کیا ہم ایب نارمل قوم ہیں؟ - مجیب الحق حقی

جب اس نے کہا کہ "یہ قوم نارمل نہیں ہے" تو مجھے برا لگا۔ جواباً عرض کیا کہ عمومی تبصرہ مناسب نہیں۔ اس نے جواب دیا کہ بھائی یہ جمہوری دور ہے لہٰذا اکثریت کو دیکھ کر ہی تبصرہ ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ایب نارمیلٹی نظر آئی آپ کو؟
میرے اس سوال پر وہ ہنسا اور پھر کہا کہ جناب ہم دنیا بھر سے متضاد طرزعمل رکھتے ہیں اِس لیے یا تو دنیا غلط ہے یا پھر ہم۔ اب دیکھیں کہ دنیا کیا کرتی ہے اور ہم کیا کرتے ہیں؟ دنیا میں ٹریفک دائیں یا بائیں جانب ایک ہی سمت میں چلتا ہے جبکہ ہمارے یہاں ایک ہی سڑک پر دو طرفہ ٹریفک چلتی ہے۔دنیا میں ٹریفک سگنل پر سرخ بتی دیکھ کر ٹریفک رک جاتا ہے اور ہمارا ٹریفک رفتار بڑھا دیتا ہے۔ اب انہیں روکنا ہے تو اس کے لیے چار سپاہی کھڑے ہوتے ہیں۔ترقی یافتہ ملکوں میں بازار صبح کھل کر شام کو بند ہوتے ہیں، ہمارے ہاں دوپہر کے بعد کھل کر رات گئے بند ہوتے ہیں۔جن ممالک کے پاس وافر بجلی ہے ان کی اسٹریٹ لائٹ مدھم ہوتی ہیں اور ہمارے یہاں رات کو دن بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔دنیا بھر میں چھوٹے صارفین کا خیال رکھا جاتا ہے، ہمارے ہاں چار سو کا بل نہ دینے پر بجلی کاٹ دی جاتی ہے البتہ چار لاکھ کا بل نہ دینے پر ایسا نہیں ہوتا۔دنیا میں انہی چیزوں کی صنعتیں لگائی جاتی ہی جن کا خام مال وہاں دستیاب ہو، ہمارے پاس بجلی نہیں لیکن ٹی وی، فرج، اے سی بنانے والے کارخانے موجود ہیں۔ پیٹرول نہیں ہے، سڑکیں تباہ ہیں مگر ہم گاڑیاں بنا بھی رہے ہیں، درآمد بھی کر رہے ہیں اور بنکوےں کے ذریعے اقساط پر بھی بانٹ رہے ہیں۔دنیا میں میرٹ پر ملازمتیں دی جاتی ہیں اور ہم سفارش پر نا اہلوں کوبھرتی کرتے ہیں۔
اس نے میرے سفید پڑتے چہرے پر نظر ڈالی اور پوچھا "اور بتاؤں؟" اس سے پہلے کہ میں اسے جواب دیتا، وہ پھر شروع ہوگیا۔ دنیا میں حکمران قانون کے تابع مگر ہمارا قانون حکمرانوں کے تابع۔دنیا میں بد عنوان لیڈر الزام سامنے آتے ہی کنارے ہوجاتا ہے، ہم سر کا تاج اور گلے کا ہار بناتے ہیں۔ ہمارے یہاں جتنا بڑا بد عنوان ہے وہ اتنا ہی عوام میں مقبول ہے۔ کیا دنیا میں ایسا ہوتا ہے؟ دنیا میں قوانین ملزم اور مجرم کو ایوان میں نہیں آنے دیتے لیکن ہمارے یہاں قانون ہی انہیں ایوان میں بٹھاتا ہے۔ کوئی مجرم اپنے کسی ساتھی کے قاتل ہونے کی گواہی تختہ ٔ دار پر دے کر دنیا سے ہی چلا جائے،ہم اس پر یقین نہیں کرتے۔دنیا میں غنڈے جیل میں ہوتے ہیں ہم ایوانوں میں بھیجتے ہیں۔ دنیا میں صحیح اور غلط کا ایک معیار ہے، مگر ہمارے معیارات اپنے اور مخالف لیڈر کے لیے الگ الگ ہیں۔دنیا کے ریاستی ادارے آئین کے تحت چلتے ہیں، ہمارے ادارے آئین کا دیباچہ ہی بھولے بیٹھے ہیں۔دنیا میں کام زیادہ باتیں کم ہیں ہمارے یہاں باتیں ہی باتیں ہیں کام برائے نام۔
اس نے میری طرف بھر پور نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تو اجتماعی کردار کی جھلک تھی، ذرا انفرادی بھی دیکھ لو۔ترقّی یافتہ ملکوں میں ہر شخص اپنے کام سے کام رکھتا ہے، ہماری صبح شام دوسروں کے معاملات میں دلچسپی سے معمور۔دنیا میں کام کی جگہ پر صرف کام، کام، کام، یہاں کام کی جگہ حتی الامکان آرام۔ گلی کا جمعدار ہفتے میں ایک دن آکر جھاڑو دے کر احسان کرتا ہے اور پھرگھنٹی بجاکر سلامی طلب کرتا ہے۔کچھ اور گنواؤں؟
میں کیا کہتا؟ خاموش رہا۔ وہ بولا "بھائی! خوابوں کی دنیا سے نکلو، حقائق یہی ہیں، اگر میں نے غلط کہا ہے تو مجھے بتاؤ۔" میں خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ گلے میں پھنستی آواز سے بمشکل بس یہی کہہ سکا کہ "بھائی سمندرپر جانے کا راستہ بتلا دو، آج گرمی بہت ہے!"

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.