ساس، سسرال اور بہو - محمد فہد حارث

ایک بہن نے اعتراض کیا کہ یہ بتائیں کہ ہمارے ہاں کتنے سسرالی ہیں جو بہو یا بھابھی کی صبح سے شام تک کی خدمت کے بدلے میں کبھی تعریف یا شکریہ کے دو بول بھی بولنا گوارا کرتے ہوں؟ ہمارے یہاں بہو کی ذمہ داری میں دیور کو تین وقت کھانا دینا، اور اس کے کپڑے دھونا، استری کرنا جیسی ضروریات کو پورا کرنا بھی شامل ہے. بدقسمتی سے اس عیب یا گناہ میں بہت سے دین دار حضرات اور خاندان بھی مبتلا ہیں. چونکہ ہمارے ہاں سوچ ہی یہی ہے کہ اب بہو گھر میں آ گئی ہے تو دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے بدلے شوہر کے علاوہ اس کے ذمے پورے خاندان کی دیکھ بھال اور خدمت ہے. اگر بہو خدمت میں دن رات ایک کر دے ( جو کہ اکثر عورتیں بلا شک و شبہ کرتی ہی ہیں) تو اسے قدر دانی کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے اس عمل کو اس کا فرض قرار دیا جاتا ہے. اور ذرا سی اونچ نیچ یا کمی بیشی پر اسے اور اس کے پورے خاندان کو لعن طعن کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھا جاتا ہے. اس معاملے میں سب سے بڑی زیادتی اس کے شوہر کی جانب سے دیکھنے میں آتی ہے جو اسے گھر کی ملکہ بنانے کے بجائے گھر کی ملازمہ کا رتبہ دے دیتا ہے. اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے سامنے نمبر بنانے اور یہ بتانے کے لیے کہ اس کا اپنا بیوی پر کتنا رعب ہے، بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ یا اس پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہیں چوکتا. مجھے کوئی اس سوال کا جواب دینا پسند کرے گا کہ کیا بیوی اپنے لیے لائی جاتی ہے یا سب گھر والوں کے لیے؟ مرد حضرات نے عورت کے ساتھ ہندووانہ معاشرے کے زیر اثر جو سلوک کیا ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ بہو سسرال والوں اور ساس کی عزت نہیں کرتی اور ان سے الجھن محسوس کرتی ہے اور یوں گھر کا عائلی نظام برباد ہوکر طلاق تک جا پہنچتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج طلاق کی شرح بہت بڑھ گئی ہے۔

نصیحت:
اس پر میں نے بہن کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے جو وقائع نگاری اور حالات بیان کیے ہیں، ان کے تحت سسرال والوں کی خدمت کرنا تو دور کی بات اگر ایک خاتون خلع کی درخواست بھی دائر کر دے تو یہ بےجا نہ ہوگا، البتہ مستحسن نہیں کہا جاسکتا۔ آپ کی یہ بات بھی بالکل ٹھیک ہے کہ ہمارے معاشرے کے زیادہ تر سسرال اپنی بہوؤں کے لیے ایسے ہی ہیں جیسی منظر کشی آپ نے کی ہے۔ لیکن بات یہی تو ہے کہ سسرالی جو کام کر رہے ہیں، وہ بھی تو اسلامی نہیں اور اس کے ردعمل میں بہو جو کام کر رہی ہے تو لامحالہ وہ بھی اسلام کی نظروں میں مستحسن ہونے سے رہا۔ ایسا کرتے ہیں کہ اس مسئلہ کو دو طرح سے دیکھ لیتے ہیں: پہلے آئیڈیل صورتحال اور دوم اکثر و بیشتر پیش آنے والی صورتحال۔

آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ ساس جب بہو کو بیاہ کر لائے تو اس کو بہو نہیں بیٹی کا درجہ دے اور اس کی خطاؤں پر اس کو ایسے ہی پیار سے سمجھائے جیسا کہ اپنی بیٹی کو سمجھاتی ہے۔ اس کے زیادہ کام کرنے سے اس کے بارے میں ویسے ہی فکرمند ہو جیسا کہ اپنی بیٹی کے زیادہ کام کرنے سے فکرمند ہوجاتی ہے۔ اچھی چیز میں سب کے سامنے اپنی بہو کی تعریف کرے اور بری چیز میں اپنی بہو کو اکیلے میں ٹوکے اور سمجھائے۔ ساس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ میاں بیوی کی لڑائی میں بیٹے کو زیادہ سمجھائے اور تھوڑا بہت بہو کی سائیڈ لے کہ اس وقت بہو کے دل میں ساس کے خلاف اگر کوئی شکوک آنے بھی ہوں تو وہ رفع ہوجائیں۔ اسی طرح سے اپنے بیٹے کو بہو کے سامنے اور پیچھے تنبیہ کیا کرے کہ اپنی بیگم کو باہر اکیلے گھمانے لے جایا کرو اور اگر گھر میں زیادہ مہمان آجائیں تو بہو کے ساتھ خود بھی اس کا ہاتھ بٹانے کھڑی ہوجائے یا پھر اگر گھر میں بیٹی موجود ہے تو اس کو بہو کی مدد کرنے کو بولے۔ ساس اپنے دوسرے لڑکوں کو سختی سے منع کرے کہ تمہاری بھابھی تمہارے لیے نا محرم ہے اس لیے کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا کہ وہ تمہارے کپڑے الگ سے دھوئے یا استری کرے۔ کوشش کرکے یہ کام خود کرو یا ماسی سے کرواؤ یا پھر بہن کو بول دو۔ اب اگر کسی بھی نیک طینیت بہو کو پہلے دن سے ایسی ساس ملے گی تو میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ بہو خودبخود اپنی ساس سے محبت کرنے لگ جائے گی اور اپنے شوہر سے زیادہ اپنے شوہر کی ماں کا خیال رکھے گی۔ اس کو وقت پر کھانا دے گی، اس کے کپڑے استری کرے گی، اور اپنا دکھ سکھ اپنی ساس سے کہے گی اور یوں وہ گھر ایک جنت نظیر ماحول کا نمونہ بن جا ئے گا۔ بعض لوگوں کو ایسا لگے گا کہ میں نے شاید یہاں کوئی خیالی بات کردی ہے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میں نے یہاں جو بھی بات کی ہے، وہ اپنے ذاتی تجربہ سے کی ہے۔ اور یہ ذاتی تجربہ میرے اپنے گھر کا ہے جہاں ہم چار بھائی جوائنٹ فیملی سسٹم میں والدہ کے ساتھ رہتے ہیں اور میں یہ بات برملا کہہ سکتا ہوں کہ ہماری بیگمات ہم بھائیوں سے زیادہ ہماری والدہ کا خیال رکھتی ہیں بلکہ ہم کو اکثر یاد دلا رہی ہوتی ہیں کہ والدہ کے کپڑے بنوانے ہیں، ان کے لیے سونے کی انگوٹھی یا ہار لے لیں، حتیٰ کہ بعض دفعہ ہم بھائی چڑ جاتے ہیں کہ بی بی تم تو اماں کے پیچھے ہمارا دیوالیہ نکلوا دوگی اور پھر اماں کے سامنے ہم لوگ اپنی بیگمات پر غصہ کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ ایسا کرنے پر اماں کی ساری ڈانٹ ہم کو پڑنی ہے۔ کتنی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم کہیں باہر کھانا کھانے جانے کا سوچتے ہیں تو ہماری بیگمات کا اصرار ہوتا ہے کہ اماں کو بھی ساتھ لے چلیں کہ ان کے بغیر مزا نہیں آئے گا جبکہ اماں کا یہ حال ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ یہ بات درست نہیں کہ بہو بیٹے کی پرائیویسی میں مخل ہوکر میں بھی تم لوگوں کے ساتھ باہر جاؤں اور اکثر اوقات وہ منع کردیتی ہیں۔ ہماری بیگمات کی موجودگی میں اماں کبھی ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر نہیں بیٹھیں کہ ان کے اصولوں کے تحت اس سیٹ پر بیگم کا حق ہے جبکہ اس کا شوہر گاڑی ڈرائیو کر رہا ہو۔ المختصر یہ کہ اماں کے حسن اخلاق کی بدولت، ہم بھائیوں سے زیادہ ہماری بیگمات اماں پر نہال و واری ہیں اور خاندان بھر میں ہماری اماں مثالی ساس اور ان کی بہوویں مثالی بہوویں مشہور ہیں۔ اور یہ صرف ہمارے گھر کا حال نہیں، ہمارے منجھلے تایا اور منجھلے ماموں کا گھر بھی یہی نمونہ پیش کرتا ہے۔

سو اس طویل اقتباس سے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور بقول ہماری اماں کے پہلا ہاتھ ساس کا ہونا چاہیے کیونکہ بہو اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک نئے گھر میں آئی ہوتی ہے جہاں کا ماحول اس کے لیے نیا ہوتا ہے۔ اب ذرا مجھے خود بتائیں کہ جہاں ساس ایسی ہوگی وہاں ایک نیک طینیت بہو کیسے نہ بیٹی بن جائے گی۔ ہاں البتہ مجھے یہ ماننے میں قطعی تامل نہیں یہ پہلی صورتحال بہت ہی کم گھروں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اسی صورتحال کو ہی تو عام کرنا ہے اور ایسا درست اسلامی تعلیمات سے ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ بقول ہماری اماں کے کہ جب وہ قرآن ترجمہ سے پڑھتی ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں حقوق العباد سے متعلق وعیدیں پڑھ کر اور یہی چیز ان کے مثبت رویے کا سبب ہے۔ سو اگر گھر کا بڑا اسلامی اصولوں پر عمل کرے گا اور احسان کا معاملہ روا رکھے گا تو گھر کی بہوویں خود آگے بڑھ کر احسان کا بدلا احسان سے اتارنے کی کوشش کریں‌گی۔

اب آجائے دوسری صورتحال کی طرف جو کہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے اور جس کی طرف آپ نے تفصیل سے اشارہ کر دیا ہے اور منطقی دلائل بھی سامنے نکال کر رکھ دیے ہیں۔ سو لامحالہ جس صورتحال کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، اس صورتحال میں اتنے ہی بد نتائج بھی نکلیں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ بد نتائج نکلنے چاہیے اور درحقیقت میں نے اپنے آس پاس ایسے گھرانے دیکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس صورتحال سے نپٹنے کے بھی دو طریقہ ہیں۔ پہلا تو وہی جس کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا ہے یعنی جیسے کو تیسا، جبکہ دوسرا رواداری و عفو و درگزر اور احسان کا۔ پہلا طریقہ آسان لیکن نتائج کے حساب سے بہت اندوہناک جبکہ دوسرا کافی مشکل لیکن دنیوی و اخروی نتائج کی گارنٹی ہے۔ اخروی نتائج کے لیے تو کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ احسان، حسن اخلاق اور رواداری کا اجر سب کو ہی معلوم ہے۔ جہاں تک دنیوی نتائج کی بات ہے تو اس میں پھر دو طر ح کے نتائج نکل سکتے ہیں ایک بد کہ بہو کی ساری زندگی ہی خواری پر متنج ہوجائے اور دوم کہ کچھ عرصہ بعد سسرال والوں کو بہو کے حسن اخلاق کا احساس ہوجائے۔ اور وہ اس کی تعظیم و تحسین کرنے لگ جائیں۔ ورنہ سسرال والوں نے لامحالہ کتنے دن جینا ہے، یہ مشکل بھی آخر کو ختم ہی ہونی ہے۔ اسلام کی نگاہ میں یہی دوسرا طریقہ مطلوب و مستحسن ہے جب تک کہ عورت اس کو نباہ سکے۔ اس طرح سے روز قیامت بہو کا دامن پاک اور سسرال والے تر دامنی لیے حاضر ہوں گے۔

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.