محلے کی ایکٹریس اور منافقت - سید معظم معین

اگر محلے کی کسی بہو بیٹی متعلق آپ کو پتا چلے کہ وہ غیر مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہے، اور نہ صرف اٹھتی بیٹھتی ہے بلکہ مردوں سے بغل گیر بھی ہوتی ہے، اور تو اور، کبھی کبھار بوس و کنار والا معاملہ بھی ہو جاتا ہے تو آپ کے اس خاتون کے متعلق کیا نظریات ہوں گے؟؟

ٹھہریں!
اگر آپ ایک شریف النفس قسم کے آدمی ہیں تو اوّل تو آپ کسی باعزت خاتون کے متعلق ایسی افواہ پر یقین کرنے ہی سے انکار کر دیں گے۔ لیکن اگر اتفاق سے آپ خود کبھی ایسا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، جس میں وہ عفیفہ بڑھ چڑھ کر کسی غیر کو اپنا آپ پیش کر رہی ہو اور ہر ہر طرح سے نہال ہو رہی ہو، تو کیا پھر بھی آپ اپنے آپ کو اس عفیفہ کے دلی احترام پر مجبور پائیں گے جس نے خود اپنی عزت کو کسی غیر کے حوالے کیا ہوگا۔ کیا دکھ اور کرب کا کوئی اثر آپ کے دل کو چھو کر نہیں گزرے گا؟

اگر آپ کچھ محسوس نہیں کرتے تو بے فکر ہو جائیے، آپ ایک فرض شناس اور کامل ’’لبرل‘‘ کے مقام پر فائز ہو چکے ہیں، آپ ترقی پسند، روشن خیال، ندرت خیال بلاہ بلاہ قسم کے عالی دماغ شخص ہیں۔ آپ وہ فرد ہیں جو ستاروں پر کمندیں ڈال سکتا ہے اور چاند کے پھیرے لگا سکتا ہے۔ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے، کچھ بھی کر سکتا ہے۔

لیکن اگر بدقسمتی سے دکھ اور کرب آپ کے دل میں گھر کر لیتا ہے اور آپ افسوس اور بوجھل پن کے اثرات اپنے اندر موجزن پاتے ہیں تو ٹھہر جائیے۔ اس لبرل کلاس کے خیال میں آپ ایک دقیانوسی اور قدامت پرست انسان واقع ہوئے ہیں۔ آپ کو فورا اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ آپ تاریک دور کے وہ فرد ہیں جو نہ ترقی کرنا چاہتا ہے اور نہ دنیا کی سہولتوں اور آسائشوں سے مستفید ہونا چاہتا ہے. آپ وہ شخص ہیں جو پتھر اور مٹی کے زمانے میں جینا چاہتا ہے۔ آپ چاند پر جا سکتے ہیں نہ مریخ کی آب و ہوا کا مزہ لے سکتے ہیں۔

اس کے بعد اگر خدانخواستہ کہیں غیرت و حمیت کے جذبات آپ میں بھڑک اٹھتے ہیں تو پھر طبقہ لبرلز کے نزدیک بلا شک و شبہ آپ ایک ’’دہشت گرد‘‘ ہیں جس کا علاج صرف اور صرف ’’وار آن ٹیرر‘‘ قسم کا کوئی عمل ہے۔

اسی مثال کو محلے کے کسی مرد پر منطبق کر کے بھی اپنے دل کی کیفیت کو ٹٹولا جا سکتا ہے۔ ایسا مرد جو غیر اور نامحرم عورتوں کے ساتھ وہی افعال سر انجام دیتا ہو جو اوپر بیان کیے گئے ہیں تو آپ ایسے مرد کے متعلق کیا محسوس کریں گے؟ کیا آپ اپنے بچوں کو ایسے شخص کی صحبت میں بیٹھنے کی اجازت دیں گے؟

اگر آپ اپنے معاشرے میں اس مثال کو تصور میں لائیں تو ہمارے ٹی وی دیکھنے والے کروڑوں یا لاکھوں لوگ فلمی اور شوبز کے ’ستاروں‘ کو اپنا آئیڈیل اور رہنما سمجھتے ہیں۔ اور ان میں سے متعدد ستارے وہی ہوتے ہیں جو مندرجہ بالا افعال علی الاعلان دنیا کے سامنے سر انجام دیتے ہیں۔ مرد ہوں یا عورت، ہیرو یا ہیروئن کا کردار ادا کرتے ہوئے ایسے ہی افعال فخریہ ہر پکچر میں سر انجام دیے جاتے ہیں اور بر سرعام دیے جاتے ہیں۔ مگر ان کو ہم برا نہیں بلکہ اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔ کوئی باعزت خاتون غیر مرد کے ساتھ کیمرے کے سامنے بوس و کنار کرے تو کیا وہ باعزت رہ جائے گی؟ محلے کی خاتون یا مرد کو برا سمجھنے والے ٹی وی پر وہی کام کرنے والوں کو اچھا سمجھتے ہیں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟ کیا یہ منافقت نہیں؟ اگر ہے تو یہی وجہ ہے ہمیں ہر جگہ سے پھینٹی پڑنے کی۔
یہی منافقت وجہ ہے!

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.