چھیڑ ’’شیطاں‘‘ سے چلی جائے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

لگ رہا ہے رواں ہفتہ کو بطور ’’ہفتہ سائیکو انالسس ابلیس‘‘ منایا جا رہا ہے. 🙂

سب اپنی رائے دے رہے ہیں .... سوچا، میں کیوں پیچھے رہوں. اتنا حق تو ہے ابلیس کا. آخر کو قدیمی تعلق ہے، تو پھر کیوں نہ :

چھیڑ ’’شیطاں‘‘ سے چلی جائے !

ابلیس کی غلطی یہ تھی کہ اس نے خود کو، خود ہی بہتر و برتر قرار دے لیا. یعنی اس ضمن میں فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑنے کے بجائے صرف ظاہر پر تکیہ کر کے ایک نتیجہ پر جا پہنچا اور وہ اختیار جو صرف اللہ تعالی کے لیے تھا اسے خود استعمال کر بیٹھا.

ظاہر ہے یہ فیصلہ اس کے کرنے کا تھا نہیں کیونکہ غیب اور نیت دونوں کا حال اسے معلوم نہیں تھا.

نتیجہ ہمارے سامنے ہے ... مجلس افلاک سے مستقل چھُٹی!

یہی معاملہ جیسے ہے جہاں ہے کی بنیاد پر ہم سب کو بھی درپیش ہے. خواہ ہم کوئی بھی ہوں، کہیں بھی رہتے ہوں، کچھ بھی نظریہ حیات رکھتے ہوں.

جو اپنا فیصلہ ابلیس کے پیرایہ میں کرتے ہیں وہ اپنی تقدیس اور دوسرے کی تحقیر کی نفسیات کا شکار ہونے لگتے ہیں.

تاہم جو اس بات پر قناعت کر لیتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی حدود میں دراندازی کے مترادف ہے جو ہرگز ہرگز روا نہیں تو ان کے ہاں اپنی نفی اور دوسروں کی خیرخواہی کا جذبہ فروغ پانے لگتا ہے. وہ اللہ کی مزدوری کرتے پھرتے ہیں کہ اس کے بندوں کو معلوم ہو جائے کہ جس کے بندے اتنے مونس و غمخوار ہیں وہ خود کیسا ہوگا. پھر کیوں نہ اسی سے تعلق استوار کیا جائے. اس کی طرف پلٹنا عقلمندی بھی ہے اور درست انتخاب بھی.

تاہم، بحیثیت مسلمان وہ یہ کام اس لیے نہیں کررے کہ وہ "انسان" کو بجائے خود کوئی توپ چیز سمجھتے ہیں. بلکہ اس کی بنیاد صرف اور صرف یہ ہے کہ رب العالمین نے ابن آدم کو تکریم بخشی اور اس کو عزت والا کیا.

ابلیس کے معاملہ میں یہ سبق بھی اہم ہے کہ انسان کی ہتک کرنے والے کا کیسا عبرت ناک انجام ہوا.

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.