اپریل فول اور اس کی حقیقت ـــ محمد مبین امجد

تہوارمنانا ہر قوم اور ہرمذہب میں رائج ہے۔ تہوار کسی ایسی تقریب کا نام ہوتا ہے جس میں کسی قوم کو اجتماعی طور اچھے راستے پر چلنے کی ترغیب ملے۔ برائیوں کا قلع قمع کرنے کی فکر تازہ ہو جائے۔ اگر ان دو مقاصد میں سے کوئی بھی مقصد کسی تہوار کے منانے میں حاصل نہ ہو تو تہوار کی روح ختم ہوجاتی ہے بلکہ ایسے تہوار کے ذریعے سادہ لوح قوموں کی غلط رہنمائی ہوتی ہے۔ اور کسی بھی قوم کی تہذیب و ثقافت اس قوم کی پہچان ہوتی ہے، اگر وہ اپنی تہذیب سے منھ موڑ کر اغیار کی ثقافت پر عمل پیرا ہوجائے تو اس قوم کی پہچان مٹ جاتی ہے۔ آج مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت اور اخلاق و کردار کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جن غیر اسلامی رسموں کو بڑھ چڑھ کر منایا جا رہا ہے ان میں ایک رسم اپریل فول کی بھی ہے جس نے مسلم قوم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔۔۔

اپریل فول اصل میں ہے کیا۔۔؟ اپریل فول دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بیوقوف بنانے کا تہوار ہے۔ اسکا خاص دن اپریل کی پہلی تاریخ ہے۔ یہ یورپ سے شروع ہوا، پہلے پہلے یہ فرانس اور دیگر مغربی یورپ میں منایا جاتا تھا اور برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوا۔ اس تہوار کی کئی تاریخی اور ثقافتی توجیہات بیان کی جاتی ہیں جن میں دو قابل ذکر ہیں۔۔۔

سولہویں صدی کے آخر تک یعنی 1564 تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔ نئے سال کی آمد پر لوگ تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ فرانس کے بادشاہ نے جب کیلنڈر کی تبدیلی کا حکم دیا کہ نیا سال مارچ کی بجائے جنوری سے شروع ہوا کرے تو غیر ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس تبدیلی کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور یکم اپریل کو ہی نئے سال کی تقریبات مناتے رہے اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی جاری رہا۔ اسی بنا پر ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا جنھیں اس تبدیلی کا علم تھا۔ اور انھیں اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ روایت بن گیا اور اب دنیا بھر میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئی تو - محمد عرفان ندیم

جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا ، تو مسلمانوں کا اتنا خون بہایا گیا کہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے ، تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں۔ چنانچہ جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے، اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لیے ۔ اب بظاہر اسپین میں کوئی بھی مسلمان نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔

مگر عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں۔ چنانچہ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہو جائیں ، تا کہ انہیں ان ممالک میں بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔ اب چونکہ ملک میں امن قائم ہو چکا تھا، اور مسلمانوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اس لیے مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ یکم اپریل کے دن تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھایا گیا ۔ مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے بڑی تکلیف ہو رہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان بچ گئی ۔ عیسائی جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چل دئیے۔ ان مسلمانوں میں بوڑھے ، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی مریض بھی تھے ۔ جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے ، تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا ، اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابدی نیند سو گئے۔ اس کے بعد اسپین بھر میں جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بےوقوف بنایا ۔ پھر یہ دن اسپین کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا ۔

واللہ اعلم اب حقیقت کیا ہے۔۔؟ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اپریل فول کا کسی بھی لحاظ سے مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس طرح جھوٹ بول کر لوگوں کو تکلیف دینا مسلم معاشرے کا بھی ایک لازم حصہ بن چکا ہے ، اور مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی پر خوشی کا دن مناتے ہیں ۔ اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو فول بنا بنا کر ان کو مصیبت و پریشانی میں ڈالتے ہیں ۔ اور اس رسم بد کے نقصانات سے صرف نظر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کوئی تو - محمد عرفان ندیم

اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا: لعنت اللہ علی الکٰذ بین ۃ یعنی جھوٹوں پہ اللہ کی لعنت ہے۔ اسی طرح پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ " مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کی تکلیف سے دوسرے محفوظ رہیں"۔ گویا پتہ چلا کہ جھوٹ بولنا اسلام میں صریحاً گناہ ہے چہ جائیکہ کفار کی مشابہت میں ان کے تہوار مناتے ہوئے جھوٹ بولا جائے۔ یاد رکھیے جو قوم دوسروں کے پیچھے پڑ کر اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے لوگوں سے نفرت کرتی ہے وہ بہت جلد زوال پذیر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسی فضول رسومات جن کی ہمارے مذہب اور معاشرے میں کوئی اہمیت نہیں، کو اپنا کر محض کچھ دیر کی تفریح اور شوق کی تسکین کی خاطر دوسروں کی دل آزاری، پریشانی اور زحمت کا سبب نہ بنیں۔ اگرہم دوسروں کی خوشی کا باعث نہیں بن سکتے تو کم از کم ہمیں دوسروں کی تکلیف کا باعث بھی نہیں بننا چاہیے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس فضول رسم کو مزید پھیلنے سے روکیں نیز اس کی حوصلہ شکنی کریں۔

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.