دنیا ترقی کر گئی لیکن - نعیم الرحمان

آئے روز سائنس کی ترقی کی خبریں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بنتی رہتی ہیں ۔ خوشی ہوتی ہے کہ انسان کس قدر آگے نکل گیا۔ اس نے دنیا کا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔ سفر میں آسانی اس نے ڈھونڈ لی، اُڑنا اسے آگیا۔ انسان نے یہ ثابت کر دیا کہ کیا ہوا کہ اسے پر نہیں دیے گئے لیکن پھر بھی کون ہے جو اس سے اونچا اُڑ سکے؟ ہر عمل کو اپنے کنٹرول میں کرنا اس نے سیکھ لیا۔ زمین سے نکل کر ستاروں اور سیاروں کا علم اس نے حاصل کر لیا۔ چاند پہ جانے جیسے کٹھن کام کرنے سے بھی نہ گھبرایا۔گھر بیٹھے انٹرنیٹ سے ہر جگہ رسائی تو حیران کر دینے والی بات ہے۔ سب سے اہم چیز کا تذکرہ تو میں بھول ہی گیا کہ یہ انسان اس قدر قابل ہو چکا کہ اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا مکمل پلان ایٹم بم تیار کر کے بنا چکا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہر ملک کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ جاری ہے۔ یہی مقابلہ بڑی بڑی ایجادات کا موجد ہے۔ کہتے ہیں کہ سب سے بڑی ایجاد پہیہ ہے۔ اس پہیے کہ تو کیا کہنے اب یہ پہیہ بنانے والا انسان لا کھڑا کیا جائے تو اس کی جو حالت ہوگی خدا ہی جانے۔ کلوننگ اس نے شروع کر دی جس طریقے سے یہ صرف ایک خلیے کے ڈی این اے سے پورے جاندار کی کاپی تیار کر سکتا ہے۔ جین تھراپی جیسا جدید ترین اور مشکل ترین کام سر انجام دے چکا ہے، جس سے یہ کسی بھی خراب جین کی جگہ زندہ جین ڈال سکتا ہے۔
عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہِ کامل نہ بن جائے

انجم بے چارے اب تو ایک طرف لگ گئے ہوں گے کیوں کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ تو مہِ کامل سے بھی کچھ بڑھ گیا ہے۔ اتنی ترقی انسان نے کی کہ سوچتا ہوں کہ صرف میں ہی کند ذہن ہوں جس کے ذہن میں کوئی نئی ترکیب نہیں آتی، باقی تو ہر کوئی ایجادات کا طوفان کھڑا کیے ہوا ہے۔ اس انسان نے نہ صرف ایجادات کے طوفان کھڑے کیے بلکہ باتوں کے بھی بڑے بڑے پہاڑ بنا ڈالے۔

لیکن اس سب کے باوجود انسان وہیں کا وہیں ہے، یعنی دُنیا تو ترقی کر گئی لیکن انسان ترقی نہ کر سکا۔ انسان میں ترقی کے بجائے انسانیت بھی ختم ہوگئی۔ ٹیکنالوجی میں جو سب سے آگے ہیں، وہ سب سے بڑے حیوان واقع ہوئے ہیں۔ شام و عراق ہو یا کشمیر و افغانستان، ہیرو شیما ہو یا ناگا ساکی، اسی انسان نے انسان کو خون کے آنسو رُلایا۔ پاکستان اور دیگر کئی ممالک کو خون میں نہلا دیا تو انہی انسانوں نے۔ کہتے ہیں کہ انسان محبت کا بھوکا ہے۔ وہ تو جانور بھی اس لیے پالتا ہے کہ جانور اسے محبت دے اور اپنے مالک کو پہچانے، لیکن یہ انسان خود اپنے جیسے انسانوں کو تو محبت دے نہ سکا، نکلا ہے مگر ترقی کرنے۔ ایک طرف سے انسان انسانیت انسانیت کے راگ الاپتا پھرتا ہے دوسری طرف خود ہی انسانیت کا قلع قمع کرنے نکلا ہوا ہے۔ یہی انسان ایک ایسے دین کے نام پہ خود کش حملے کرتا ہے جس دین نے فضول پانی بہانے سے بھی 1400 سال پہلے منع فرما دیا تھا۔

سوچتا ہوں کہ انسان نے کیا خاک ترقی کی ہے، ایسی ترقی کا کیا فائدہ کہ جس سے اندر کی انسانیت ہی ختم ہوگئی۔ ایسی ترقی جس نے انسان کو انسان کا دشمن بنا دیا۔ انسانیت کے راگ الاپنے سے انسانیت لوٹ نہیں آتی بلکہ اس کے لیے دل ہونا ضروری ہے۔ ایسا دل جس میں انسانیت کے لیے محبت و الفت ہو۔ ایسا دل جو انسانیت کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرے نہ کہ ایسا دل جو انسانیت کو مٹا دینا چاہتا ہو، نہ کہ ایسا دل جو ظاہر میں کچھ اور باطن میں کچھ ہو۔ خود کش دھماکے، ملکوں پہ بلاوجہ حملے اور غاصبانہ قبضے اس بات کی دلیل ہیں کہ انسان نے ترقی نہیں تنزلی کا سفر طے کیا۔ یہ سفر ابھی تک جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com