائشہ ہوتی ہے اور عائشہ کی کتابیں۔ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اک مانوس سی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے وہ بھی مجھے دیکھتے ہی خوشی سے ناچنے لگی ہوں۔ شاید وہ میرا ہی انتظار کر رہی تھیں۔ میں بھی تو ان کو دیکھ کے فرط جذبات سے بے قابو ہو جاتی ہوں۔ اتنی مسرور کے اچھل اچھل کے خوشی ظاہر کرنے کو جی چاہتا ہے۔الفاظ کپکپانے لگتے ہیں۔معلوم نہیں وہ کیا جذبات ہوتے ہیں؟ بیاں سے باہر! تخیل سے بالا!
خوشی، جوش اور محبت کا اک سمندر باہر نکلنے کو بے تاب ہوتا ہے اور اکثر وہ جوار بھاٹا حرکات و سکنات میں بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ دل ان لمحوں کے ٹھہر جانے کے لیے دعا گو ہوتا ہے۔ مگر وقت ٹھہرتا نہیں، یہی تو اس کا سب سے بڑا ظلم ہے۔ دل وہیں ٹھہر جاتا ہے اور منٹوں، گھنٹوں،ہفتوں، دنوں اور مہینوں و برسوں کے تغیر سے ماورا۔ غرض کہ اس دنیا سے باہر نکلنے کو دل ہی نہیں چاہتا لیکن پھر بھی باہر نکلنا پڑتا ہے۔

وداع یار کا لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں
میں تو زندہ رہا،وقت مر گیا مجھ میں

جب کوئی کہتا ہے نا کہ "تم ان کو ہم سے زیادہ اہمیت دیتی ہو "، درحقیقت مجھے فخر ہوتا ہے۔ ہاں! میں دیتی ہوں انہیں اہمیت، سب سے زیادہ، ہر تعلق ہر رشتے سے زیادہ۔ جب کوئی انہیں اپنا رقیب سمجھتا ہے، تو میرا خون سیروں بڑھ جاتا ہے۔جب کوئی کہتا ہے نا کہ "تم تو ان کے پیچھے پاگل ہی ہو گئی ہو" اور" تم جیسا پاگل کوئی نہیں دیکھا" تو مجھے اپنے پاگل پن پہ بھی پیار آنے لگتا ہے۔
جب کوئی پوچھتا ہے نا "پی ڈی ایف کا دور ہے پھر ان پر پیسہ ضائع کرنے سے کیا حاصل "تو میں کہتی ہوں "ہاں سمجھ لیجیے کہ اردو ادب کی ترقی اور کتب خریدنے کے رواج کو پروان چڑھانے کا بیڑہ میں نے ہی تو اٹھایا ہے۔ " ہاں جب دنیا میں رہتے ناکام ہو جاتی ہوں تو وہ میرے لیے اپنی دنیا کےدر وا کر دیتی ہیں اور مجھے بتاتی ہیں کہ " تم ہمارے لیے اور ہم تمہارے لیے کافی ہیں۔کسی تیسرے کی ہم دونوں کو ہی ضرورت نہیں۔ "جب کوئی میری موجودگی کو اہمیت نہیں دیتا۔جب میرا ساتھ سب کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے، تو وہ مجھے بتاتی ہیں "تم کتنی اہم ہو ہمارے لیے۔ "جب میں دوسروں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک جاتی ہوں تو ان کی آغوش میرے لیے گھنا سایہ ثابت ہوتی ہیں۔وہ میرے لیے دنیا کے ہر تعلق ہر رشتے سے بالاتر ہیں۔ میری پکی سہیلیاں۔وہ میری ضرورت کے پیش نظر ہر رشتے کا روپ دھار لیتی ہیں کیونکہ جب یہ سارے رشتے ناطے اپنی زندگیوں میں مگن ہو کر مجھے چھوڑ دیتے ہیں نا یہ تب بھی مجھے نہیں چھوڑتیں۔جب رونے کے لیے کوئی کندھا نہیں ملتا، تو وہ کندھا بن جاتی ہیں۔ جن پہ سر رکھ کے میں سارا غبار دل نکال دیتی ہوں۔
جب انسانوں کی اس دنیا کے مسائل سے بےزار آجاتی ہوں تو یہ مجھے ایک اور ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔جہاں ایسے مسائل کا دور دور تک گزر نہیں ہوتا۔
بک شیلف میں پڑی ہر کتاب میری بہترین دوست ہے۔کسی ایک کا موازنہ دوسری سے نہیں کیا جا سکتا۔سب مجھے برابر عزیز ہیں کہ جو بات میں ایک سے کرتی ہوں وہ دوسری سے نہیں کر پاتی۔ ہر کتاب اک اور ہی انداز میں میری غمگسار ہے۔ میری خوشی اورمیرے دکھ کی بہترین ساتھی۔۔۔میری کتابیں!!